• امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیوں پر عراقیوں کا ردعمل

عراق کے ”الفتح“ اتحاد کی رکن اور ممبر پارلیمنٹ انتصار الموسوی نے امریکہ اور غاصب اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ عراق کی الحشدالشعبی اور استقامتی فورس کے خلاف ان کی ہر جارحیت اور دھمکی کا منہ توڑ اور دردناک جواب دیا جائے گا۔

 

غاصب اسرائیل کے وزیر جنگ ایویڈگور لیبرمین Avidgor Lieberman نے حال ہی میں دھمکی دی تھی کہ وہ عراق کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کریں گے۔ عراقی رکن پارلیمان انتصار الموسوی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل الحشدالشعبی اور اسلامی استقامتی فورس کے ہاتھوں شکست کھانے والی دہشت گردی کو واپس لا کر دوبارہ قبضہ کرنے کے درپے ہیں۔ دسمبر سنہ 2017ع میں عراق میں داعش کے خاتمہ کے بعد عراقی عوام، پارٹیاں، شخصیات اور ذرائع ابلاغ  امریکی فوجیوں سمیت عراق سے غیرملکی افواج کے انخلا کے خواہاں ہیں لیکن امریکہ، جو دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے قالب میں عراق میں دوبارہ پہنچ گیا ہے، نہ صرف عراق سے واپس جانے کے لئے تیار نہیں ہے بلکہ اس نے عراقی عوام کے خلاف اپنی دھمکیوں اور منفی اقدامات میں اضافہ کردیا ہے۔ امریکہ عراق میں اپنے فوجی اڈوں کو مضبوط کرکے، جو کام اس نے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد مقابلہ کے قالب میں انجام دیا ہے، عراق میں اپنے مداخلت پسندانہ اقدامات اور غاصبانہ پالیسی کے احیا کے درپے ہے۔ امریکہ کی سربراہی میں دہشت گردی سے مقابلہ کے نام نہاد بین الاقوامی اتحاد کی کارکردگی پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اور مغربی حکومتوں نے اس اتحاد کے ذریعہ دہشت گردوں کے خلاف کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا ہے بلکہ دہشت گردوں کے ساتھ اس اتحاد کے ایک طرح کے تعاون کی بہت سی اطلاعات ہیں۔

ادھر عراق اور شام میں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد اتحاد کے حملوں کے دوران ہمیشہ عام شہریوں، بنیادی تنصیبات اور عوامی رضاکار فورس کے اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور واحد چیز جس کے خلاف اس اتحاد نے کچھ نہیں کیا ہے وہ دہشت گردی ہے جسے امریکہ اور مغرب کی خفیہ اور آشکار حمایت حاصل ہے۔

دریں اثنا شام کے وزیر خارجہ ولید معلم نے ابھی چند دن پہلے دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں امریکی کارکردگی پر تنقید کی۔ ولید معلم نے کہا کہ شام میں امریکہ کی سربراہی میں بین الاقوامی اتحاد دہشت گرد گروہ داعش کے علاوہ ہر چیز کو برباد کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ منصوبہ بند طریقے سے اور جنگ کو طول دینے کی غرض سے شام کی بنیادی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکی سربراہی والے بین الاقوامی اتحاد نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ اگست سنہ 2014ع سے عراق اور شام میں ہونے والے اس اتحاد کے حملوں میں 1114 عام شہری مارے گئے ہیں۔

شام میں امریکی سربراہی والے دہشت گردی کے خلاف نام نہاد اتحاد نے خودسرانہ اقدامات بھی کئے ہیں اور امریکہ کے مداخلت پسندانہ اقدامات نے علاقہ میں غاصب اسرائیل کی مہم جوئی کی توسیع کی راہ بھی ہموار کی ہے۔ یہ عمل عراق سمیت خطہ کے دیگر ممالک پر حملوں میں تیزی کے لئے غاصب صیہونی حکومت کو اشارے ملنے کے مترادف ثابت ہوا ہے اور عراق کے خلاف  حالیہ دنوں میں غاصب صیہونی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کی دھمکیاں بھی اسی تناظر میں دیکھی جاسکتی ہیں البتہ خطہ کے حالات اور امریکہ کی من مانی اور غاصب اسرائیل کی دھمکیوں نیز مہم جویانہ حرکات کے خلاف استقامتی فورس کے ٹھوس اقدامات اس بات کے غماز ہیں کہ امریکہ کی من مانی اور اسرائیل کی ”مارو اور بھاگ جاؤ“ والی پالیسی کا دور گزر چکا ہے اور علاقہ کی اقوام ان کے ہر اقدام کا منہ توڑ جواب دیں گی۔

 

ٹیگس

Oct ۰۷, ۲۰۱۸ ۱۹:۵۶ Asia/Tehran
کمنٹس