• جدہ اجلاس میں ایران مخالف بیان، جنگ یمن میں سعودی اتحاد کا پروپگنڈہ

ایران کی وزارت خارجہ نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں اسلامی تعاون تنطیم کے اجلاس میں ایران مخالف بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے خلاف جارحیت کرنے والے ممالک اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لئے ایران کے خلاف بے بنیاد اور بیہودہ الزامات عائد کرتے ہیں-

ترجمان وزارت خارجہ بہرام قاسمی نے کہا کہ دشمنانہ بیان کو جاری کرنا اور او آئی سی کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال اس تنظیم کے رکن ملکوں میں بے اعتمادی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ رکن ملکوں  کے سرمائے اور توانائیوں کی بربادی کا باعث بنےگا  اور عالم اسلام کے اہم مسائل کے حل میں اس اہم ادارے کو غیر فعال بنادے گا۔ جس کا واضح نتیجہ یہ ہوگا کہ او آئی سی جیسا بین الاقوامی ادارہ جس کا عالمی سطح پر ایک مقام ہے عضو معطل بن کر رہ جائےگا۔

انہوں نے کہا کہ یمن پر جارحیت کرنے والے ممالک جو پچھلے کئی سال سے یمنی عوام اور خاص طور پر بچوں اور خواتین کا قتل عام کرکے یمن جیسے غریب ملک میں انسانی بحران پیدا کئے ہوئے ہیں اور جدید ترین ہتھیاروں سے بے گناہ شہریوں پر آگ و بارود برساکر وہاں کی بنیادی شہری تنصیبات بھی تباہ کررہے ہیں اپنے مجرمانہ اور وحشیانہ اقدامات پر پردہ ڈالنے کے لئے بے بنیاد اور بیہودہ بیان جاری کر رہے ہیں اور علاقائی و عالمی اداروں کا غلط استعمال کررہے ہیں۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب نے او آئی سی اجلاس میں شرکت کے لئے ایران کے نمائندے کو ویزا جاری نہیں کیا جس کی وجہ سے ایرانی نمائندے کی شرکت اس اجلاس میں ممکن نہیں ہوسکی- انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے اجلاس میں ایران کے خلاف جاری کیا جانے والا بیان سعودی عرب کے دباؤ میں تیار کیا گیا تھا اور اس بیان کو غیر منصفانہ طریقے سے ترتیب دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ اسلامی تعاون تنظیم کا یکطرفہ اجلاس، بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے دو تیل بردار جہازوں پر یمن کی تحریک انصاراللہ کے حالیہ حملوں کا جائزہ لینے کے لئے، بدھ کے روز جدہ میں منعقد ہوا تھا۔ اس اجلاس میں ، سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں پر حملے کا الزام  اور دیگر الزامات بھی ایران پر عائد کئے گئے-  مارچ 2015 میں جنگ یمن کے شروع ہونے کے بعد سے، بحران یمن کے تعلق سے سعودی حکومت کی اپیل پر جو بھی اجلاس بلایا گیا اس میں ایران کے خلاف زہر افشانی کی گئی- ایران کے خلاف جھوٹا اور منفی پروپگنڈہ کرنا اور بیہودہ و بے بنیاد الزام عائد کرنا، سعودی اتحاد کا سیاسی ہتھکنڈہ ہے- سعودی حکومت کہ جس نےغلط اندازے کے ساتھ یمن کے خلاف جنگ شروع کی تھی اور اس بات کا دعوی کیا تھا کہ وہ ایک مہینے کے اندر اندر یمن کے بحران کو ختم کردے گی، آج جنگ کو چار سال کا عرصہ ہو رہا ہے تاہم سعودی عرب اور اس کے اتحادی، بے بنیاد الزامات عائد کرکے رائے عامہ کومنحرف کرنے اور یمن کی جنگ میں اپنی بدترین شکست پر پردہ ڈالنے کے سوا اور کچھ نہیں کرسکے ہیں-

آج یمن کی جنگ کی صورتحال تبدیل ہوگئی ہے اور یمن کی فوج اور عوامی کمیٹیوں نے جارح عناصر کے خلاف جنگ میں، سعودی اتحادیوں کے دانت کھٹے کردیئے ہیں۔ سعودی عرب کے مختلف ٹھکانوں حتی سعودی عرب کے اندر فوجی ٹھکانوں پر حملے، یمنی فوج کے ڈرون آپریشن اور آخرکار سمندری علاقوں میں جنگ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یمنی فوج نے اپنی داخلی توانائیوں اورصلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے، سعودی اتحاد کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ اسی سلسلے میں یمن کی قومی نجات حکومت کے وزیر مملکت احمد القنیع نے منگل کے روز کہا کہ یمن میں مقامی سطح پر ہتھیاروں کی صنعت میں پیشرفت ، سعودی جارح اتحاد کی بوکھلاہٹ کا سبب بنی ہے- یہ ایک حقیقت ہے کہ جس کا آج دنیا عملی طور پر مشاہدہ کر رہی ہے جبکہ سعودی حکومت یمنی عوام کی استقامت کے سامنے بے بس ہوکر صرف اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے اور اس کی توجیہ کے لئے، جھوٹے اور منفی پروپگنڈے کرکے عوام کو منحرف اور گمراہ کر رہی ہے-     

سعودی اتحاد نے اپنی بربریت کے ذریعے یمن کی بنیادی تنصیبات کو نابود کردیا ہے اور آئے دن عورتوں اور بچوں کا قتل عام کر رہا ہے اور اس غریب عرب ملک کا بری ، بحری اور فضائی محاصرہ کر رکھا ہے جس کے باعث انسانی المیہ ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کے دعویدار ممالک بھی سعودی حکومت کے ساتھ اس جرم میں شریک ہیں- کیوں کہ ان ملکوں نے سعودی عرب کو ممنوعہ ہتھیار فراہم کئے ہیں کہ جسے وہ یمنی شہریوں کے خلاف استعمال کر رہا ہے اس کی تازہ ترین مثال صوبہ صعدہ کے شہر ضحیان میں اسکولی بچوں پر سعودی اتحاد کا جارحانہ حملہ ہے جس میں پچاس یمنی بچے شہید ہوئےہیں-

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے یمن کے شمالی صوبے صعدہ کے شہر ضحیان میں بچوں کی بس پر سعودی اور اماراتی جنگی طیاروں کے وحشیانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے جنگی طیاروں کے وحشیانہ حملے میں شہید ہونے والے یمنی شہریوں اور بچوں کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی اداروں اورانسانی حقوق کی تنظیموں سے کہا ہے کہ جیسے بھی ہو جارح طاقتوں کے جرائم کا سلسلہ بند کرائیں۔

آج اقوام عالم پر یہ ثابت ہوگیا ہے کہ وہ سعودی اتحاد اور اس کے حامی مغربی ممالک، یمن کے جرائم میں براہ راست طور پر ملوث ہیں- اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزیناں نے یمن کے بحران کو "دنیا میں بدترین انسانی بحران" کہا ہے اور کہا ہے کہ یمن کے بحران نے  بائیس ملین دو لاکھ یمنی شہریوں یعنی اس ملک کی پچھتر فیصد آبادی کو انسان دوستانہ امداد کا محتاج بنا دیا ہے اور لاکھوں افراد کی جانوں کو خطرے سے دوچار کردیا ہے-   

ٹیگس

Aug ۱۰, ۲۰۱۸ ۲۱:۳۲ Asia/Tehran
کمنٹس