• سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان ٹائیفون جنگی طیاروں کے معاہدے پر شدید ردعمل

سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے دورہ لندن کے موقع پر دونوں ملکوں نے 48 ٹائیفون جنگی طیاروں کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں، جس کے خلاف برطانیہ کے اندر اور باہر بھی ذرائع ابلاغ اور سیاسی حلقوں نے وسیع ردعمل ظاہر کیا ہے۔

سعودی ولیعہد کا دورہ لندن، کہ جس کے خلاف برطانوی شہریوں کے ساتھ ساتھ سیاسی جماعتوں نے بھی پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر شدید احتجاج کیا تھا، 48 ٹائیفون جنگی طیاروں  کی خریداری کے معاہدے کے ساتھ ہی ختم ہوگیا۔ برطانوی حکومت نے اس معاہدے پر دستخط کرنے کے ساتھ ہی اپنے انسان دوستانہ جھوٹے دعووں کی ماہیت کو مزید آشکارہ کردیا ہے۔ سعودی عرب کی ف‍ضائیہ کے پاس اس قسم کے 72 لڑاکا طیارے موجود ہیں اور یمن کی بمباری میں بھی سعودی عرب ان طیاروں کو بہت زیادہ استعمال کر رہا ہے۔

 واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ اور بعض عرب ملکوں منجملہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کی حمایت سے، یمن میں مستعفی و مفرور صدر، منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے  چھبّیس مارچ 2015  سے جارحانہ حملے شروع کئے ہیں جن میں اب تک ہزاروں یمنی شہری شہید و زخمی ہو چکے ہیں جبکہ اس ملک کی بنیادی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا جن میں ہسپتال اور طبی و تعلیمی مراکز بھی شامل ہیں۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ذریعے یمن کا شدید ترین محاصرہ جاری رہنے کے سبب لاکھوں یمنی شہری بھوک مری۔ قحط اور دواؤں کی قلت کی وجہ سے موت کے خطرے سے دوچار ہیں- 

یمن کی انتیس ملین کی آبادی والے اس غریب عرب ملک میں بائیس ملین افراد تدریجی موت مر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ  نے یمن میں بڑا انسانی المیہ رونما ہونے کی خبر دی ہے۔ وبا جیسی بیماری یمنی عوام کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ یمن کے تقریبا  دس لاکھ افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں۔  ان تمام انتباہات کے باوجود مغربی حکومتیں، منجملہ برطانیہ بدستور سعودی عرب کو اپنے ہتھیار فروخت کر رہا ہے کیوں کہ یہ ممالک سعودی عرب کو اپنا اسٹریٹیجک اتحادی سمجھتے ہیں کہ جو علاقے میں مغربی حکومتوں کی پالیسیوں  کو عملی جامہ پہنانے کے ساتھ ہی لاکھوں افراد کو امریکہ اور یورپ کے ہتھیار بنانے والے کارخانوں میں روزگار فراہم کر رہا ہے۔ یمن پر سعودی لڑاکا طیاروں کے حملے اس قدر دلخراش اور دل ہلادینے والے ہیں کہ جس نے  مغرب میں بھی بہت سے افراد کو، یمن کو ہتھیار فروخت کرنے کی اپنی حکومت کی پالیسی کے خلاف ردعمل پر مجبور کردیا ہے۔ 

اخبار گارڈین نے لکھا ہے کہ برطانیہ کی وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ ایک جارح  اور غیر جمہوری حکومت کے ڈکٹیٹر، عجلت پسند جوان رہنما کا بے شرمی سے احترام کرنا بند کریں۔ لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربین نے 48  ٹائیفون لڑاکا طیاروں کی فروخت کے معاہدے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، برطانوی حکومت پر، یمن کے خلاف سعودی اتحاد کے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سعودی عرب کے ہاتھوں برطانوی ٹائیفون جنگی طیاروں کی فروخت پر برطانوی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سودے کا مطلب یمن کے بحران کی آگ پر پٹرول ڈالنا ہے۔ ہتھیاروں  کی تجارت کے خلاف کمپیئن چلانے والے ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب برطانوی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے- انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بارہا امریکا اور برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت بند کر دے-

دوسری جانب یمن کی وزارت خارجہ نے بھی سعودی عرب کو برطانوی جنگی طیاروں کی فروخت کے سودے پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے یہ بات صاف ہو گئی ہے کہ یمن پر جارحیت کے لئے آل سعود کو برطانیہ کی حمایت حاصل ہے- یمن کی وزارت خارجہ کے ایک سینیئرعہدیدار نے اپنے ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ریاض کو برطانوی جنگی طیاروں کی فروخت سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یمن کی بحرانی صورت حال کے بارے میں برطانوی حکومت کا دعوی محض ایک تشہیراتی ہتھکنڈہ ہے- یمنی وزارت خارجہ کے عہدیدار نے برطانوی حکومت سے کہا کہ وہ اپنے اس اقدام پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے برطانوی پارلیمنٹ سے بھی کہا کہ وہ سعودی عرب کے ہاتھوں ٹائیفون جنگی طیاروں کی فروخت کو روکنے کے لئے اپنے انسانی فریضے پر عمل کرے- مذکورہ یمنی عہدیدار نے کہا کہ برطانیہ کے ٹا‏ئیفون جنگی طیاروں کے ذریعے سعودی عرب یمن کے مزید بے گناہ شہریوں کا خون بہائے گا۔

ٹیگس

Mar ۱۱, ۲۰۱۸ ۱۶:۴۹ Asia/Tehran
کمنٹس