• شمالی کوریا کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے میں امریکی کانگریس بڑی روکاوٹ

امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہوں کے درمیان ایک بیان شائع ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی امریکی کانگریس کے نمائندوں نے، ڈونلڈ ٹرمپ اور کیم جونگ اون کے درمیان سنگا پور میں ہونے والی ملاقات کے نتائج پر اپنی مخالفت کا اعلان کیا ہے-

بعض ریپبلکن سینیٹرز نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی منظوری کے لئے اسے کانگریس کو ارسال کریں۔ ایک گروہ جس میں  ریپبلکن سینیٹر لینڈسی گراھم Lindsey Graham بھی شامل ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ  وہ جنوبی کوریا سے امریکی فوجیوں کے انخلاء پر مبنی کسی بھی منصوبے کے حق میں ہرگز ووٹ  نہیں دیں گے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ ڈموکریٹس نے تقریبا متفقہ طور پر ٹرمپ اور کیم کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کو مبھم ، ناکافی اور شمالی کوریا کے حق میں قرار دیا ہے۔ 

امریکی سینٹ میں ڈموکریٹ اقلیت کے لیڈر چاک شومر کہتے ہیں کہ مشترکہ بیان اس حد تک کلی اور مبھم ہے جو بہت زیادہ باعث تشویش ہے۔ امریکی صدر نے ان مذاکرات سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ پورے طور پر مبھم اور ناقابل توثیق ہے لیکن وہ چیز جو شمالی کوریا نے حاصل کیا ہے وہ واضح اور پائیدار ہے- 

ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے، ٹرمپ کو اپنے کام کے آغاز میں ہی کانگریس کی مخالفتوں اور روکاوٹوں کا سامنا ہے- گرچہ شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات کو ڈکٹیٹ کرنا امریکی حکومت کے ذمے، خاص طورپر ٹرمپ کے ذمے ہیں، اس کے باوجود اگر کانگریس کی رضایت نہ رہی تو امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان پائیدار امن کا حصول تقریبا ناممکن ہوگا - ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کے تجربے اور اس مسئلے کے بارے میں امریکی کانگریس کے رویے نے شمالی کوریا کے ساتھ  طے پانے والےسمجھوتے سے متعلق تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔

جس دوران امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما گروپ پانچ جمع ایک کے اراکین کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے اس وقت حریف پارٹی یعنی ریپبلکن کے اراکین نے اس سمجھوتے کو حتمی نتیجے تک نہ پہنچنے کی بھرپور کوشش کی اور اس میں بہت زیادہ رکاوٹیں کھڑی کیں- انہوں نے وائٹ ہاؤس کی رضایت کے بغیر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو کو کانگریس میں دعوت دی تاکہ وہ اوباما حکومت کی خارجہ پالیسی کے اہم ترین پروگراموں کے خلاف تقریر کرے۔ ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی سمجھوتے کو ناکامی سے دوچار کرنے کی ریپبلکن اور نتنیاہو کی ناکامی کے بعد، ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن Tom Cotton نے اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے ایک خط میں لکھا تھا کہ امریکہ میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی واشنگٹن ایٹمی معاہدے سے نکل جائے گا - وہی اقدام کہ جسے گذشتہ  مئی کے مہینے میں، عالمی سطح پر ہونے والی وسیع مخالفتوں کے باوجود عملی جامہ پہنایا گیا-

اس وقت امریکی حکومت ایک بار پھر ایٹمی مذاکرات کے مسئلے میں ایک اور ملک کے ساتھ مذاکرات میں مشغول ہےاور کانگریس سے تقریبا وہی آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ جو اس سے پہلے ایران کے ساتھ ایٹمی مذاکرات میں سنی جاتی تھیں- شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ حتمی سمجھوتے کی امریکی کانگریس میں منظوری کا مطالبہ، اس کے نابود ہونے کے خطرات کو بڑھا دے گا- کیوں کہ غیرملکی قراردادوں اور معاہدوں میں امریکی حکومت کی شمولیت کے لئے، سینیٹ کے دوتہائی ووٹ کی ضرورت درکار ہوتی ہے، جبکہ ریپبلکن پارٹی اس وقت صرف ایک ووٹ زیادہ ہونے کے ساتھ  سینٹ کا کنٹرول سنبھالے ہے اور بہت ممکن ہے کہ ماہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں وہ اپنی اکثریت کھو بیٹھے- 

اس کے ساتھ ہی شمالی کوریا کے خلاف دسیوں پابندیوں کے قانون کو منسوخ کرنے کا مسئلہ، ٹرمپ کے سامنے ایک بڑی مشکل پیدا کردے گا- ایران کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں امریکیوں نے قانونی مشکلات کا بہانہ بناکر ایران کے خلاف ایٹمی پابندیوں کو منسوخ کرنے کی ذمہ داری سے خود کو بچایا اور جب تک ایٹمی معاہدے میں باقی تھے اسی ہتھکنڈے سے غلط فائدہ اٹھاتے رہے۔ اس بناء پر ایسا خیال نہیں کیا جاتا کہ شمالی کوریا کے ایٹمی اور میزائلی پروگرام کی مکمل نابودی کی صورت میں شمالی کوریا کے خلاف عائد پابدیاں امریکی کانگریس میں منسوخ ہوجائیں گی اور واشنگٹن خود کو پیونگ یانگ کے خلاف اس ہتھکنڈے کو استعمال کرنے سے محروم رکھے گا-

ٹیگس

Jun ۱۳, ۲۰۱۸ ۱۷:۵۷ Asia/Tehran
کمنٹس