• ایران کے بارے میں ٹرمپ کا دوہرا رویہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اسلامی جمہوریۂ ایران کے خلاف دھمکی آمیز رویہ جاری رکھتے ہوئے ایران کے ساتھ بات چیت کے لئے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے برسلز میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ”ایسا وقت آئے گا کہ ایرانی مجھے ٹیلی فون کرکے مجھ سے ایک مفاہمت کی درخواست کریں گے اور ہم مفاہمت کر لیں گے۔“

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جامع ایٹمی معاہدہ سے امریکہ کے نکلنے کے اعلان کے بعد کئی بار ایران کے ساتھ مفاہمت کی بات کر چکے ہیں جسے انہوں نے اب ایک بار پھر دوہرایا ہے۔ بہرحال، امریکہ کے اعلیٰ حکام کے متضاد، دھمکی اور توہین آمیز رویہ نے اسلامی جمہوریۂ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی مفاہمت کے امکان کو ختم کردیا ہے۔

اصولی طور پر دو یا کئی ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی مفاہمت کے لئے کچھ کم ترین نکات پر اتفاق ہونا ضروری ہوتا ہے اور ان نکات میں باہمی احترام و اعتماد اور مشترکہ مفادات شامل ہوتے ہیں لیکن امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ کم ترین ضروری نکات بھی تقریباً ناپید ہوگئے ہیں۔ ایک ایسے معاہدہ سے، جس کے لئے یورپی یونین اور سات ممالک 10 سال سے زیادہ عرصہ تک مذاکرات کرتے رہے، امریکہ کے یک طرفہ طور پر نکل جانے سے امریکہ کی موجودہ حکومت پر ایرانی حکومت اور عوام کا اعتماد مکمل طور سے ختم ہوگیا ہے۔ امریکی حکومت جامع ایٹمی معاہدہ پر عمل کرنے کی پابند تھی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حکومت کی تبدیلی سے کسی ملک کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی جبکہ جامع ایٹمی معاہدہ کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نے دی تھی اور اس قرارداد کے حق میں امریکہ نے بھی ووٹ دیا تھا۔ جامع ایٹمی معاہدہ سمیت بین الاقوامی اداروں اور معاہدوں کے تئیں امریکی حکومت کی واضح  بےتوجہی نے ٹرمپ حکومت کے ساتھ کسی بھی مفاہمت کے امکان کو ختم کردیا ہے۔

دریں اثنا، حالیہ چند مہینوں میں، خاص طور سے ایٹمی معاہدہ سے امریکہ کے نکل جانے کے بعد، ایران کے بارے میں امریکہ کی دھمکیوں اور توہین آمیز رویہ میں شدت پیدا ہوئی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کی تقریر نے، جس میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے امریکہ کی 12 شرائط  پیش کی گئی تھیں، ایران کے ساتھ کسی بھی طرح کی مفاہمت کے ہر امکان کو تقریباً ناپید کردیا ہے۔ ان 12 شرائط میں ایسی شرائط شامل ہیں جن پر صرف وہی ملک عمل کر سکتا ہے جس پر ایک تباہ کن جنگ کے بعد قبضہ کرلیا گیا ہو۔ ملت ایران ان شرائط پر عمل نہیں کرسکتی، ملت ایران جس نے اسلامی انقلاب کے ذریعہ اندرونی اور بیرونی استبداد و تسلط پسندی کو مسترد کرتے ہوئے، عراق کی مسلط کردہ جنگ میں کامیابی اور امریکہ کے سیاسی و اقتصادی دباؤ کے سامنے پائیداری کا مظاہرہ کیا ہے۔  بنابریں، برسلز میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریر ایران کے بارے میں امریکی اسٹریٹیجی کی وضاحت کے ساتھ ساتھ امریکی صدر کی اس دلی آرزو کی غماز بھی ہے کہ وہ بین الاقوامی نظام کے حقائق اور ایران کے ساتھ امریکہ کی لمبے عرصہ کی دشمنی کو مد نظر رکھے بغیر آسانی کے ساتھ اور بغیر کچھ کئے ایران پر کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ تقریباً ناممکن اس آرزو کی تکمیل امریکہ کے موجودہ صدر اور ریپبلکن پارٹی کے لئے، جس کو کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے، شاید مطلوبہ سیاسی نتائج کی حامل ہو لیکن بہرحال ایران اور امریکہ کے تعلقات کے دیرینہ مسئلہ کے حل میں اس سے کوئی مدد نہیں ملے گی۔

جیسا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ”نیو یارکر“ جریدے کو دیئے گئے انٹرویو میں جامع ایٹمی معاہدہ سے امریکہ کی علیٰحدگی کے نتائج سے متعلق کہا ہے کہ ”یہ، ایرانی عوام اور دنیا والوں کو ایک بہت خطرناک پیغام بھیجنے کے مترادف ہے کہ آپ کو کبھی بھی امریکہ کے ساتھ معاہدہ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ بالآخر امریکہ کا اصول یہ ہے کہ جو میں کہہ رہا ہوں بس وہی صحیح ہے اور جو بات آپ کہہ رہے ہیں وہ قابل مذاکرات ہے۔“

 

Jul ۱۳, ۲۰۱۸ ۱۹:۰۱ Asia/Tehran
کمنٹس