Jun ۰۷, ۲۰۱۸ ۱۷:۱۲ Asia/Tehran
  • عالمی یوم قدس کی اہمیت کے بارے میں قائد انقلاب اسلامی کا نقطہ نگاہ

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے گذشتہ پیر کے روز حرم امام خمینی (رح) میں، عالمی یوم قدس درپیش ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ یوم قدس کی ریلیوں میں شرکت اور فلسطین کے مظلوم و مجاہد عوام کا دفاع درحقیقت بہتر مستقبل بنانے کی راہ میں ایک اہم قدم ہے-

 رہبر انقلاب اسلامی نےعالمی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے انصاف پسندی کی آواز بلند کئے جانے کو ایران کی عزت و وقار کا باعث قرار دیا اور فرمایا کہ آج غاصب صیہونی حکومت کے مقابلے میں مظلوم فلسطینیوں کی حمایت بھی اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک اور نقطہ قوت ہے۔

آپ نے فرمایا کہ ایک ایسے وقت جب صیہونی حکومت کے مقابلے میں فلسطین اور مزاحمتی قوتوں کی حمایت اور علاقے کے ملکوں کی ارضی سالمیت کا دفاع اسلامی جمہوریہ ایران کی عزت و سربلندی کا باعث ہے تو دشمن کوشش کر رہا ہے کہ اسے علاقے میں ایران کی مداخلت قرار دے کر تنازعہ کھڑا کرے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے میدان میں عوام کی موجودگی کو انتہائی اہم قرار دیا اور  جمعۃ الوداع کو عالمی یوم القدس کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ خدا وندعالم کے فضل و کرم اور عوام کی شاندار وسیع شرکت سے اس سال کا یوم القدس ہر سال سے کہیں زیادہ بھرپور اور پرجوش طریقے سے منایا جائے گا۔ 

اس سال عالمی یوم قدس خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ امریکہ کی سربراہی میں تسلط پسند نظام ، بعض رجعت پسند عرب حکومتوں اور غاصب صیہونی حکومت کے باہمی گٹھ جوڑ کے ذریعہ بیت المقدس اور مسئلۂ فلسطین کو پس پشت ڈالنا چاہتا ہے۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) نے جدت پسندی کے ساتھ ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع کو عالمی یوم قدس قرار دے کر دنیا والوں کی توجہ مسئلۂ فلسطین کی طرف مبذول کی اور تاکید فرمائی کہ فلسطینیوں کے اہداف کے پیش نظر مسئلۂ فلسطین عالم اسلام کا اولین اور سب سے بڑا مسئلہ ہے اور صیہونی حکومت، عالم عرب اور اسلامی امت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔

بیت المققدس اور مسئلۂ فلسطین کی طرف امام خمینی (رح) کی توجہ نے قدس شریف اور فلسطینیوں کے اہداف کو فراموش کرنے کی عرب، امریکی اور صیہونی سازش کو نقش بر آب کردیا اور آج امام خمینی (رح) کی دور اندیشی کی وجہ سے تحریک انتفاضہ نے ساز باز کے عمل پر غلبہ حاصل کرلیا ہے۔ انتفاضہ کے قالب میں وجود میں آنے والی فلسطینیوں کی استقامت نے سرزمین فلسطین میں طاقت کے توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے اور غاصب اسرائیلی حکومت کے ساتھ سازباز کی پالیسی کو ناکام بنادیا ہے۔

فلسطین کے بچوں عورتوں اور جوانوں کو قتل کرنا، اپنا غاصبانہ قبضہ جاری رکھنے کے لئے صیہونیوں کی ایک اسٹریٹیجی میں تبدیل ہوگیا ہے- اسرائیل کے جارحانہ کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے جس میں صبرا اور شتیلا کیمپ میں فلسطینیوں کا قتل عام اور غزہ میں دس سال سے زیادہ عرصے سے فلسطینی عوام کا محاصرہ شامل ہے-

صیہونی جارحین  گذشتہ ستر عشروں سے فلسطینی جوانوں اور بچوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ خیال کررہے ہیں کہ یہ راستہ غاصبوں کے مقابلے میں فلسطینی عوام کی مزاحمت کے خاتمے کا راستہ ہے- بلا شبہ فلسطین میں صیہونیوں کے جاری مظالم، امریکہ اور علاقے کی بعض جارح حکومتوں کی بے دریغ حمایت کے نتیجے میں جاری ہیں اور وہ بھی، فلسطینیوں کے ناحق بہائے جانے والے خون اور ان کے مصائب و آلام  کے ذمہ دار اور اس میں شریک ہیں-

مغربی ایشیا کے موجودہ حالات، خاص طور سے دہشت گردی کا سنگین چیلنج اور خطے کے ممالک کو مختلف بحرانوں میں الجھانا، امریکہ اور صیہونی حکومت کی سربراہی میں تسلط پسند نظام کی منصوبہ بند سازش ہے تاکہ مسئلۂ بیت المقدس اور فلسطینی اہداف، عالم اسلام کی اولین ترجیح کی حیثیت سے پیش نظر نہ رہیں ۔ اس سازش کا اصل ہدف عالم اسلام کو اندرونی مسائل میں الجھائے رکھنا ہے تاکہ عالم اسلام کے سب سے بڑے دشمن کی حیثیت سے صیہونی حکومت کی طرف توجہ کم سے کم رہے بلکہ دوست اور دشمن میں بھی فرق نہ رہے۔

آج سعودی عرب سمیت بعض عرب ممالک امریکہ کے ساتھ مل کر اسرائیل کے ساتھ ساز باز کے عمل میں ایران کو، جو مظلوم ملت فلسطین اور امت اسلامیہ کا سچا دوست اور خیر خواہ رہا ہے، دشمن کے طور پر اور ظالم اور بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کو، بزعم خود، دوست بنا کر پیش کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ اسی منصوبہ بند سازش کے پیش نظر اس سال عالمی یوم قدس خاص اور بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اسی بناء پر پوری ایرانی قوم یوم القدس کی ریلیوں میں شرکت کرکے غاصب صیہونی حکومت پر واضح کردے گی کہ اس نے سرزمین فلسطین اور بیت المقدس کو فراموش نہیں کیا ہے اور قدس شریف کی آزادی ، ایرانی عوام اور ساری دنیا کے مسلمانوں کی آرزوؤں میں آج بھی سرفہرست ہے۔

ایرانی عوام کے ساتھ ساتھ  دنیا بھر کے غیور عوام بھی 23 رمضان المبارک کو فلسطین کے مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی اور غاصب اسرئیل کے خلاف عالمی یوم القدس منائیں گے اور اس سلسلے میں جو ریلیاں نکالی جائیں گی ان میں بھرپور طور پر شرکت کریں گے- 

ٹیگس