Oct ۰۲, ۲۰۱۹ ۱۷:۴۷ Asia/Tehran
  • جزیرہ نمائےکوریا کے مذاکرات میں امریکہ کی خلاف ورزیاں

اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے نمائندے نے امریکہ کی خلاف ورزیوں اور بدعہدیوں کو دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی مذاکرات کے ٹھپ پڑجانے کا باعث قرار دیا ہے-

اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے نمائندے نے کہا کہ جزیرہ نمائے کوریا کی صورتحال کچھ اس طرح سے ہے کہ ابھی تک روز افزوں کشیدگی میں کمی نہیں آئی ہےاور یہ مسئلہ امریکہ کے سیاسی اور فوجی اشتعال انگیز اقدامات کا نتیجہ ہے-

شمالی کوریا کے نمائند نے یہ بیان ایسی حالت میں دیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کیم جونگ اون اور امریکی صدر ٹرمپ ، گذشتہ سال جون  میں تین مرتبہ ، سنگاپور، ویتنام اور شمالی و جنوبی کوریا کی سرحد پر ملاقات کرچکے ہیں لیکن دونوں فریق کے مذاکرات ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں اور رک گئے ہیں- لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ایک سال میں تین ملاقاتیں ، وہ بھی امریکہ اور شمالی کوریا کے سربراہوں کےدرمیان انجام پانے کے باوجود، ابھی بھی پیونگ یانگ اور واشنگٹن کے درمیان عدم اعتماد کی دیوار کھڑی ہے اور مذاکرات کوایک سال سے زیادہ کا عرصہ گذرجانے کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا ہے ؟

بیشتر سیاسی ماہرین کا خیال ہےکہ امریکہ اور شمالی کوریا کے تعلقات پر حکفرما بے اعتمادی کی فضا کی چند اہم وجوہات ہیں- اول تو یہ کہ شمالی کوریا ، امریکی پابندیوں میں کمی کرنے کا خواہاں ہے لیکن واشنگٹن کا یہ مطالبہ ہے کہ پہلے پیونگ یانگ جوہری تخفیف اسلحہ کے میدان میں قدم اٹھائے تاکہ پابندیاں کم کی جائیں- اس کے علاوہ شمالی کوریا کے نقطۂ نظر سے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی اعتماد قائم کرنے اور سنگاپور میں کیم جونگ اون اور ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے اجلاس کے مشترکہ بیان کے متذکرہ نکات پر عملدرآمد سلسلے میں شمالی کوریا کی حقیقت پسندانہ کوششوں کے باوجود، امریکہ نے اس پر عملدرآمد کے سلسلے میں نہ صرف کوئی اقدام انجام نہیں دیا ہے بلکہ جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں کا دوبارہ آغاز کردیا کہ جسے ٹرمپ نے روکے جانے کا وعدہ دیا تھا اور شمالی کوریا کے خلاف مزید سخت پابندیاں بھی عائد کردیں- پیونگ یانگ کے نقطہ نگاہ سے امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی مشقیں ، شمالی کوریا کے لئے ہمیشہ ایک خطرہ رہی ہیں- اور یہ ایک ایسا اقدام ہے کہ جس کا مقصد پیونگ یانگ کی حکومت کا تختہ پلٹنا ہے- شمالی کوریا اس طرح کی فوجی مشقوں کے انعقاد کو فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدوں اور مذاکرات سے سرپیچی اور شمالی کوریا پر حملے کی آمادگی کی ایک کوشش قرار دیتا ہے- 

لیکن ایک دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ ان حالات کے باوجود شمالی کوریا کے رہنما نے چوتھی ملاقات کے لئے بھی اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے - لیکن اس ملاقات میں شمالی کوریا کے حکام نے کہا ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی نئی اور قابل قبول تجویز پیش نہیں کی تو وہ مذاکرات کی میز پر دوبارہ نہیں آئیں گ اور اس امید کا اظہار کیا کہ امریکی صدر اگرچاہتے ہیں کہ ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر شمالی کوریا کے رہنما کے ساتھ بیٹھیں ،تو وہ اس سلسلےمیں عاقلانہ رویہ اپنائیں اورصاف و شفاف فیصلہ کریں- 

مجموعی طور پر، ایسے حالات میں پیونگ یانگ کے حکمراں امریکہ کو دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی مذاکرات کے روکے جانے کا ذمہ دار ٹہرا رہے ہیں کہ بیشتر سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ اور اون کے درمیان تین اجلاسوں کے انعقاد کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گذرجانے کے باوجود ، شمالی کوریا کے خلاف امریکی دباؤ اور پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے اور یہی امر امریکہ اور جنوبی کوریا کی جانب سے اپنے وعدوں پر عمل نہ کرنے خاص طور پر علاقے میں دونوں ملکوں کی متعدد فوجی مشقوں کے انعقاد اور جزیرہ نمائے کوریا میں ایٹمی مذاکرات کے جاری رہنے میں مانع ہے- یہی وہ صورتحال ہے کہ جس کے بارے میں پیونگ یانگ کے حکام کا کہنا ہے کہ اب یہ امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ مذاکرات کے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے کوئی صحیح فیصلہ کرے یا پھر بحران کو بڑھاوا دے-    

ٹیگس