Jan ۰۲, ۲۰۱۹ ۱۶:۵۳ Asia/Tehran
  •  ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ پر موگرینی کی تاکید

ایٹمی سمجھوتہ بین الاقوامی سلامتی اور امن کے تحفظ کے سلسلے میں ایک نہایت اہم سمجھوتہ شمار ہوتا ہے لیکن مئی دوہزار اٹھارہ میں اس سے امریکہ کا نکلنا اس سلسلے میں ایک منفی تبدیلی تھی -

امریکہ کے اس اقدام پر ایٹمی سمھجوتے کے دیگر فریقوں نے اس کی افادیت کے پیش نظر اس معاہدے میں ایران کو باقی رکھنے کے لئے عملی و موثر تدابیر اختیار کرنے پر تاکید کی ہے -

یورپی یونین کا خیال ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کے درہم برہم ہونے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے اور یورپ کی سفارتکاری پربھی سوال اٹھیں گے- یہ تحفظات باعث بنے ہیں کہ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ فیڈریکا موگرینی اور یورپی حکمراں اس کی افادیت کی بنا پر ایٹمی سمجھوتے کی حفاظت کے خواہاں ہیں-

فیڈریکا موگرینی نے پہلی جنوری دوہزار انیس کو ایک بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کو ڈھائی سال کا عرصہ گذرنے کے باوجود یہ معاہدہ بدستور باقی ہے اور ایران کے ایٹمی پروگرام کے پوری طرح غیرفوجی ہونے کا ضامن ہے- لہذا واشنگٹن کی نفسیاتی جنگ اور دھمکیوں کے باوجود بریسلز نے ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ کے سلسلے میں اپنے اقدامات جاری رکھنے پر تاکید کی ہے- اس سلسلے میں موگرینی نے ایک مقالے میں ایٹمی سمجھوتے کی حفاظت کے لئے یورپی یونین کی کوششوں کو دوہزار اٹھارہ کا ایک سب سے اہم واقعہ قرار دیا اور تاکید کی کہ دوہزارانیس میں بھی خصوصی مالی ٹرانزکشن سسٹم ایس پی وی کے لئے کام جاری رہے گا- 

یورپی یونین کی نگاہ میں ایٹمی سمجھوتہ ایک چند جانبہ مثالی سمجھوتہ ہے جو دیگر بین الاقوامی مسائل کے حل کے لئے ایک آئیڈیل اور ماڈل بن سکتا ہے- اسی بنا پر یورپی یونین ایران کے ساتھ مالی لین دین اور تجارت کے لئے بلاکنگ قانون کو دوبارہ شروع کرنے اور خصوصی مالی نظام قائم کرنے جیسے طریقے اختیار کرنا چاہتا ہے-

پانچ نومبر دوہزار اٹھارہ سے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا دوسرا دور شروع ہوجانے کے باوجود اب تک یورپ کے خصوصی مالی نظام اس پی وی پر عمل درآمد شروع نہیں ہو سکا ہے- فیڈریکا موگرینی کا دعوی ہے کہ ایس پی وی پر عمل درآمد کی کوششیں دو ہزار انیس میں بھی جاری رہیں گی جبکہ اب تک اس سلسلے میں انجام پانے والی کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے - تہران نے بارہا اس مسئلے پر تاکید کی ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کے تحفظ اور ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے منفی اثرات کم کرنے کے لئے گروپ چارجمع ایک کے دیگر اراکین کی سنجیدہ اور موثر کوششوں کی ضرورت ہے اور اگر اس سلسلے میں موثر اقدام نہ کیا گیا تو ایٹمی سمجھوتے میں ایران کا باقی رہنا اور معاہدوں پرعمل کرنا منطقی اور ایران کے مفادات میں نہیں ہوگا-

ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف نے چوبیس دسمبر دوہزار اٹھارہ کو فارس نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ یورپی کچھ خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کہا کہ : یورپیوں کو ایران میں ایک موقع ملا تھا اور انھوں نے امریکہ کے مقابلے میں اپنی بے عملی اور سستی سے اسے کھو دیا اور ایس پی وی کے معاملے میں یورپ کو نقصان پہنچا ہے-  ایٹمی سمجھوتے کے سلسلے میں امریکہ اور یورپ کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے پیش نظر ایس پی وی پر عمل درآمد ، یورپ کی خودمختاری اور امریکہ کی یکجانبہ پسندی کے مقابلے میں ایک اہم قدم سے تعبیر ہوگا-  امریکہ صرف اپنی  یکجانبہ پسندی ، منھ زوری اور دیگر ممالک پر اپنی مرضی و مطالبات مسلط کرنے کے رویے کی بنا پر ایٹمی سمجھوتے سے باہر نکلا ہے لہذا ایران کا خیال ہے کہ اگر یورپی یونین حقیقی معنی میں ایٹمی سمجھوتے کو باقی رکھنا چاہتی ہے تو اسے واشنگٹن کی منھ زوری کے سامنے ڈٹ جانا چاہئے اور ایران کے قانونی حقوق کی حمایت کرنا چاہئے- امریکہ کے سامنے استقامت کے لئے ضروری ہے کہ یورپ اس کی قیمت بھی چکائے اور اگر وہ بغیر کسی زحمت اور اقدام کے ایٹمی سمجھوتے کی بقاء یا خاص طور سے ایس پی وی پر عمل کرنا چاہتا ہے تو یہ حقیقت پسندی نہیں ہے-

ٹیگس

کمنٹس