• اسرائیل کی شیطنت ، اقوام متحدہ کی خاموشی اور شام کی تنقید

اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار الجعفری نے شام میں صیہونی حکومت کی جارحیت کے مقابلے میں اس ادارے کی خاموشی پر سخت تنقید کی ہے-

بشار الجعفری نے شام میں اسرائیل کی پے درپے جارحیت پر کہ جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کے منافی ہے، شام میں انسان دوستانہ امور میں اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل مارک لوکوک اوراقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے اسٹیفن ڈی مسٹورا کی خاموشی کو حیرت و تعجب کا باعث قرار دیا ہے- صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے پیر کی رات شام کے علاقے لاذقیہ میں تحقیقات و ٹیکنالوجی مصنوعات کے ایک مرکز کونشانہ بنایا- اسرائیل اب تک بارہا دہشتگردوں کی حمایت و مدد  میں شام کی بنیادی تنصیبات اور فوج و عوامی رضاکار فورس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا چکا ہے-

صیہونی فوج نے چار ستمبر کو ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ گذشتہ اٹھارہ مہینوں میں وہ شام میں دوسو سے زیادہ اہداف کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا چکی ہے- تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ صیہونی حکومت نے ابھی حال میں شام پر دو سو حملوں کا اعتراف کیا ہے کہ جو قابل غور ہے کیونکہ شام پرحملے کا اسرائیلی حکام کی جانب سے اعتراف ایسی حالت میں سامنے آرہا ہے کہ اس سے پہلے وہ  متعدد بار اس ملک پراپنے فوجی حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریزاں تھی - تاہم اب خاص طور سے ان حالات میں اپنے حملوں کا کھل کر سرکاری سطح پر اعلان و اعتراف کرنے کا مقصد شامی فوج سے برسرپیکار دہشتگردوں کے حوصلوں کو بڑھانا ہے- ان حالات میں صیہونی حکومت کی کوشش ہے کہ شامی علاقوں پر حملے تیز کر کے اس ملک میں دہشتگردوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی دہشتگردانہ سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھیں -

روزنامہ رای الیوم نے شام پر صیہونی حکومت کے حالیہ حملوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے دہشتگردوں کے مقابلے میں شامی حکومت کی مکمل کامیابی نزدیک ہونے کی وجہ سے اسرائیل خوف و ہراس میں مبتلا ہے اور اسی وجہ سے وہ اس ملک سے دہشتگردوں کا مکمل صفایا روکنے کی انتھک کوشش کررہا ہے - اس وقت شام کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملوں میں تیزی آنے سے اس حکومت کے توسیعی اہداف کا پتہ چلنے کے ساتھ ہی یہ بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ بحران شام کے پیچھے امریکہ و اسرائیل کا ہاتھ ہے- مارچ دوہزارگیارہ میں شام میں بدامنی پیدا ہونے کے بعد سے صیہونی حکومت اور اس کی حامی مغربی و بعض عرب حکومتیں شامی عوام کے احتجابی مظاہروں سےغلط فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشتگردوں اور بلوائیوں کی حمایت کے ساتھ ہی اس ملک میں بدامنی و بحران کا سہارا لے رہی ہیں - یہ ایسی حالت میں ہے کہ صیہونی حکومت شام میں فوجی حملے جاری رکھ کر شام کو داخلی بحران میں الجھانے اور اس ملک کی تقسیم  پر مبنی مغرب کے اسٹریٹیجک اہداف کی غرض سے اس ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کررہی ہے-

تل ابیب کا ایک مقصد شامی فوج کو پورے ملک پر اپنا کنٹرول قائم کرنے میں کامیابی حاصل کرنے سے روکنا ہے- لیکن علاقے کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ دمشق اپنے اتحادیوں کی حمایت سے آخرکار شام کو دہشتگرد گروہوں سے پوری طرح پاک کرکے ہی دم لے گا چاہے یہ ہدف فوجی کارروائیوں سے حاصل ہو یا سفارتکاری کے ذریعے پورا ہو اور صیہونی حکومت کی شیطنت و شرارت اور اس کی حامی مغربی حکومتیں بھی کچھ نہیں کر پائیں گی- لیکن اس بیچ صیہونی حکومت کی جارحیتوں کے مقابلے میں اقوام متحدہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حکام کی خاموشی ، بین الاقوامی قوانین کی پامالی اور اس کے نتیجے میں علاقائی و عالمی امن و سیکورٹی پہلے سے زیادہ خطرے میں پڑ جانے کا باعث ہوئی ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جس کی جانب بشارالجعفری نے اشارہ کیا ہے-

ٹیگس

Sep ۱۹, ۲۰۱۸ ۱۹:۲۸ Asia/Tehran
کمنٹس