• پیٹر فورڈ : بحرین، امریکہ اور سعودی عرب کی کالونی ہے

شام میں برطانیہ کے سابق سفیر نے کہا ہے کہ بحرین میں 2011 سے احتجاجی تحریک شروع ہونے کے وقت سے ہی یہ ملک سعودی عرب اور امریکہ کی کالونی بن گیا ہے-

 لبنانی ذرائع ابلاغ کےساتھ انٹرویو میں ’’پیٹر فورڈ‘‘نے کہا کہ 2011ء میں انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد سے ہی بحرین ، امریکہ اورسعودی عرب کی سامراجی کالونی میں تبدیل ہوچکا ہے۔ انہوں نے اسرائیل اورآل خلیفہ حکام کے درمیان بڑھتی قریبی دوستی کو افسوسناک قراردیتے ہوئے کہا کہ بحرینی وزیر خارجہ خالد بن احمد الخلیفہ کا یہ بیان کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا بھرپور حق حاصل ہے، باعث حیرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک عرصے سے بحرین کے فلسطین مخالف اقدامات کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 2011ء میں انقلابی تحریک کے بعد آل خلیفہ شاہی خاندان نے ایران کے خلاف اسرائیل کےساتھ اپنے اتحاد کو مضبوط کیا ہے۔

بحرین میں چودہ فروری 2011 سے، اس ملک کے عوام کے خلاف آل خلیفہ کے شدید حملوں کا دنیا مشاہدہ کر رہی ہے- آل خلیفہ حکومت نے عوامی مظاہروں کو کچلنے کے لئے سعودی عرب ، صیہونی حکومت اور امریکہ سے مدد حاصل کی ہے- سعودی عرب نہ صرف بحرینی مخالفین کے ساتھ  آل خلیفہ حکومت کے مذاکرات کا مخالف ہے بلکہ عوامی مظاہروں کی سرکوبی میں شدت لانے اور اس ملک میں تشدد کو ہوا دینے میں براہ راست کردار ادا کر رہا ہے- اس کے علاوہ سعودی عرب، آل خلیفہ حکومت کی مالی حمایت بھی کر رہا ہے۔ سعودی حکومت علیحدہ طور پر بھی اور خلیج فارس تعاون کونسل کے قالب میں بھی آل خلیفہ کی مالی مدد کر رہی ہے اور یہ امداد آل خلیفہ حکومت کے بجٹ میں کمی پوری کرنے کے علاوہ ان افراد کے درمیان بھی تقسیم ہوتی ہے جو آل خلیفہ کے وفادار ہیں تاکہ وہ بھی مخالفین میں شامل نہ ہوپائیں- 

سعودی عرب نے مئی 2012 میں آل خلیفہ حکومت کے ساتھ سیکورٹی اتحاد کا اعلان کیا تھا کہ جو بحرین کے سعودی کالونی بننے کا واضح مصداق ہے اور بحرینی مخالفین نے اسے آل سعود کے توسط سے بحرین پر قبضے کا نام دیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس شورائے اسلامی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے بھی اس سیکورٹی اتحاد پر ردعمل ظاہر کرتےہوئے کہا کہ بحرین کوئی لقمہ نہیں ہے کہ آسانی سے گھونٹ جایا جائے-  

امریکہ آل خلیفہ حکومت کا اہم ترین حامی ہے ۔ بحرین امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کا مرکز ہے کہ جو بیرون ملک میں امریکہ کا سب سے بڑا بحری بیڑا ہے اس کے علاوہ شیخ عیسی ایئربیس بھی امریکی فورسیز کےاختیار میں ہے۔ بحرین اور امریکہ نے اکتوبر 1991 میں دس سالہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے تھے کہ جس پر 2001 اور 2011 میں بھی دس دس سال کی مدت کا اضافہ کیا گیا۔ یہ فوجی معاہدہ، بحرین کو اپنی کالونی بنانے کی امریکی دستاویز شمار ہوتا ہے کیوں کہ بحرین میں کوئی پالیسی امریکہ کی حمایت اور رضایت کے بغیر نہیں تیار کی جاتی- 

صیہونی حکومت بھی بحرینی عوام کے پرامن مظاہروں کو کچلنے کے لئے آل خلیفہ حکومت کی ایک اہم حامی ہے۔ صیہونی حکومت، نہ صرف آل خلیفہ کی فورسیز کو ٹریننگ دے رہی ہے کہ جن میں سے بیشترغیر بحرینی شہری ہیں، بلکہ آل خلیفہ کے شاہی محل کی سیکورٹی بھی اسرائیل کی خصوصی فورسز کے ذمے ہے۔ اسرائیلی حکومت، مخالفین کے ساتھ مقابلے کے طریقہ کار کے ایجنڈے کو بھی آل خلیفہ کے لئے منظم کرتی ہے- اسی بنیاد پر آل خلیفہ حکومت بھی اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات قائم کرنے میں کوشاں ہے اور حال ہی میں بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمد بھی، سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے بعد اسرائیل کے لئے دفاع کے حق کا قائل ہوا اور ایک طرح سے اس نے اسرائیل کو سرکاری طور پر تسلیم کرلیا۔ جبکہ اسرائیل نے صرف گذشتہ دومہینے کے دوران تقریبا ایک سو تیس فلسطینیوں کو شہید اور تیرہ ہزار سے زیادہ کو زخمی کیا ہے- 

اہم نکتہ یہ ہے کہ شام میں برطانیہ کے سابق سفیر پیٹر فورڈ نے اسرائیلی جارحیتوں کی بحرینی وزیر خارجہ کی جانب سے حمایت پر احتجاج میں، بحرین میں حکمراں خاندان کے مشیر کی حیثیت سے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ پیٹر فورڈ نے کہا کہ وہ حال ہی میں مسئلہ فلسطین کے خلاف آل خلیفہ حکومت کے تدریجی اقدامات کی جانب متوجہ ہوئے ہیں۔ اسی بناء پر پیٹر فورڈ نے کہا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بحرین تقریبا سعودی عرب اور امریکہ کی کالونی بن چکا ہے-                

ٹیگس

May ۲۸, ۲۰۱۸ ۱۸:۴۷ Asia/Tehran
کمنٹس