• تہران میں چھ ملکی اسپیکرز کانفرنس، دہشتگردی کے چیلنجز سے مقابلے اور علاقائی تعاون پر تبادلہ خیال

ایران، پاکستان، افغانستان، ترکی، چین اور روس کی پارلیمانوں کے اسپیکروں کی دوسری سالانہ کانفرنس ہفتے کو تہران میں شروع ہوئی اس کانفرنس کا موضوع دہشت گردی کا مقابلہ اورعلاقائی سطح پرتعلقات کو مستحکم بنانا ہے۔

 ماضی کے تجربات اور موجودہ اسٹریٹیجی کے پیش نظر دہشت گردی سے مقابلے کے لئے ایک نیا اور موثر علاقائی نقطہ نظر اپنایا جانا، نیز علاقائی ملکوں کے درمیان  باہمی تعلقات اور تعاون کو فروغ دینا اور اسے مستحکم کرنا وہ موضوعات ہیں کہ جن کا اس کانفرنس میں جائزہ لیا جا رہا ہے-

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر ''حسن روحانی'' نے ہفتے کے روز تہران میں 6 ملکی اسپیکرز کانفرنس کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک نے چین کے خلاف تجارتی جنگ چھیڑ رکھی ہے، جو پاکستان کو طعنہ دیتا ہے، افغانستان کی توہین کرتا، ترکی کی تنبیہ کرتا، روس کو دھمکی دیتا اور ایران پر پابندیاں لگاتا ہے، وہ دنیا میں باہمی تعلقات کو نابود کرنے والا اصلی مجرم ہے-انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمیں ایک دوسرے سے الگ کر سکتا ہے تو وہ خام خیالی کا شکار ہے، ہم آج یہاں اکھٹا ہیں تا کہ یہ بات ببانگ دہل کہیں کہ ہم مزید گستاخی کو برداشت نہیں کریں گے اور اس کے خلاف مقابلہ کریں گے- اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دہشتگردی سے ایرانی قوم اور حکومت کے عزم متاثر نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی ہوں گے-

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے بھی تہران میں علاقے کے چھے ملکوں کے  پارلیمانی سربراہوں کی دوسری کانفرنس میں تقریرکرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے انسانی حقوق کے اداروں کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور دیگر ملکوں میں انہوں نے مایوسی پیدا کی ہے۔ 

اسلامی جمہوریہ ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے چین کے پارلیمنٹ اسپیکر "چن زو Chen Zhu " کے ساتھ ملاقات میں بھی کہا ہے کہ امریکہ نے داعش دہشت گرد گروہ کے افراد کی ایک بڑی تعداد کو افغانستان منتقل کردیا ہے اور یہ مسئلہ ممکن ہے ایشیا کے دیگر ملکوں کے لئے بھی وہی حالات پیدا کردے جو عراق اور شام میں رونما ہوچکے ہیں-

تہران اجلاس میں علاقے کے با اثر اور اہم ملکوں کی سطح پر پارلیمانی اسپیکرز کی موجودگی، اور اس اجلاس میں موضوع بحث مسائل، علاقائی سیکورٹی کو نئی جہت دینے کے آئینہ دار ہیں- تجربے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ علاقے کے بعض ملکوں کے رویے اور اغیار کی مداخلت، عملی طور پر عالمی طاقتوں کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کوعملی جامہ پہنانے کے ایک ہتھکنڈے میں تبدیل ہوگئی ہے-

اس قسم کے رویے نہ صرف علاقےمیں سلامتی کی برقراری میں کوئی کردار نہیں رکھتے بلکہ علاقے کی سلامتی کو مشکلات اور خطرات سے دوچار کررہے ہیں- ثبوت و شواہد سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکی طیاروں نے معینہ مقامات پر دہشت گردوں کی موجودگی کا علم ہونے کے باوجود، ان کے خلاف فضائی حملے نہیں کئے بلکہ بعض مواقع پر ان کی مدد بھی کی ہے اور ان کو ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد فراہم کئے ہیں اور یہی نہیں بلکہ داعش کے سرغنوں کو شام اور عراق کی فوجوں کے محاصرے سے نجات دلائی ہے-

دہشت گردی سے مقابلہ اور اسی طرح علاقے کو بدترین حالات سے دوچار کرنے والے اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لئے، مشترکہ طریقہ کار اپنانے کی ضرورت کے پیش نظر علاقے کی موجودہ صورتحال میں تہران اجلاس کے انعقاد کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے- ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی کا خطرہ ابھی بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے- اس کی واضح مثال جمعرات کو، جنوب مشرقی ایران کے شہر چابہار میں رونما ہونے والا دہشت گردانہ واقعہ ہے- 

چابہار کے دہشت گردانہ حملے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ علاقےمیں بدامنی پھیلانے کے لئے منظم کوششیں جاری ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر دہشت گردی سے مقابلے کے جھوٹے دعویداروں کے دوہرے معیار کو سب پر برملا کردیا ہے اور دہشت گردوں کے لئے جاری ان کی حمایت سب پر عیاں ہوگئی ہے-

واضح رہے کہ گزشتہ سال پاکستانی تجویز کے مطابق، اسپیکرز کانفرنس کے پہلی بار انعقاد کے بعد پاکستان اس فورم کا صدر تھا- پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے چھے ملکوں کی پارلیمانوں کے اسپیکروں کی سالانہ کانفرنس کی صدارت ایرانی اسپیکر کے سپرد ہونے کا ذکرکرتے ہوئے اس اطمینان کا اظہار کیا کہ ایران کی پارلیمنٹ اس کانفرنس کو بہترین نتائج سے بہرہ مند کرے گی۔ 

 

      

ٹیگس

Dec ۰۸, ۲۰۱۸ ۱۷:۰۳ Asia/Tehran
کمنٹس