Dec ۰۱, ۲۰۱۸ ۱۷:۱۳ Asia/Tehran
  • پوتین کی ایک بار پھر ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ پر تاکید

روس، گروپ چار جمع ایک کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے ہمیشہ ہی ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ کی ضرورت اور ایران کی جانب سے اس معاہدے کی مکمل پابندی کئے جانے پر تاکید کرتا رہا ہے -

ماسکو نے اس کے ساتھ ہی ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے باہر نکلنے اور ایران کے خلاف دوبارہ امریکی پابندیوں کے نفاذ کی بھی مذمت کی ہے-

اس سلسلے میں روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے ارجانٹائن میں گروپ بیس کے اجلاس میں ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ پر تاکید کی اور کہا کہ ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں کشیدگی کی نئی لہر شروع ہونے کا امکان نہیں رہے گا بنا برایں ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ کے لئے تمام ضروری اقدامات بروئے کار لانا چاہئے-

پوتین نے اس سے پہلے بھی با رہا ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ پر تاکید کی ہے - گروپ چار جمع ایک کے رکن کی حیثیت سے روس کا خیال ہے کہ ایٹمی سمجھوتہ ، علاقائی و عالمی امن و سیکورٹی کے تحفظ میں ایک کامیاب سمجھوتہ رہا ہے اوراس سمجھوتے کا تحفظ ، ایٹمی پھیلاؤ کی روک تھام کے تناظر میں ایک اہم قدم اور عدم استحکام کو روکنے کا ضامن شمار ہوتا ہے- البتہ ماسکو نے مئی دوہزار اٹھارہ میں ایٹمی سمجھوتے سے امریکہ کے باہر نکلنے کے غیر قانونی اقدام اور ایران کے خلاف ایٹمی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے کی لفظی مذمت پر ہی اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی پابندیوں کا مقابلہ کرنے اور ایران کو ایٹمی سمجھوتے میں باقی رکھنے کے لئے کچھ اقدامات اور تدابیر بھی کی ہیں-

ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی میں روس کے مندوب میخائیل اولیانوف کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کر کے اقتصادی غنڈہ ٹیکس لینے اور ڈرانے  و دھمکانے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے- ایران کو توقع ہے کہ یورپ کے ساتھ ہی روس اور چین کے اقدامات کہ جو گروپ چار جمع ایک کا حصہ ہیں، اتنے موثر ضرور ہونے چاہئے کہ جس سے ایران کو ایٹمی سمجھوتے میں باقی رہنے کی ترغیب ملے - اس سلسلے میں روس کے اعلی حکام نے ایران کے ساتھ تجارتی امور انجام دینے اور روسی سوئفٹ سے استفادے کے امکان کے لئے ایران اور روس کے درمیان ایک اہم معاہدے کی بات کی ہے-

روسی پارلیمنٹ ڈوما میں مالی امور کے کمیشن کے سربراہ آناتولی اکساکوف کا کہنا ہے کہ ماسکو ، روسی سوئفٹ میں فعالیت کے لئے ایران کے سینٹرل بینک، ترکی اور چین کے ساتھ بھی مذاکرات کررہا ہے- روس نے اعلان کیا ہے کہ یہ ممالک اپنی مالی ٹیکنالوجی کو ہماہنگ کریں تاکہ روسی سوئفٹ میں مالی اطلاعات بھیجنے کے اندرونی سسٹم سے استفادے میں کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو- ایٹمی سمجھوتے کی حفاظت کے لئے گروپ چار جمع ایک کے اراکین کے اقدامات سے قطع نظر اس پر بھی تاکید کرنا چاہئے کہ ایران نے گذشتہ چالیس برسوں میں امریکہ کی ظالمانہ پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے طریقہ کار کو بخوبی سیکھ لیا ہے جس سے روس جیسے بعض ممالک کہ جنھیں واشنگٹن کی پابندیوں کا سامنا ہے، اس سلسلے میں تہران کے تجربات سے استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں - ایٹمی سمجھوتے سے باہر نکلنے کے امریکی رویے کی بنیاد صرف یکجانبہ پسندی ، منھ زوری اور دوسرے ملکوں پر اپنے مطالبات مسلط کرنا ہے لہذا اگر روس سمیت دیگر بین الاقوامی طاقتیں ایٹمی سمجھوتے کا تحفظ چاہتی ہیں تو انھیں واشنگثن کے متکبرانہ وجارحانہ رویے کا مقابلہ کرتے ہوئے ایران کے قانونی حقوق کا دفاع  کرنا چاہئے- خاص طور سے ایسی حالت میں کہ تہران نے تاکید کی ہے کہ وہ اسی وقت تک ایٹمی سمجھوتے کی پابندی کرے گا جب تک اس کے مدنظر مفادات خاص طور سے امریکہ کی غیرقانونی پابندیوں کے اثرات کم رہیں گے - 

ٹیگس

کمنٹس