• سعودی عرب پر یمن کے میزائلی حملے

یمن کے خلاف سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے اعلان کیا ہے کہ اب تک یمن سے سعودی عرب پر ایک سو انچاس میزائل فائر کئے جا چکے ہیں۔

یمن کے میزائلی حملوں کے بارے میں سعودی اتحاد کی رپورٹ اور اس ملک کی میزائلی طاقت کے اعتراف سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کی میزائلی طاقت نے سعودی عرب کے اندازوں اور تخمینوں کو درہم برہم کرتے ہوئے انھیں علاقے کی قوموں کی استقامت کے مقابلے میں ایک اور شکست سے پیدا ہونے والے اضطراب اور وحشت سے دوچار کردیا ہے- سعودی عرب، مارچ دوہزار پندرہ سے امریکی اشارے پر چند عرب ممالک کا اتحاد بنا کر یمن کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کررہا ہے تاکہ اپنے عوامل یعنی اس ملک کے معزول و مفرور صدر منصور ہادی کو دوبارہ اقتدار میں لانےاور اپنی سیاسی زیادہ طلبی سمیت دیگر اہداف کو حاصل کرسکے- سعودی اتحاد کے جارحانہ اقدامات اور وحشیانہ حملوں کے باوجود اس اتحاد کو یمن میں بدترین ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور سعودی جرائم کے جواب میں یمن کے میزائلی حملوں نے توازن کو یمن کے عوام کے حق میں تبدیل کر دیا ہے- یمن کی فوج اورعوامی مزاحمت نے سعودی فوجیوں کی جارحیت کے مقابلے میں اپنے بے گناہ عوام کے دفاع کے لئے میزائلی طاقت و صلاحیت سے استفادے کو اپنے ایجنڈے میں قرار دے رکھا ہے - یمن کی عوامی مزاحمت اور فوج کی میزائل یونٹ نے ابھی حال ہی میں سعودی اڈوں پر بھرپور میزائلی حملے کر کے بھاری کامیابیاں حاصل کی ہیں- یمنی فوج نے سرحدی شہر جیزان میں سعودی اڈوں کو اپنا نشانہ بنایا اور اس حملے کے نتیجے میں سعودی حکومت کے کئی فوجی افسران ہلاک ہوگئے ہیں- اس حملے میں کئی سعودی فوجی زخمی بھی ہوئے- یمنی فوج کی اس بڑی کامیابی کے بعد سعودی عرب کے اتحادیوں منجملہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے سعودی بادشاہ کے نام پیغام بھیج کر شہرجیزان میں کئی سعودیوں کی ہلاکت پر تعزیت پیش کی ہے- انھیں تعزیتی پیغامات نے سعودیوں کے اس جھوٹے دعوے کو بہت جلد طشت از بام کردیا کہ ریاض کا دفاعی میزائلی سسٹم یمنیوں کے تمام میزائلوں کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے-

اس وقت یمنی فوجی اپنی میزائلی صلاحیت سے جارحین اور ظالموں کے لئے خطرہ بن گئے ہیں-  یمن کے خلاف سعودی عرب کی جارحیت کا سلسلہ ایسی حالت میں جاری ہے کہ سعودی عرب پر یمن کی کاری ضربوں نے اس ملک کے حکام کو پہلے سے کہیں زیادہ حیرت میں ڈال دیا ہے- سعودی عرب نے یمن پر اپنے حملوں کے آغاز میں کہ جو امریکی اشارے اور بعض عرب حکام کی حمایت و مدد سے انجام پا رہے ہیں یہ سمجھا تھا کہ وہ بہت کم وقت میں یمن پر قبضہ کرلیں گے لیکن یہ جنگ نہ صرف یہ کہ کم وقت میں ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک تھکا دینے والی جنگ ثابت ہوئی ہے - 

یمن میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور حالات سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی جارحین کے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں اور نہ صرف یہ کہ سعودی فوج کو یمنی عوام کے مقابلے میں اسٹریٹیجک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ ان کے حامیوں اور عوامل کو پہنچنے والے نقصانات اس بات کا باعث بنے ہیں کہ ان کے لئے شکست کے آثار پہلے سے زیادہ نمایاں ہوجائیں-

ترکی کے بین الاقوامی سیاسی امور کے ماہر سلیم یاشار کا کہنا ہے کہ جنگ یمن میں آل سعود کی مسلسل ناکامیاں سعودی عرب کی لاچارگی وحیرانگی کا باعث بن گئی ہیں-  یمنی عوام کی استقامت اور ان کے منھ توڑ جواب سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب کے مذموم اقدامات، اس کی ناکامیوں کو روک نہیں پا رہے ہیں اوراس طرح یمن کی عوامی استقامت کی میزائلی طاقت جارح سعودی حکومت کے  لئے ایک ڈراؤنا خواب بن گئی ہے-

Jun ۱۲, ۲۰۱۸ ۱۶:۳۴ Asia/Tehran
کمنٹس