• امریکہ کے دوستوں اور دشمنوں پر ٹرمپ کا حملہ

جنوری سنہ 2017 میں ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکی صدارتی عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ٹرمپ کے اقدامات اور پالیسیوں کی وجہ سے عالمی پیمانہ پر بہت سی اور مختلف قسم کی کشیدگی نے جنم لیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کے دوستوں اور دشمنوں کو بارہا شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسی وجہ سے مشرقی ایشیا کے ساتھ امریکہ کے تعلقات نیز بحراطلس علاقہ کے ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدگی کا شکار ہوگئے ہیں۔

امریکہ کو بعض بین الاقوامی معاہدوں سے الگ کرنے کا ڈونالڈ ٹرمپ کا اقدام علاقائی اور بین الاقوامی پیمانہ پر کشیدگی پیدا ہونے کا سبب بنا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ یک طرفہ اور پوری طرح سے آمرانہ پالیسیوں پر عمل کرکے دیگر ممالک پر اپنے مختلف مطالبات اور مفادات مسلط کرنے کے درپے ہیں۔

فرانسیسی محقق ماری سیسیل ناو کا کہنا ہے کہ ”ٹرمپ کی پالیسیاں تکبر، فریب اور دھونس دھمکی پر مبنی ہیں اور یہ انہیں سے مخصوص ہیں۔“ ادھر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکی ریاست آئیووا کے ایک شہر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دیگر ممالک کے ساتھ اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امریکہ کے دوستوں اور دشمنوں کو ہدفِ تنقید بنایا اور ان کی سرزنش کی۔ ٹرمپ نے یورپی یونین، نیٹو، جرمنی، چین، جاپان، جنوبی اور شمالی کوریا، سعودی عرب اور ایران کے بارے میں اپنی حکومت کی پالیسیوں کو دوہرایا اور دیگر ممالک کے بارے میں امریکی حکومت کی خارجہ پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعویٰ  کیا کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ایک بار پھر امریکہ کو احترام کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر نے اپنی تقریر میں یورپی ممالک کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”اگرچہ یورپ بظاہر اچھا اور خوبصورت ہے لیکن  بے رحم ہے اور یورپی یونین ہم سے فائدہ اٹھانے کے لئے تشکیل پائی ہے۔

ٹرمپ نے چین کے خلاف ایک بار پھر تُند و تیز رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان برسوں کے غیر منصفانہ تجارتی تعلقات کے نتیجے میں چین نے امریکہ سے اربوں ڈالر کی کمائی کی ہے لیکن میرا دورِصدارت شروع ہونے کے بعد یہ عمل ختم ہوچکا ہے۔ ٹرمپ نے چاپان اور جنوبی کوریا پر بھی تنقید کی اور دعویٰ  کیا کہ امریکہ ان کی حفاظت کی قیمت ادا کر رہا ہے اور یہ کہ جاپان امریکہ سے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے۔ امریکی صدر نے ایک بار پھر سعودی عرب کے ذریعہ امریکہ کو پیسہ ادا کرنے کی ضرورت کو دوہرایا اور کہا کہ ”ہم نے جو کام کیا وہ یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز کے عوض دولت مند ممالک کی حفاظت کی ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر کا ایک حصہ ایران سے مختص کیا اور جامع ایٹمی معاہدہ سے امریکہ کی غیر قانونی علیحٰدگی اور اپنی حکومت کی ایران مخالف پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ”میرے صدر بننے سے پہلے ایران صرف 12 منٹ میں پورے مشرق وسطیٰ  کو اپنے کنٹرول میں لے سکتا تھا۔“ ٹرمپ نے اس کے ساتھ ہی یہ دعویٰ  کیا کہ وہ ہارڈ پاور سے استفادہ کر کے  قوی ترین فوج تیار کر رہے ہیں۔

ڈونالڈ ٹرمپ کی یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ وہ پوری دنیا کو امریکہ کا مقروض سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ کے بقول چین اور یورپ سمیت دنیا کے ایک حصے کے ممالک نے امریکہ سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور ایک دوسرے حصے کے، چاپان، جنوبی کوریا اور سعودی عرب جیسے امریکہ کے علاقائی اتحادی ممالک نے امریکہ سے مفت استفادہ کیا ہے۔

دوسری طرف ٹرمپ ایران کے بارے میں غلط دعویٰ  کرکے علاقے میں ایرانو فوبیا کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ ”پہلے امریکہ“  کے نعرے کے تحت امریکی مفادات کو اولیت دے کر اور دیگر ممالک کے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ ان کی یک طرفہ اور مفاد پرستانہ پالیسیاں اپنے حریفوں پر امریکی غلبہ کا سبب بنیں گی۔  بہرحال، امریکی صدارت کا عُہدہ سنبھالنے کے بعد ٹرمپ کی پالیسیوں کے نتائج پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی یک طرفہ اور تسلط پسندانہ پالیسیاں صرف دنیا میں امریکہ کی روز افزوں تنہائی کا سبب بنی ہیں۔

 

ٹیگس

Oct ۱۱, ۲۰۱۸ ۱۷:۵۴ Asia/Tehran
کمنٹس