• رہبر انقلاب اسلامی کی انقلاب اسلامی کے روشن  مستقبل پر تاکید

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ملک سے باہر ثقافتی امور میں سرگرم بعض شخصیتوں سے اپنی حالیہ ملاقات میں انقلاب اسلامی کے مستقبل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ : کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے، یہ سب کو بتا دیجئے-

ابھی کچھ دنوں پہلے بیرون ملک ثقافتی امور میں سرگرم بعض شخصیتوں نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی جس میں ایک شخص نے بیرونی ممالک میں انقلاب اسلامی کے شیدائیوں کے اندراسلامی انقلاب کے مستقبل کے بارے میں پائی جانے والی تشویش کا ذکر کیا جس کے بعد رہبر انقلاب انقلاب اسلامی نے دشمنوں کے انقلاب مخالف اقدامات پر اس شخص کی تشویش کے جواب میں فرمایا کہ : ہمارے حالات کے بارے میں ہرگز تشویش نہ کریں، کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، یقین رکھئے ، اس سلسلے میں کوئی بھی شک و شبہ نہیں ہے، یہ سب سے کہہ دیجئے-  ایسے دنوں میں جب موجودہ امریکی حکومت نے ایران کے خلاف پابندیوں کا پہلا مرحلہ شروع کردیا ہے، رہبر انقلاب اسلامی کی جانب سے اس طرح کا مضبوط ومحکم موقف ، امریکی حکام اور ان کے علاقائی ایجنٹوں کے لئے ایک بھرپور پیغام ہے-

ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا پہلا مرحلہ شروع ہونے کے ساتھ ہی امریکی صدر ٹرمپ نے منگل کو ٹوئیٹر پر لکھا کہ یہ پابندیاں ، اب تک عائ‏د کی جانے والی سب سے سخت پابندیاں ہیں- ایک بین الاقوامی سمجھوتے کے عنوان سے ایٹمی سمجھوتے سے ٹرمپ کے باہر نکلنے کا مقصد ، ایران کے علاقائی رویے کو تبدیل کرنے کے لئے ایران پر دباؤ ڈالنا اورآخرکار اندرون ملک عوام میں ناراضگی پیدا کرنا ہے تاکہ شاید ان کا چالیس سالہ خواب شرمندہ تعبیر ہوجائے- اپنے اہداف کے حصول کے لئے دہشتگرد گروہ ایم کے او کی حمایت کرنا اور ایران میں بیچینی پیدا کرنا ، انقلاب اسلامی سے امریکیوں کے گہرے کینے و دشمنی کا ثبوت ہے-صیہونی حکومت اور سعودی عرب سمیت بعض غلام عرب ممالک  کی حمایت کا مقصد ، ایران کے میزائلی پروگرام کا روکنا اور ایران پر دباؤ بڑھانے کے لئے اس کے تیل کی فروخت کو صفر تک پہنچانا ہے- یہ دشمنانہ پالیسی ایک ایسے ملک سے تاریخی دشمنی کا ثبوت ہے کہ جو ماضی ، حال اور مستقبل میں کبھی بھی منھ زور طاقتوں کے سامنے جھکنے کے لئےتیار نہیں ہوا - ٹرمپ حکومت بھی امریکہ کی سابقہ حکومتوں کی مانند ایران کے اسلامی جمہوری نظام اور انقلاب کو اپنے راستے سے ہٹانے کی کوشش رہی ہے کہ جس کی چالیس سالہ تاریخ نے اس اصول کو ثابت کردکھایا ہے کہ اس عوامی انقلاب کی پائداری و استحکام قابل قدر اور تشخص کا حامل ہے- 

 رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے گذشتہ اکیس جون کو وزارت خارجہ کے حکام اور بیرون ملک ایران کے سفیروں اور ناظم الاموروں سے خطاب میں اسلامی جمہوریہ ایران سے امریکہ کی گہری دشمنی کا ذکر کرتے ہوئے تاکید فرمائی کہ : امریکی، ایران میں اپنی انقلاب سے پہلے والی پوزیشن اور مقام پھر حاصل کرنا چاہتے ہیں اوراس سے کم پر راضی بھی نہیں ہوں گے-

رہبر انقلاب اسلامی نے اس خطاب میں امریکہ کی جانب سے ایران میں یورے نیئم کی افزودگی ، ایٹمی طاقت میں اضافے اور علاقے میں ایران کی موجودگی کی مخالفت کو اسلامی نظام کے عناصر اقتدار کے ساتھ امریکہ کی گہری دشمنی کا نتیجہ قرار دیا اور فرمایا کہ ، علاقائی موجودگی ایران کی سیکورٹی اور طاقت کے عناصر کا حصہ ہے اور ملک کی اسٹریٹیجی شمار ہوتی ہے اسی لئے دشمن اس کا مخالف ہے- اسلامی جمہوریہ ایران ، مغربی ایشیاء کے اسٹریٹیجک علاقے کا ایک طاقتور ملک ہے اور امریکہ کی منشاء کے برخلاف علاقائی معاملات و توازن میں کردار ادا کرتا ہے- یہی موضوع ایران کے خلاف اسرائیل اور غلام عرب ممالک کے ساتھ امریکہ کے دباؤ بڑھنے کا باعث ہے- اس دباؤ نے چونکہ اسلامی جمہوری نظام اور قوم کے درمیان بامعنی رابطہ قائم کررکھا ہے، اس لئے انقلاب کے مستقبل کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے- ایرانی عوام کو ٹرمپ حکومت کے آج کے سخت ترین سیاسی و اقتصادی دباؤ سے بھی زیادہ مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کا تجربہ ہے اور یہ تجربہ ایک بار پھرامریکی حکام کو اسلامی انقلاب کے ساتھ مقابلہ آرائی میں  انھیں شکست سے دوچار کردے گا- اسی سلسلے میں ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے ایران ڈیلی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ، ایران نے گذشتہ چالیس برسوں میں موجودہ حالات سے کہیں زیادہ مشکل اور سخت حالات کا سامنا کیا ہے- ہمارا ملک، ایک حقیقی فوجی جنگ کا سامنا کرچکا ہے لیکن جو چیزان تمام مشکلات سے کامیابی سے عبور کرجانے کا باعث ہو‏ئی ہیں وہ دباؤ کے مقابلے میں عوام کی استقامت رہی ہے-

ٹیگس

Aug ۰۹, ۲۰۱۸ ۱۶:۵۸ Asia/Tehran
کمنٹس