• افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ

افغانستان میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ نے گزشتہ نو برسوں کے دوران جنگ، جھڑپوں اور دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں تیئیس ہزار سے زائد افغان شہریوں کی جانیں ضائع ہونے کی خبر دی ہے۔

افغانستان میں انسانی حقوق کے کمیشن کی خاتون سربراہ  سیما سمر کے بقول، اس ادارے کی نئی تحقیقات کے نتائج کے مطابق چالیس ہزار سے زائد عام شہری زخمی بھی ہوئے ہیں اور یہ جرائم انجام دینے والے عناصر داعش، طالبان گروہ اور غیرملکی فوجی ہیں۔ امریکہ نے 2001 میں طالبان اور القاعدہ کو ختم کرنے کے بہانے سے افغانستان پرحملہ کیا تھا اور اس پر قبضہ جما لیا تھا۔ امریکیوں نے بعد میں نیٹو کو بھی اپنا ہمنوا بنا کر افغانستان میں امن  قائم کرنے اور اقتصادی و اجتماعی مسائل و مشکلات حل کرنے جیسے جھوٹے وعدے دیئے- اس وقت افغانستان میں امریکی فوج کی تعیناتی کو سترہ سال سے زائد کا عرصہ گذر رہاہے لیکن نہ صرف یہ کہ اس ملک سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کی خاتمہ نہیں ہوا ہے بلکہ افغان حکام کے بقول اس ملک میں بیس سے زائد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں کہ جن میں سے اہم ترین داعش دہشت گرد گروہ ہے-

در ایں اثنا غیر ملکی فورسیز کہ جنہوں نے افغانستان میں امن و امان کی برقراری کے لئے اس ملک پر حملہ کیا تھا آج وہ خود ہی افغانستان میں بدامنی اور بحران کے عامل میں تبدیل ہوگئے ہیں- ایک جانب یہ فورسیز براہ راست طریقے سے کاروائیاں انجام دے کر عام شہریوں کو قتل کر رہی ہیں تو دوسری طرف انتہا پسند اور تشدد پسند گروہوں نے افغان امن کے عمل میں اپنی شمولیت کو، افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلاء سے مشروط کر رکھا ہے اور یہ مسئلہ افغانستان میں بحران اور بدامنی میں شدت کا سبب بنا ہے۔ جیسا کہ کابل میں افغان علماء کونسل کے حالیہ اجلاس میں بھی کہا گیا ہے کہ مسلح گروہوں کے نشانے پر افغان عوام ہی ہیں کہ جو برسوں تک ظلم و ستم  اور داخلی جنگوں اور قبضے سے پیدا ہونے والے بدترین حالات سے دوچار رہے ہیں-

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کے ترجمان ایمل فیضی کہتے ہیں:

افغانستان کے عام شہریوں کا قتل عام واشنگٹن کی غلط اور تخریبی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اگر امریکہ جیسا کہ دعوے کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں امن و ثبات قائم کرنے کے لئے کوشاں ہے تو سوال یہ ہےکہ پھر روزانہ عام شہریوں کی ایک تعداد کا قتل کیوں ہوتا ہے اور اس ملک میں دہشت گردانہ حملوں میں آئے دن اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟

افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں جاری رہنے کی ایک اہم ترین وجہ، ان گروہوں کے مالی وسائل و ذرائع کا پائیدار باقی رہنا ہے۔ غیرملکی امداد کے علاوہ ، منشیات کی پیداوار اور اس کی اسمگلنک ان گروہوں کے مالی وسائل و ذرائع کی فراہمی کا اہم ترین ذریعہ ہیں اور حال ہی میں غیر قانونی کان کنی اور معدنی وسائل کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ اور نیٹو نے گذشتہ سترہ سال کے دوران دہشت گردوں کے مالی وسائل و ذرائع ختم کرنے کے لئے نہ صرف کوئی اقدام نہیں کیا ہے بلکہ کہا جا رہا ہے کہ وہ خود بھی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں-

روس کے سابق فوجی افسر جنرل گاریف  GARIOV کہتے ہیں :

امریکہ نہیں چاہتا کہ افغانستان میں منشیات کی پیداوار بند ہو کیوں کہ اس کے ذریعے وہ اس ملک میں تعینات اپنے فوجیوں کے اخراجات پورے کر رہا ہے۔ منشیات کے کھیت امریکہ کے فوجی اڈوں کے پاس واقع ہیں۔ افغانستان میں منشیات کی اسمگلنگ سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سالانہ تقریبا پچاس ارب ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے کہ جس سے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے  مکمل اخراجات پورے کئے جاتے ہیں- 

بہرصورت افغان عوام بدستور ان حالات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں کہ جو ملکی اور غیر ملکی انتہا پسند اور تشدد پسند عناصر کے تعاون سے پیدا کئے گئے ہیں اور اس وقت بھی جاری ہیں۔ جبکہ اگر گروہ طالبان افغان امن کے عمل میں شمولیت کے لئے، مختلف حلقوں کی درخواستوں کو قبول کرلے تو نہ اس سے نہ صرف دہشت گردوں سے مقابلے کے لئے قومی اتحاد کو تقویت حاصل ہوگی بلکہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے باقی رہنے کا بہانہ بھی نہیں رہے گا۔       

ٹیگس

Jun ۰۷, ۲۰۱۸ ۱۷:۱۱ Asia/Tehran
کمنٹس