• ایران کے وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان، باہمی تعلقات کے فروغ کی جانب نیا قدم

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ اتوار کو تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف اپنے اس دورے میں اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے علاوہ، وزیر اعظم، وزیر داخلہ ، پارلیمنٹ اسپیکر اور اس ملک کی مسلح افواج کے کمانڈر سے بھی ملاقاتیں کریں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعلقات کے فروغ کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں گے۔ جواد ظریف کے دورۂ پاکستان میں، تیس افراد پر مشتمل ایک تجارتی وفد بھی ان کے ہمراہ ہے جس سے اس دورے میں اقتصادی اہداف پر خصوصی توجہ کی غمازی ہوتی ہے۔ ہندوستان کے دورے کے کچھ ہی دنوں بعد ایران کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان، دو طرفہ اور علاقائی مفادات اور ضرورتوں کی بنیاد پر اسلام آباد اور نئی دہلی کے ساتھ تعلقات کے فروغ میں ایران کے متوازن نقطہ نگاہ کی علامت ہے۔

ان تعلقات کی اہمیت کو توانائی کے شعبے میں اور اسی طرح علاقائی سطح پر دوطرفہ اور چند جانبہ تجارتی و اقتصادی تعلقات کی توسیع میں درک کیا جا سکتا ہے۔ ایران نے اسی طرح دہشت گردی سے مقابلے میں موثر کردار ادا کیا ہے۔ یہی وہ مسائل ہیں کہ جن میں تہران، پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعاون کے لئے کسی محدودیت کا قائل نہیں ہے۔ چنانچہ ان ہی مسائل کے پیش نظر پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گذشتہ سال نومبر میں اور اسی طرح وزیر خارجہ خواجہ آصف نے ستمبر کے مہینے میں تہران کا دورہ کیا تھا۔ 

ایران کی پاکستان کے ساتھ مشترکہ سرحد نو سو کیلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس بناء پر دہشت گردی سے مقابلے اور دونوں ملکوں کی مشترکہ سرحدوں پر سلامتی کو بہتر بنانے کے لئے باہمی تعاون، ایک ناگزیر امر ہے۔ انتہا پسند عناصر کی سرگرمیاں، کہ جو امریکہ اور علاقے کے بعض ملکوں کی حمایت سے، علاقے میں امن و استحکام کو درھم برھم کرنے کے درپےہیں، علاقے کے ملکوں کے حق میں نہیں ہیں۔ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ میجرجنرل محمد باقری مغربی ایشیاء کے علاقے مین امن و سلامتی کےتحفظ کی اہمیت کے بارے میں کہتے ہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے کاندھوں پر دھمکیوں اور خطرات کے مقابلے میں اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس کا خیال ہے کہ امن کے قیام کے لئے سب سے مطمئن راستہ، علاقے کے ملکوں کے درمیان باہمی تعاون اور دوطرفہ گنجائشوں سے استفادہ کرنا ہے۔ اسی تناظر میں افغانستان کے مسئلے کو حل کرنا بھی ایک اہم موضوع ہے کہ جس کے لئے ایران و پاکستان کے علاقائی تعاون کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

اسلام آباد انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے سربراہ اور ایران میں پاکستان کے سابق سفیر خالد محمود، افغانستان کے بحران کے حل میں ایران و پاکستان کے کردار کے بارے میں کہتے ہیں: ایران اور پاکستان موجودہ حالات میں، افغانستان کے بحران کے حل کے سلسلے میں یکساں نقطہ نگاہ رکھتے ہیں اور یہ نقطہ نگاہ قابل ستائش ہے۔ اس سلسلے میں گذشتہ سال نومبر کے مہینے میں، تہران اور اسلام آباد کے درمیان مذاکرات انجام پائے تھے۔ ایران کے سیاسی تجزیہ نگار سعداللہ زارعی کا خیال ہے کہ ایران اور پاکستان دو پڑوسی ملک کی حیثیت سے علاقائی تعاون میں توسیع کے ذریعے علاقے میں سلامتی کے قیام میں ماضی سے زیادہ اقدامات عمل میں لاسکتے ہیں۔

جواد ظریف کا دورہ پاکستان اسی سلسلے میں ایک اور قدم ہے کہ جو یقینی طور پر ، دونوں ملکوں  کے تعلقات کو مستحکم کرنے اور اس کی توسیع کی راہ میں اچھے نتائج کا حامل ہوگا۔

ٹیگس

Mar ۱۱, ۲۰۱۸ ۱۶:۵۰ Asia/Tehran
کمنٹس