• جنگ یمن میں ممنوعہ ہتھیاروں کا وسیع پیمانے پر استعمال

سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے شمالی یمن کے صوبہ صعدہ کے شہر کتاف کے علاقے خضوان پر کلسٹربموں سے حملہ کیا ہے-

سعودی عرب نے گذشتہ دنوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں کو کلسٹر بموں سے نشانہ بنایا ہے- یمن پر حملوں میں سعودی عرب کے جنون آمیز اقدامات، امریکہ کی حمایت اور بین الاقوامی حلقوں کی خاموشی کے باوجود، جارح اتحاد کی رسوائی اور شکست کا غماز ہیں- سعودی عرب کے جنگی طیارے اس قسم کے جنون آمیز اقدامات کے ذریعے، یمن کے دارالحکومت صنعا سمیت مختلف رہائشی علاقوں اور سڑکوں کو میزائل اور کلسٹر بموں سے نشانہ بنا رہے ہیں- سعودی عرب نے امریکہ اور برطانیہ کی حمایتوں کے سائے میں، یمن کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت سے دریغ نہیں کیا ہے- سعودیوں کے ہاتھوں ممنوعہ ہتھیاروں منجملہ کلسٹر اور فاسفورس بموں کا استعمال، درحقیقت  یمن کے نہتے اورمظلوم عوام کا قتل عام کرنے، مزید تخریبی کاروائیاں انجام دینے نیز عوام کے درمیان رعب و وحشت پھیلانے اور انہیں جارحین کے مقابلے میں مزاحمت جاری رکھنے سے روکنے کرنے کی غرض سے ہے-

سعودی عرب نے یمنی عوام کو جھکنے پر مجبور کرنے کے لئے ان کے خلاف کلسٹر بموں سمیت مختلف قسم کے خطرناک ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے، پھر بھی وہ اب تک اپنا کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو ‎سکا ہے- واضح رہے کہ یمن کے محاصرے کے باوجود یمنی فوج کی دفاعی توانائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

تقریبا یمن کے بیشتر علاقے سعودیوں کی بمباری کا نشانہ بنے ہیں اور زیادہ تر پلوں، سڑکوں، اسکولوں اور اسپتالوں پر حملے کئے گئے ہیں۔ یہ ایسے میں ہے کہ  ممنوعہ اور غیر روایتی بموں مثال کے طور پر کلسٹر، فاسفورس اور بیالوجیکل بموں کے استعمال نے یمن میں سعودی  جرائم کو ہولناک بنادیا ہے اور اس ملک کے مختلف علاقوں کو، مغرب کے ہدیہ کئے ہوئے ہتھیاروں کی تجربہ گاہ میں تبدیل کردیا ہے۔ 

 امریکا اور برطانیہ کے ذریعے سعودی عرب کو کلسٹربموں کی فروخت اور ان بموں کا یمن کے نہتے اور بے گناہ شہریوں پر استعمال ایسے میں جاری ہے کہ دوہزار آٹھ میں کلسٹرہتھیاروں کے کنونشن کے تحت ان بموں کا استعمال غیر قانونی قراردیا گیا ہے۔ دنیا کے ایک سو آٹھ ملکوں نے اس کنونشن پر دستخط کئے تھے اور تقریبا سو ملکوں نے اس کی منظوری دی تھی۔ اس بین الاقوامی دستاویز کی رو سے یہ کہا جاسکتا ہے سعودی عرب ان ہتھیاروں کا استعمال کرنے والےملک کی حیثیت سے، اور امریکہ اور برطانیہ کلسٹر بموں کو فروخت کرنے والے کی حیثیت سے جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے ہیں- امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے جنگی سازوسامان اور کلسٹر بموں کے ارسال کئے جانے کے سبب سعودی عرب یمن کے نہتے اور مظلوم عوام کے خلاف اپنے ظالمانہ اور وحشیانہ حملوں میں شدت لا رہا ہے۔ 

واضح رہے کہ سعودی عرب کے مشیر دفاع نے کچھ عرصہ قبل بی بی سی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے، یمنی عوام کے خلاف ممنوعہ کلسٹر بموں کے استعمال اور فضائی، زمینی اور سمندری محاصرے کے نتیجے میں بے گناہ یمنی شہریوں کی ہلاکتوں کا اعتراف کیا تھا - سعودی عرب کے مشیر دفاع احمد العسیری نے انتہائی بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ کہا تھا کہ کلسٹر بم کیمیائی ہتھیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کلسٹر بم بقول ان کے فوجی طاقت کا ایک حصہ ہے اور دنیا بھر کی افواج انہیں استعمال کر رہی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ کلسٹر بموں کا استعمال عالمی قوانین اور ضابطوں کے تحت ممنوع ہے-        

سعودی عرب نے امریکہ اور خطے کے بعض عرب ملکوں کی حمایت سے، یمن کو جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے جس کا مقصد اس ملک میں اپنی کٹھ پتلی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانا ہے۔ چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے جاری سعودی جارحیت میں اڑتیس ہزار سے زائد افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ بنیادی ڈھانچے اور گھروں کی تباہی کے باعث لاکھوں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔  

Jun ۱۴, ۲۰۱۸ ۱۸:۳۱ Asia/Tehran
کمنٹس