• ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی کا دورہ ویتنام اور سری لنکا

ایران کی پارلیمنٹ، مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے ایک اعلی سطحی پارلیمانی اور سیاسی وفد کے ہمراہ ویتنام اور سری لنکا کا دورہ کیا ہے- اس دورے میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں توسیع اور دوجانبہ سمجھوتوں پر عملدرآمد میں تیزی لانا اہمیت کا حامل ہے-

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ویتنام کی نیشنل اسمبلی کی چیئرمین نے پیر کی رات کو ہنوئی میں ایک ملاقات میں  باہمی تعلقات کو فروغ دینے اور دونوں ملکوں کے تجارتی، ثقافتی، سیاحتی اور تعلیمی شعبوں کے تعلقات میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے طریقوں پر بات چیت کی۔ 

ڈاکٹر لاریجانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ امید کی جاتی ہےکہ ایران اور ویتنام کے تجارتی تعلقات مدنظر سطح تک پہنچ جائیں گے کہا کہ ویتنام کی قوم کا ایران میں احترام ہے اور آزادی و خودمختاری کے لئے ویتنام کے عوام کی جدوجہد، ہمیشہ ایرانی قوم کے ذہنوں میں باقی رہے گی-

ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے پیر کو ہنوئی میں ویتنام کی نیشنل اسمبلی کی چیئرمین نوین ٹی کیم نان سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویتنام کے ساتھ ایران کے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ہی ملکوں کو چاہئے کہ ان تعلقات کو مختلف شعبوں میں زیادہ سے زیادہ فروغ دیں-

ڈاکٹر علی لاریجانی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دونوں ممالک کے نظریات اور موقف بہت سے مسائل میں ایک جیسے ہیں، کہا کہ ویتنام نے طویل جدوجہد آزادی کے بعد خود مختاری حاصل کی ہے اسی لئے آج میں نے ویتنام کی تحریک آزادی کے رہنما ہوشی مین کے مقبرے پر حاضری دے کر انہیں خراج عقیدت پیش کیا-

ویتنام کی نیشنل اسمبلی کی چیئرمین نوین ٹی کیم نان نے بھی نامہ نگاروں سے گفتگو کے دوران کہا کہ ویتنام نے ہمیشہ ایران کے عوام اور حکومت کی حمایت کی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے تعاون میں توسیع کا عمل تیز ہو گا-

ویتنام میں گذشتہ برسوں کے دوران اقتصادی شعبے میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور یہ ملک مشرقی ایشیاء کے علاقے میں ایران کی اقتصادی سرگرمیوں کی توسیع کا ایک مرکز قرار پا سکتا ہے- ایشیاء میں معاشی ترقی، توانائی کے شدید مطالبے کے ہمراہ ہے اور اسی سبب سے دنیا میں توانائی کے مطالبے میں سب سے زیادہ مطالبہ ایشیاء میں ہو رہا ہے۔ ایران بھی ایشیاء میں انرجی فراہم کرنے والا ایک اہم ملک ہے- ایران کو ایشیاء ، اور یورپ و افریقہ کے ملکوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت سے جانا جاتا ہے اورایران کے شمالی ملکوں اور خلیج فارس کے ملکوں کے درمیان ایران کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جغرافیائی صورتحال کے علاوہ ایران ، مغربی ایشیاء کی سب سے بڑی منڈی کے طور پر ایشیائی ملکوں منجملہ مشرقی اور جنوب مشرقی ملکوں کے لئے پرکشش منڈی ہوسکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اسی طرح دوہزار چار سے ایشیائی تعاون ڈائیلاگ اے سی ڈی کا رکن بھی بن چکا ہے- اے سی ڈی میں ایشیاء کے چونتیس ممالک رکن ہیں اور ان ملکوں کے حکام اور دانشور، باہمی تعاون کے ذریعے ایشیاء کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی غرض سے حکمت عملی طے کرنے کے لئے تبادلۂ خیال کرتے ہیں-

سیاسی لحاظ سے بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایشیائی ممالک دنیا کے ایک اہم سیاسی مرکز میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کا دورۂ ویتنام اور سری لنکا، موجودہ حالات میں سیاسی تبادلۂ خیال کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے - اسی دائرے میں ایران اور ویتنام کے حکام نے اپنے مذاکرات میں ایشیا میں امن و استحکام کی تقویت پر تاکید کی ہے۔ تہران اور ہنوئی جنگ ، دہشت گردی اور تشدد کی مخالفت کرتے ہوئے مذکرات کو اختلافات کی بہترین راہ حل قرار دیتے ہیں اور عالمی اداروں میں ایک دوسرے کے مواقف کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔  

 

 

 

  

 

Apr ۱۷, ۲۰۱۸ ۱۸:۵۹ Asia/Tehran
کمنٹس