• ہیلی کا استعفی اور ٹرمپ حکومت کی خارجہ پالیسی کا رخ

ٹرمپ حکومت میں استعفی دینے کا جاری سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ تازہ خبر کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے بھی استعفی دے دیا ہے۔

نکی ہیلی نے وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس میں کہ جس میں ٹرمپ بھی موجود تھے، اپنے استعفے کی وجہ آرام کرنے کی ضرورت قرار دیا ہے تاہم جس طرح اس خبر کا کہ جس سے امریکی حکومت کے اعلی حکام بھی بے خبر تھے، اعلان کیا گیا، کچھ شکوک و شبہات پیدا ہوئے ہیں - بعض قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ روس اور شمالی کوریا کے موضوعات پر ٹرمپ اور نکی ہیلی کے درمیان اختلافات ، آخرکار ٹرمپ حکومت سے نیکی ہیلی کے استعفے پر منتج ہوئے-

حتی بعض ذرائع ابلاغ نے یہ گمان بھی ظاہر کیا ہے کہ نکی ہیلی نے ہی نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے اس مقالے کو لکھا تھا جس کا عنوان تھا " میں ٹرمپ حکومت میں مزاحمت کی جڑ کا ایک حصہ ہوں" اس کے باوجود ، پریس کانفرنس میں جس طرح ٹرمپ اور ہیلی ایک دوسرے کی پرزورتعریف و تمجید کررہے تھے اس سے اقوام متحدہ میں امریکہ کی اس مندوب اور امریکی صدر کے درمیان پس پشت تنازع کا امکان کم نظر آتا ہے-

ہرچند ممکن ہے نیکی ہیلی اور امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے مشیر اور قوم پرست دھڑے کے نمایاں نمانئدے جان بولٹن کے درمیان امریکہ کی خارجہ پالیسی کی سمت کے بارے میں اختلاف نے اقوام متحدہ میں اس ملک کی مندوب کو استعفے پرمجبور کیا ہو- جبکہ یہ شکوک بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل نمائندگی کے دوران بعض بدعنوانیوں کی بنا پر مالی اسکینڈل سامنے آنے کے سلسلے میں ٹرمپ اور ہیلی کی تشویش  ان کے استعفے کی ایک وجہ ہوسکتی ہے-

بہرحال نکی ہیلی کے استعفے کی خفیہ و آشکارا وجوہات سے قطع نظر اتنا ضرور ہے کہ ٹرمپ حکومت میں دنیا سے جنگجویانہ فکر رکھنے والا ایک اصلی اور جانا پہچانا چہرہ ، امریکہ میں فیصلہ کن دھڑے سے باہر نکل گیا- نکی ہیلی نے اقوام متحدہ میں  گذشتہ تقریبا ڈیڑھ برس کی امریکی نمائندگی کے دوران اس ادارے کے قوانین اور بین الاقوامی تعلقات میں تنازعات کھڑے کئے- انھوں نے اسرائیل کے سلسلے میں اقوام متحدہ پر بارہا ریاکاری کا الزام لگایا یہاں تک کہ امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کے مسئلے میں ممالک سے غنڈہ ٹیکس وصولنے سے بھی دریغ نہیں کیا-

نکی ہیلی نے اس زمانے میں دھمکی دی کہ اگررکن ممالک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کے خلاف مذمتی بل کے حق میں ووٹ دیں گے تو وہ امریکہ کی مالی مدد سے محروم ہوجائیں گی- اس کے باوجود صرف دنیا کے پانچ ملکوں نے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کے سلسلے میں امریکہ و اسرائیل کا ساتھ دیا - نکی ہیلی، پیرس معاہدے اور ایران کے ساتھ ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے باہر نکلنے کی مذمت میں عالمی برادری کے موقف کو تبدیل کرانے کی کوشش میں بھی ناکام رہیں-

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نیکی ہیلی کی برطرفی پر ردعمل میں کہا ہے کہ امید ہے کہ ہیلی کا حیران کن استعفی اقوام متحدہ میں امریکہ کی نمائندگی اور غیرسرکاری اداروں کے درمیان نہایت کمزور تعلقات کے خاتمے پر منتج ہو اور ان کا جانشین ان تعلقات کی اصلاح کی کوشش کرے-

اس کے باوجود ڈونالڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس میں برسراقتدار بین الاقوامیت مخالف دھڑے کے عالمی حقائق کے بارے میں نظریات اور امریکہ فرسٹ کے نعرے کو عملی جامنہ پہنانے پر اصرار کے پیش نظر ، نکی ہیلی کی برطرفی سے امریکی حکومت کے رویے میں تبدیلی کی کوئی خاص امید نہیں ہے-

ٹیگس

Oct ۱۰, ۲۰۱۸ ۱۵:۰۱ Asia/Tehran
کمنٹس