• ایران سے گیس کی خریداری جاری رکھنے پر ترکی کی تاکید

ترکی کے وزیر توانائی نے اسلامی جمہوریہ ایران سے گیس کی خریداری جاری رکھے جانے پر تاکید کی ہے-

فاتح ڈونمز  (Fatih Donmez) نے کہا کہ انقرہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ایندھن کے شعبے میں طویل المدت معاہدہ کیا ہوا ہے اور انقرہ کو توانائی کے ذخائر کی ضرورت ہے۔ ترکی کے وزیر توانائی نے مزید کہا کہ ایران کو گوشہ نشیں کرنے کے لئے اس کے خلاف امریکہ کی جانب سے پابندیاں عائد کیا جانا اور امریکہ کی ہٹ دھرمانہ پالیسیاں بے نتیجہ اور بیہودہ ہیں- 

امریکہ نے ایران سے تجارت کرنے والے فریق ملکوں سے کہا ہے کہ وہ نومبر کے مہینے تک تہران سے تیل کی خریداری بند کر دیں اور اس سلسلے میں کسی بھی ملک کو استثنی حاصل نہیں ہے۔ واشنگٹن، تہران پر دباؤ بڑھانے کے لئے اس کوشش میں ہے کہ ایران کے خام تیل کی فروخت کو صفر تک پہنچا دے۔ درحقیقت امریکہ کی جانب سے، دیگر ملکوں کو ایران کے تیل کی خریداری سے روکنے کی کوشش، ملکوں کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی واشنگٹن کی کلی پالیسی کے دائرے میں انجام پا رہی ہے۔ بالفاظ دیگر ہر وہ ملک جو امریکی مطالبات کے سامنے جھک جائے، گویا اس نے عملی طور پر اپنی خودمختاری کا اس تسلط پسند ملک کے ساتھ سودا کرلیا ہے۔  جبکہ ان ملکوں کو امریکی مطالبات کے سامنے جھکنے سے عملی طور پر کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس سے قبل بھی ترکی کے وزیر توانائی نے کہا تھا کہ انقرہ ، ایران کی پابندیوں کے تعلق سے، صرف اقوام متحدہ کے فیصلوں کا تابع ہوگا۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی یہ بات کہی ہے کہ امریکی حکام کی یہ سوچ کہ ایران پر دباو ڈال کر اور پابندیاں عائد کر کے وہ تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے تو یہ سراسر غلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر پابندیاں عائد کرنے سے متعلق امریکی حکام کی پالیسی، ناکامی سے دوچار ہوگی اس لئے بہتر ہے کہ وہ ایران کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرتے ہوئے اسے بدل دیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، غیرقانونی پابندیاں عائد کرکے اور عالمی برادری پر دباؤ ڈال کر ایک نفسیاتی جنگ چھیڑنے اور ایران کو الگ تھلگ کرنے کے درپے ہیں۔ 

اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی لکھا ہے کہ ایران کے خلاف پابندیاں ‏عائد کرنے کی امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیاں ناکام رہی ہیں- مذکورہ اخبار نے پانچ نومبر سے ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیوں کے نفاذ  کے بارے میں لکھا ہے کہ ایران مخالف امریکی پابندیوں کو متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے اور جب تک ان پابندیوں اور ان کے نفاذ کے طریقہ کار میں قابل ذکر حد تک تبدیلیاں نہیں آجاتیں، ایران کے بارے میں ٹرمپ کی پالیسیاں ناکام رہیں گی-

اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی خبر دی ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت میں سوئیفٹ کی جگہ نئے مالی نظام کے قیام پر مبنی یورپی ملکوں کے تازہ ترین اقدامات کے بعد امریکی حکومت، ایران کے خلاف پابندیوں کے نفاذ کے سلسلے میں بری طرح پھنس گئی ہے- اس درمیان فرانس کی سینیٹ میں یورپی امور کے کمیشن نے ایران کے بارے میں امریکا کی نئی پابندیوں کو یورپ کی قانونی اور اقتصادی خود مختاری کے لئے ایک بڑی آزمائش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یورپی ملکوں کو چاہئے کہ وہ اس چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کریں-

 اس درمیان یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کا شمار ترکی کے دس اہم تجارتی شریکوں میں ہوتا ہے اور یہ دونوں ملک تاریخی لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ  بہت مستحکم روابط رکھتے ہیں۔ اعداد و شمار سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی لین دین کا حجم ، سالانہ نو ارب ڈالر سے زیادہ رہا ہے۔ ایران اوسطا ، یومیہ تیس ملین میٹر مکعب گیس ترکی برآمد کرتا ہے۔ ایران کا ترکی کے ساتھ سالانہ معاہدہ ہے کی جس کی بنیاد پر، ایک سال کے دوران معینہ مقدار میں گیس ایران ، ترکی کو برآمد کرتا ہے۔ 2016 میں ایران سے ترکی کے لئے گیس کی برآمدات کا حجم، آٹھ ارب مکعب میٹر تھا جبکہ رواں سال کے ابتدائی چھ مہینوں میں تقریبا پانچ ارب چار سو ملین مکعب میٹر گیس ایران سے ترکی برآمد کی گئی ہے۔ 

مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کے ماہرین حتی مغربی ماہرین نے بھی اس بات کا  اعتراف کیا ہے کہ امریکہ کو گذشتہ چار عشروں کی مانند، ایک بار پھر ایران کے خلاف پابندیوں کی پالیسیوں میں سخت شکست اور ہزیمت کا سامنا ہوگا۔ جب تک امریکہ ایران  کے خلاف پابندیوں کا حربہ استعمال کرتا رہے گا، زیادہ تر ممالک اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لئے، امریکی پالیسیوں سے دوری اختیار کریں گے-       

ٹیگس

Nov ۱۰, ۲۰۱۸ ۱۶:۱۷ Asia/Tehran
کمنٹس