• شام کے مسئلے پر امریکہ میں اختلافات، مزید گہرے

شام پر امریکہ کے حملے سے اٹھنے والا گرد و غبار ذرا تھمنے کے بعد شام کے مسئلے پر امریکہ میں اختلاف نظر نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔

روزنامہ نیویارک ٹائمز نے شام پر حملے کے بارے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیردفاع جیمزمیٹس کے درمیان اختلاف نظر کی خبر دی ہے اور وکس نیوز نے بھی لکھا ہے کہ امریکی وزیردفاع جیمز میٹس اور امریکی حکومت کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کے درمیان بھی شام کے خلاف حملوں کی شدت پر اختلافات تھے یہ ایسی حالت میں ہے کہ اقتصادی امور میں صدرٹرمپ کے مشیر لیری کیڈلو اور اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نیکی ہیلی کے درمیان بھی توتو میں میں ہوئی ہے-

اس وقت شام پر میزائلی حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے والے اصلی افراد حملے سے پیدا ہونے والے مسئلے میں اپنے کردار کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹہرا رہے ہیں اگرچہ گذشتہ ہفتے امریکہ نے شام کے مختلف علاقوں پر تقریبا سو میزائل فائر کئے اور اس کا مقصد دوما کے علاقے پرجعلی کیمیاوی حملے کا جواب دینا بتایا تھا لیکن حملے سے پہلے امریکیوں کی جانب سے کئے جانے والے پروپیگنڈوں کے باوجود گزشتہ سنیچر کو انجام پانے والی کارروائیوں سے واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کو سیاسی و فوجی کامیابی حاصل نہیں ہوئی-

رابین رائٹ نے نیویارک میں شام پر امریکہ کے میزائلی حملے کے ناکام ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں فوجی توازن یا جنگ میں تبدیلی کے لئے کچھ زیادہ نہیں کیا جا سکتا- 

اجازت کے بغیر حملے کے سلسلے میں پہلا مسئلہ سامنے آگیا ہے- شام پر میزائلی حملہ نہ ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت سے ہوا ہے اور نہ ہی کانگریس نے اس کی توثیق کی تھی جبکہ اقوام متحدہ کے رکن کسی ملک پر کسی طرح کے حملے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت درکارہوتی ہے اور امریکی صدر کے لئے بھی آئین اور اختیارات جنگ سے متعلق قانون کی بنیاد پر ہرطرح کے فوجی اقدام سے پہلے کانگریس سے اجازت لینا ضروری ہے-

دوسرا مسئلہ شام پر حملوں کی شدت کا ہے- یہ حملے کہ جن سے امریکی حکومت کو بھاری سیاسی قیمت چکانی پڑرہی ہے کسی بھی طرح شام میں باغیوں کے مفاد میں فوجی توازن میں موثر نہیں ہو پائے ہیں- دوسرے لفظوں میں یہ اقدام، شام کی جنگ کا انجام اس ملک کی حکومت کے نقصان میں رقم کرنے کے بجائے شام کے دشمنوں کی شکست اور امریکہ کی جانب سے دمشق کے خلاف کوئی بڑا اقدام کرنے کی بابت مایوسی کا سبب بنا ہے-

باغی گروہوں کو ٹرمپ کی باربار کی دھمیکوں کے پیش نظر کسی بڑے اور موثرحملے کی توقع تھی جبکہ اس اقدام سے شامی فوج کا کوئی فوجی تک ہلاک نہیں ہوا- اس سے ثابت ہوگیا کہ امریکہ ، شام میں سات سالہ جنگ میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا-یہاں تک کہ امریکہ، روس کے خلاف کہ جسے وہ شامی حکومت کا اصلی حامی سمجھتا ہے، سخت ردعمل ظاہر کرنے میں بھی ناکام رہا ہے-

امریکیوں کے حملے میں باغیوں کی توقع کے برخلاف شام میں روس کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا اورنیویارک ٹائمز کے بقول ڈونالڈٹرمپ نے آخری لمحات میں ماسکو کے خلاف نئی پابندیاں نافذ ہونے سے روک دیا - اس طرح کی ناکامیوں اور امریکہ کے سیاسی و فوجی اداروں کے درمیان پائے جانے والے گہرے اختلاف نظر کے پیش نظر یہ توقع تھی کہ واشنگٹن ، شام کی جنگ کے سلسلے میں موثر اور جامع اسٹریٹیجی اختیار کرنے کی توانائی نہیں رکھتا اور یہ ایسا موضوع ہے کہ جس نے اس وقت مغربی ایشیا کے علاقے میں واشنگٹن کے سیاسی اتحادیوں اور داخلی جنگ پسند ٹولے کے درمیان شدید تشویش پیدا کردی ہے- 

ٹیگس

Apr ۱۸, ۲۰۱۸ ۱۶:۴۱ Asia/Tehran
کمنٹس