• پاکستان میں چینی انجینئروں پر حملے کی مذمت

کراچی میں چین کے قونصلیٹ نے پاکستان میں چینی انجینئروں کی ایک بس پر ہونے والے دہشتگردانہ حملے کی مذمت کی ہے

اس بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ چینی حکام پاکستان میں مشغول چینی انجینئروں کی سیکورٹی کے بارے میں پاکستانی حکام سے صلاح و مشورہ کر رہے ہیں- سنیچر کو پاکستان کے شہر کوئٹہ میں چینی انجینئروں اورکارکنوں کی بس پر نامعلوم افراد کے دہشتگردانہ حملے میں تین انجینئروں سمیت چھے افراد زخمی ہوگئے- چین ، پاکستان کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے مطابق جدید شاہراہ ریشم منصوبے کے تناظر میں چھپّن ارب ڈالر مالیت کا اقتصادی کوریڈور بنا رہے ہیں- اس بنا پر بیجنگ کی نگاہ میں چینی انجینئروں پر حملہ اس اقتصادی کوریڈور کو روکنے کے لئے ایک خطرناک سازش ہوسکتا ہے- چین و پاکستان کا اقتصادی کوریڈور کہ جو چین کے صوبہ سین کیانگ سے شروع ہوا ہے ، پاکستان کی گوادربندرگاہ سے جاملا ہے - درحقیقت یہ ون بیلٹ ون روڈ عظیم ٹرانزٹ منصوبے کا ایک حصہ چین ہے  کہ جس کے علاقے میں امریکہ سمیت بہت سے مخالف ہیں-  اسی وجہ سے واشنگٹن، علاقے میں ہند پیسفیک پروجیکٹ کے ذریعے ہندوستان کے ساتھ رابطہ پیدا کر کے چین کے ٹرانزٹ منصوبے کو کہ جس کا سلسلہ  یورپ تک ہے، ناکامی سے دوچار کرنا چاہتا ہے- اسی بنا پرکراچی میں  چینی قونصلیٹ نے صوبہ بلوچستان میں اپنے انجینئروں پر حملے پر ردعمل ظاہر کیا ہے-

سیاسی امور کے ماہر عبدالطیف نظری کا کہنا ہے کہ علاقائی سطح پر تشکیل پانے والے بلاک نے ممالک کے سیاسی موقف کو بھی متاثر کیا ہے- امریکہ ، چین اور پاکستان کے رقیب یعنی ہندوستان کی حمایت کرتا ہے اور اس کی کوشش ہے کہ ایشیا میں اس ملک کی پوزیشن مزید مستحکم کرے تاکہ چین کے لئے کوئی مضبوط حریف پیدا کرسکے اور یہ ملک ایشیاء کی واحد اہم اور موثر طاقت نہ بن سکے- چین - پاکستان کوریڈور سمیت اقتصادی پروجیکٹ پر عمل درآمد اس ملک کے لئے بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرنے اور صوبہ بلوچستان میں قیام امن اور دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے- اسی بنا پر پاکستانی فوج نے اس منصوبے پرعمل درآمد کی سیکورٹی کی ذمہ داری خود لی ہے  اور انی وجہ سے کوئٹہ میں چین کے اقتصادی پروجیکٹوں میں کام کرنے والے اس ملک کے انجینئروں اور کارکنوں پر حملہ، پاکستانی فوج پر بھی ایک ضرب ہو سکتا ہے کہ جو قبائلی اور شہری علاقوں میں دہشتگردوں کے مقابلے میں اچھی کامیابی حاصل کی ہے- پاکستانی فوج نے غیرملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے اوراس کے لئے انھیں سیکورٹی فراہم کرنے کے لئے ضروری صلاحیت حاصل کی ہے تاکہ اس ملک کی آئندہ حکومت پاکستان کے پڑوسیوں کے ساتھ تعاون کے فروغ کے نعرے  کو عملی جامہ پہنا سکے-

پاکستان کے سیاسی امور کے تجزیہ نگار سید عباس عسکری نقوی کا کہنا ہے کہ چین نے مختلف ملکوں کے درمیان اقتصادی کوریڈور پرعمل درآمد کرکے پاکستان کی سب سے زیادہ مالی مدد کی ہے اور یہ موضوع اسلام آباد کے لئے کہ جو بین الاقوامی مدد لیتا ہے، کافی اہمیت کا حامل ہے- پاکستان ، اقتصادی سرمایہ کاری اور پڑوسی ممالک کی حمایت کے بارے میں اطمینان پیدا کر کے تمام ممالک خاص طور سے امریکہ کے مقابلے میں مضبوط پوزیشن حاصل کرسکتا ہے-

بہرحال بیرونی سرمایہ کاری جذب کرنے میں پاکستان کا ایک کمزور پہلو ، اس کا ان ٹھیکیداروں اور سرمایہ کاروں کو سیکورٹی فراہم نہ کرپانا ہے کہ جو اس ملک کی حکومت کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پرعمل درآمد کررہے ہیں- پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ اقتصادی رقابت کہیں اس ملک میں پراکسی وار میں تبدیل نہ ہوجائے کیونکہ اس صورت میں اسلام آباد کو بیرونی سرمایہ کاری جذب کرنے میں مزید مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا کرنا ہوگا-

 

Aug ۱۲, ۲۰۱۸ ۱۷:۵۳ Asia/Tehran
کمنٹس