• ٹرمپ حکومت میں ایران کے ساتھ امریکی دشمنی اور خباثت عروج پر

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے امریکہ کی بدعہدی اور ایرانی قوم کے ساتھ اس ملک کی دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی سبھی حکومتیں ایرانی قوم کی دشمن رہی ہیں۔ لیکن موجودہ امریکی صدر سب سے زیادہ بدتر اور خیبث تر ہیں اور ان کی حکومت، ملت ایران کے خلاف ناپاک منصوبوں پر عمل کر رہی ہے۔

صدر مملکت حسن روحانی نے بدھ کی رات کو صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں افطار کی تقریب میں اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایرانی قوم حق پر ہے اور باطل پر اسے کامیابی نصیب ہوگی کہا کہ یہ صحیح ہے کہ امریکہ کی تمام حکومتیں انقلاب کی کامیابی کے آغاز سے اب تک ایرانی قوم کی دشمن رہی ہیں لیکن دشمنی کی بھی ایک حد ہوتی ہے-

ایران کے ساتھ امریکہ کی دشمنی، اسلامی انقلاب کی کامیابی کی تاریخ کے ساتھ آمیختہ ہوگئی ہے اور گذشتہ چالیس برسوں کے دوران امریکہ میں جو بھی حکومت برسر اقتدار آئی ہے اسے ایران سے دشمنی رہی ہے اور ہر حکومت نے اپنے اپنے طور پر ایران کے اسلامی جمہوری نظام کی ترقی و پیشرفت روکنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ امریکی حکام ایران کے خلاف بیک وقت چند اہداف کے درپے ہیں کہ جس کا آخری مقصد اسلامی جمہوری نظام کو ختم کرنا ہے۔

اسلامی انقلاب  کی چآلیس سالہ تاریخ کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ گذشتہ چالیس برسوں کے دوران امریکی، ملت ایران کے دشمن رہے ہیں۔ امریکیوں نے تمام سیاسی ، اقتصادی، سیکورٹی، فوجی اور تشہیراتی ہتھکنڈوں کا استعمال کیا ہے تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کو نقصان پہنچائیں لیکن ہر بار ایرانی قوم، حکومت اور قائد ایران کی فہم و بصیرت اور ہوشیاری کے باعث ان کو شکست کا منھ دیکھنا پڑا ہے-

ایران کے خلاف آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ، مختلف قسم کی پابندیاں اور سیاسی دباؤ، ٹارگٹ کلنگ، بین الاقوامی اداروں میں خلاف ورزی، ایران کے خلاف میڈیا جنگ اور ایران کو علاقے میں امن و سلامتی درھم برھم کرنے والا ملک متعارف کرانے کی کوشش، وہ بعض اقدامات ہیں جو امریکی حکومتوں نے ایران کے خلاف اب تک انجام دیئے ہیں۔ اور رہبر انقلاب اسلامی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ چالیس برسوں میں پوری قوت و استقامت اور تدبیر کے ساتھ مختلف قسم کے واقعات اور حالات کا سامنا کیا ہے اور اس وقت بھی وہ قوت و تدبیر کے ساتھ ان تمام حالات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی ترقی کی راہ کو جاری رکھے ہوئے ہے- 

اسلامی انقلاب کے چالیس برسوں کے مکمل ہونے کے ساتھ ہی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکہ سے ایران کی دشمنی بھی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ٹرمپ حکومت کی سازشیں، توھمات اور تصورات ، ایران سے دشمنی میں حد سے گذرگئے ہیں- ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں ٹرمپ حکومت کا رویہ ، مختلف قسم کی پابندیاں عائد کرنا ، اور ایران کو دھمکانے کی غرض سے بعض عرب حکومتوں اور اسرائیل کے ساتھ امریکی حکومت کا تعاون، اور ایران کے نظام کو ختم کرنے کا منصوبہ یہ سب کچھ ایران اور ملت ایران کے خلاف ٹرمپ کے دشمنانہ رویے کو ظاہر کرتا ہے۔

مختلف تقریروں میں علاقے میں ایران کے رویے میں تبدیلی کی ضرورت جیسے الفاظ اور تعبیرات کا استعمال ایک توہم سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ چالیس برسوں کے دوران قوت و تدبیر کے ذریعے اپنے اقتدار کا مظاہرہ کیا ہے- رہبر انقلاب اسلامی نے ماہ رمضان میں حکومتی عہدیداروں اور کارگزاروں سے ہونے والی ملاقات میں اس امر پر تاکید کرتے ہوئے کہ سنت الہی کے مطابق دشمن کی شکست میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں ہے فرمایا کہ امریکہ کے موجودہ صدر کا حشر بھی اپنے پیشرووں بش اور ریگن سے اچھا نہیں ہوگا اور ٹرمپ بھی ان کی طرح تاریخ کی وادیوں میں گم ہوجائیں گے- 

امریکہ میں برسر اقتدار آنے والی مختلف حکومتوں کی ایران سے دشمنی کا سبب، اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے امریکی خواہشات و مطالبات کو ٹھکراکر، مستقل اور خود مختار طریقے سے اپنے اہداف پر عمل کرنا اور اسے آگے بڑھانا ہے اور آج ایرانی جوانوں  کی کوششوں سے اسلامی جمہوریہ ایران، مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی انجام دیتا نظر آرہا ہے اور دفاعی پہلو سے اس وقت علاقے میں پہلی میزائلی طاقت میں تبدیل ہوگیا ہے-

Jun ۱۴, ۲۰۱۸ ۱۸:۳۲ Asia/Tehran
کمنٹس