Aug ۰۲, ۲۰۱۹ ۱۹:۴۰ Asia/Tehran
  • تیرہواں آستانہ اجلاس ، تبدیلیاں اور ایجنڈا

شام کے بارے میں آستانہ مذاکرات کا تیرہواں اجلاس جمعرات کو قزاقستان کے دارالحکومت نور سلطان میں شروع ہوا اور آج بروز جمعہ اختتام پذیر ہوگیا۔

پہلا آستانہ اجلاس جنوری دوہزار سترہ میں منعقد ہوا تھا جس میں ایران ، روس اور ترکی نے شام میں جنگ بندی کے ضامن ملکوں کی حیثیت سے شرکت کی تھی-

بارہواں آستانہ امن اجلاس پچیس اور چھبیس اپریل کو منعقد ہوا تھا - آستانہ اجلاس کا ایک اہم ثمرہ شام میں کم کشیدگی والے علاقوں کی تشکیل ہے کہ جو دہشتگرد گروہوں کے ساتھ شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کی جدوجہد میں اہم کردار کا حامل ہے-

 تیرہواں آستانہ اجلاس بارہویں اجلاس  کے مقابلے میں بازی گروں کی سطح پربعض تبدیلیوں کا حامل رہا ہے تاہم ایجنڈے میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی ہے- تیرہویں اجلاس میں بھی شامی مخالفین ، شامی حکومت سے وابستہ وفد اور جنگ بندی پر نظر رکھنے والے تین ممالک یعنی ایران ، روس اور ترکی مستقل فریقوں کی حیثیت سے موجود ہیں- اس کے ساتھ ہی عراق اور لبنان کے مندوبین بھی تیرہویں آستانہ اجلاس میں مبصر کی حیثیت سے شریک  ہیں- آستانہ مذاکرات میں اردن کے مندوب کو بھی شرکت کرنا تھا تاہم اب ان کی موجودگی منتفی ہے- درایں اثنا شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے گی یر پڈرسن بھی بیماری کی بنا پرحالیہ آستانہ اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے تاہم ان کی جگہ ان کے معاون نے شرکت کی ہے- عالمی ریڈکراس کمیٹی کے مندوبین اور پناہ گزینوں کے امور میں اقوام متحدہ کے ہائی کمشنرنے بھی اس دور کے مذاکرات میں شام میں قیدیوں اور یرغمالیوں کی آزادی کے مسئلے کو لے کر شرکت کی ہے- آستانہ مذاکرات کا موضوع آئین تیار کرنے کے لئے کمیٹی کی تشکیل ، پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور شامی فریقوں کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہے-

آئین تیار کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کے سلسلے میں کچھ پیشرفت ہوئی ہے یہاں تک کہ گذشتہ ایک برس سے شام کے سلسلے میں ایک اہم مسئلہ حل ہوتا ہوا نظر آرہا ہے کہ جو اب تک آستانہ مذاکرات کا اصلی موضوع رہا ہے -  باخبر ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ آستانہ اجلاس میں آئین مرتب کرنے والی کمیٹی کے اراکین کی حتمی فہرست پر اتفاق رائے ہوگیا ہے اور پروگرام کے مطابق ستمبر میں شامی آئین کے موضوع پر ایک اور اجلاس منعقد ہوگا- 

تیرہویں آستانہ اجلاس میں شامی فریق اور شام میں جنگ بندی کی نگرانی کرنے والے تینوں ممالک ، پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور قیدیوں کا تبادلہ جاری رکھنے کی ضرورت پر اتفاق رکھتے ہیں-  اس سلسلے میں خاص سیاسی امور میں وزیرخارجہ کے معاون علی اصغرخاجی نے جمعرات کو آستانہ اجلاس کے پہلے دن سیاسی امور میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی مندوب کے معاون خولہ مطر سے ملاقات میں شام کا آئین مرتب کرنے والی کمیٹی کی تشکیل کے لئے آستانہ عمل کے تناظر میں گذشتہ مہینوں میں  قیدیوں کے تبادلے اور پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لئے انجام پانے والی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مکمل نتیجہ حاصل ہونے تک  اس عمل کے جاری رہنے کی ضرورت پر تاکید کی- 

اور آخری بات یہ کہ تیرہواں آستانہ اجلاس ایسے عالم میں منعقد ہوا ہے کہ اس اجلاس میں بھی عربی و مغربی بازی گر موجود نہیں ہیں اور آستانہ اجلاسوں کی کامیابی کو اپنے مفادات کے لئے سازگار نہیں سمجھتے-

ٹیگس