• سید حسن نصراللہ کے نقطہ نگاہ سے شام کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے نتائج

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے گذشتہ روز پندرہ اپریل کو امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے حملے کے نتائج اور اہداف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شام کی صورتحال امریکہ اور اسرائیل کے حق میں تبدیل نہیں ہوگی۔

اتوار کی شب بقا کے علاقے میں ویڈیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ شام کی صورتحال کو امریکہ اور اسرائیل کے حق میں تبدیل کرنے کا خواب دیکھنے والے، احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ اسرائیل نے شام میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نئی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی ہے جسے شامی حکومت کے تعاون سے ناکام بنادیا جائے گا۔ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ او پی سی ڈبلیو کے معائنہ کاروں کے دوما پہنچنے اور کیمیائی حملے کی تحقیقات سے قبل ہی شام پر امریکی حملہ ، پیشگی حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور فرانس کو معلوم تھا کہ دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ایک ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں ہے اسی لئے انہوں نے عجلت میں شام پر حملہ کردیا۔ واضح رہے کہ امریکہ ، برطانیہ اور فرانس نے شامی حکومت کے توسط سے اس ملک کے شہر دوما میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا دعوی کرتے ہوئے ہفتے کی صبح کو شام پر حملہ کیا تھا- 

سید حس نصراللہ کا خیال ہے کہ جب کبھی شام میں اس ملک کی فوج اور عوام کو کوئی اہم کامیابی حاصل ہوتی ہے تو مغربی حلقے حکومت کے توسط سے کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا ڈھونگ رچانے لگتے ہیں۔ اور ممکن ہے کہ آئندہ بھی وہ ایسے ہی ڈھونگ رچائیں۔ موجودہ  حالات میں اہم ترین کامیابی بھی مشرقی غوطہ کی آزادی کی کاروائی کا اختتام تھا جس کے باعث دمشق کے اطراف میں دہشت گردوں کاصفایا ہوگیا اور دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی فوج اور اس کےاتحادیوں کو ایک اور بڑی کامیابی نصیب ہوئی۔ اس بناء پر حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ شام کی صورتحال کو امریکہ اور اسرائیل کے حق میں تبدیل کرنا ،شام پر حملے کے اہم ترین اہداف میں سے ایک ہے۔ دہشت گردوں کے مقابلے میں شامی فوج اور عوامی رضاکاروں کی مسلسل کامیابیوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ شام کی حکومت کا تختہ پلٹنے کے لئے دہشت گرد گروہوں کو استعمال کرنے کی مغربی ملکوں کی سازش نہ صرف ناکامی سے دوچار ہوئی ہے بلکہ سیاسی مذاکرات میں شام کی حکومت کی پوزیشن بھی مضبوط  ہوئی ہے۔ بلاشبہ دہشت گردوں کے قبضے سے یکے بعد دیگرے شہروں اور مختلف علاقوں کو آزاد کرانے کے نتیجے میں، شام کی حکومت اور اس کے اتحادی ملکوں پر شامی عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ سید حسن نصراللہ کا خیال ہے کہ شام پر امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے حملے نے اس ملک کے عوام کے جذبات کو نشانہ بنایا تھا اور ان ملکوں کا مقصد شامی عوام کے جذبات کو کمزور کرنا تھا۔ 

حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل نے اپنے خطاب میں شام پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے اس سلسلے میں دو اہم نتائج بیان کئے۔ شامی فوج کے اینٹی ایئر کرافٹ کے ذریعے زیادہ تر میزائلوں کو مارگرائے جانے سے غیرملکی یلغار اور حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے، شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کی صلاحیتوں پر ، عوام کے اعتماد اور بھروسے  میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اسے تقویت ملی ہے۔ درحقیقت اس ملک کی حکومت اور اس کے اتحادیوں پر شامی عوام کے اعتماد کا مستحکم ہونا بھی، سید حسن نصراللہ کے نقطہ نگاہ سے شام پر امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کے حملے کی ایک وجہ تھی-

سید حسن نصراللہ کے نقطہ نگاہ سے شام پر حملے کی ایک اور وجہ شام کے بحران کے حل کے لئے سیاسی عمل کا مزید پیچیدہ ہوجانا ہے۔ 2017 میں شام میں دہشت گردوں کو ملنے والی مسلسل ناکامیوں کے ساتھ ہی شام کے مستقبل کے بارے میں سیاسی مذاکرات بھی انجام پائے جن میں آستانہ مذاکرات، جنیوا اور سوچی مذاکرات قابل ذکر ہیں۔ درحقیقت آستانہ مذاکرات اور سوچی مذاکرات شام کے بارے میں روس کی جدت عمل ہے کہ جس کی ایران اور ترکی نے بھی حمایت کی ہے لیکن جنیوا مذاکرات ان کوششوں کا تسلسل ہے کہ جو اقوام متحدہ کی نگرانی میں انجام پایا ہے یہ ایسے میں ہے کہ آستانہ اور سوچی مذاکرات میں شام کے بحران کے حوالے سے اہم نتائج حاصل ہوئے ہیں جبکہ جنیوا مذاکرات بے نتیجہ رہا- 

حسن نصراللہ نے شام پر حملے کے بارے میں یہ بھی کہا کہ یہ حملے صرف پچاس منٹ تک جاری رہے لیکن ان حملوں نے ہر چیز سے زیادہ، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو، مزاحمت و استقامت کے محور کی طاقت کے اعتراف پر مجبور کردیا ۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام پر حملے سے قبل اس حملے کو بہت اہم ظاہر کرنے اور شام کی حکومت اور مزاحمت کے محور کے خلاف اپنی تخریبی طاقت کو ظاہر کرنے  کی کافی زیادہ کوشش کی لیکن وہ چیز جو عملی طور پرظاہر ہوئی وہ ہر چیز سے زیادہ شام پر حملہ کرنے والے تینوں ملکوں کی شکست تھی کہ جس کا مغربی ذرائع ابلاغ نے بھی اعتراف کیا ہے چنانچہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ شام پر حملے سے جتنا زیادہ نقصان اس ملک کو نہیں پہنچا اس سے کہیں زیادہ عالمی سطح پر امریکی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔              

 

Apr ۱۶, ۲۰۱۸ ۱۹:۰۷ Asia/Tehran
کمنٹس