Nov ۰۶, ۲۰۱۸ ۱۵:۲۲ Asia/Tehran
  • ایران کے خلاف امریکہ کی نئی نفسیاتی جنگ

ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے نکلنے کے بعد پانچ نومبر دوہزار اٹھارہ سے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا نیا دور شروع ہوگیا ہے اور اس طرح ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے واشنگٹن کے کارزار کے نئے پہلو سامنے آگئے ہیں- امریکی صدر ٹرمپ نے ایٹمی سمجھوتے پر بارہا شدید تنقید کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ شدید پابندیوں کا نفاذ تہران کو واشنگٹن کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کر دے گا-

اس سلسلے میں امریکی وزیرخارجہ مائک پمپؤ نے پیر کو اس ملک کے وزیرخزانہ اسٹیو منوچین کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر شدید پابندیوں کا اعلان کیا- پمپؤ نے ایران کے خلاف اپنے سابقہ بے بنیاد دعؤوں کو دہراتے ہوئے ان پابندیوں کا مقصد نیا ایٹمی سمجھوتہ تسلیم کرنے کے لئے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا اور ایران کو معمول کا رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرنا بتایا- امریکی وزیرخارجہ کی معمول کے رویّے سے مراد واشنگٹن کے زیادہ پسندی پر مبنی مطالبات کو تسلیم کرنا اور امریکہ کےعلاقائی اثرو نفوذ کے دائرے میں آنا ہے- اس تناظر میں امریکہ کی وزارت خزانہ نے بین الاقوامی معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برخلاف سات سو سے زیادہ افراد اور کمپنیوں کے نام ایران مخالف یکطرفہ پابندیوں کی فہرست میں شامل کردیے ہیں - امریکہ کی وزارت خزانہ کے ایران دشمن اس اقدام سے ان افراد اور اداروں کی تعداد کہ جن پر ٹرمپ حکومت میں دوسال سے کم عرصے میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں ، نو سو سے زیادہ ہوگئی ہے- اس کے ساتھ ہی امریکہ کی وزارت خزانہ نے دوسوپچاس افراد اور ان کے اثاثوں کو مخصوص غیرملکیوں اور پابندیوں کا شکار افراد کی فہرست میں شامل کردیا ہے- ٹرمپ حکومت کا یہ اقدام اور ایٹمی  پابندیوں کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد شروع ہونے کے فورا بعد اس کا اعلان ، ایران کے خلاف امریکہ کی بڑے پیمانے پرنفسیاتی جنگ کے تناظر میں امریکی پابندیوں کو شدید ظاہر کرنے اور ایرانی حکام و قوم کا حوصلہ پست کرنے کی غرض سے کیا گیا ہے-

درحقیقت ٹرمپ حکومت، ان پابندیوں کو بڑا ظاہر کرنے پر اتنا تاکید کر رہی ہے کہ اس نے اس سلسلے میں عجیب وغریب ڈینگیں ماری ہیں- امریکی وزارت خزانہ کی پابندیوں کی فہرست میں تات بینک کا نام بھی شامل ہے جبکہ یہ بینک گذشتہ چھے برس سے اپنا نام تبدیل کرچکا ہے اسی طرح سانچی بحری جہاز کا نام بھی پابندیوں کی فہرست میں ہے جبکہ یہ جہاز گذشتہ برس غرق ہوچکا ہے- امریکہ نے اپنی پابندیوں کی فہرست میں ہربل دوائیں اور ملیٹھی برآمد کرنے والی ایک کمپنی کو بھی شامل کررکھا ہے - ان مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کی وزارت خزانہ نے درحقیقت اندھا دھند طریقے سے شخصیات اور قانونی اداروں حتی طیاروں اور بحری جہازوں کو بھی اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے-

 امریکہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے تاہم واشنگٹن اور تہران کے خلاف اس سے پہلے کی مقابلہ آرائی سے پتہ چلتا ہے کہ امریکیوں کو پابندیوں کے اقدام  سے کبھی بھی کچھ حاصل نہیں ہوا ہے- ایران کے نائب وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیوں کے مقابلے میں یورپ کی استقامت اور کسی طریقہ کار کی کوشش سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ اپنے اہداف میں ناکام ہوجائیں گے- درحقیقت ٹرمپ حکومت کی یہ امید کہ زیادہ سے زیادہ دباؤ ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کردے گا ایک لاحاصل امید ہے خاص طور سے ایسی حالت میں کہ جب بین الاقوامی طاقتیں بالخصوص یورپی اتحاد اور روس و چین ایٹمی سمجھوتے کی حمایت اور اس بین الاقوامی معاہدے کے باقی رہنے پر تاکید کرتے ہیں اور یورپ اس سلسلے میں بلاکنگ رول اور امریکی پابندیوں کے اثرات کم کرنے کے لئے خصوصی مالی ٹرانزکشن کے طریقہ کار سمیت عملی تدابیر مدنظر رکھے ہوئے ہے-

ٹیگس

کمنٹس