Oct ۳۱, ۲۰۱۹ ۱۶:۵۳ Asia/Tehran
  • رہبر انقلاب اسلامی کے نقطہ نگاہ سے سلامتی اور اس کے تحفظ کی ضرورت

رہبر انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے بدھ کو تہران میں خاتم الانبیا ایئرڈیفینس یونیورسٹی میں تربیت پانے والے افسران کی پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے سلامتی کے تحفظ کو اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی ایک مقدس اور حساس ذمہ داری بتایا اور دشمنوں کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ دفاعی آمادگی کی ضرورت پر تاکید فرمائی-

مسلح افواج کے سپریم کمانڈر نے اپنے خطاب میں ہر معاشرے کے لئے سلامتی کے مسئلے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ایک ملک کے لئے سب سے بڑا نقصان ، اس ملک کی سلامتی اور امن وامان کو سلب کرلینا بتایا اور علاقے کے بعض ملکوں سے امن و سلامتی  سلب کرنے کے لئے دشمن کے پروپگنڈے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا عراق اور لبنان سے ہمدردی رکھنے والوں کو جان لینا چاہئے کہ  بدامنی کا علاج ، ان کی ترجیحات میں سرفہرست ہے، اور عوام کو بھی جان لینا چاہئے کہ ان کے برحق مطالبات بھی صرف قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہی پورے کئے جاسکتے ہیں-

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ دنیا بھر میں امریکہ اور مغربی ملکوں کے خفیہ ادارے خطے کی رجعت پسند حکومتوں کی دولت کے ذریعے آشوب برپا کر رہے ہیں اور یہ کسی بھی قوم کے ساتھ بدترین دشمنی اور خطرناک حد تک کینہ پروری ہے۔

امریکہ نے علاقے میں تخریبی اقدامات اور فوجی مداخلتوں کے ساتھ ہی، گذشتہ برسوں کے دوران القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کو وجود میں لاکر، افغانستان، عراق اور شام میں تباہی مچا دی اور علاقے کی قوموں کی ثروت و دولت اور تیل کو لوٹ کر علاقے میں بدامنی کو فروغ دیا ہے-

رہبر انقلاب اسلامی اس سے پہلے بھی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈروں کو خطاب کرتے ہوئے افغانستان، عراق اور شام میں دشمنوں خاص طور پر امریکہ کے توسط سے بھاری رقم خرچ کئے جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ امریکہ اور اس کے بعض علاقائی اتحادیوں نے بھاری رقم خرچ کرکے داعش کو جنم دیا اور ان کی اسلحہ جاتی اور مالی و تشہیراتی اعانت کی اور اب جبکہ شام ، عراق اور ایران کے جوانوں کی ہمت سے داعش کا خاتمہ ہوچکا ہے تو جھوٹ پر اتر آئے ہیں اور کہہ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ داعش کو ہم نے نابود کیا ہے-

امریکہ ، سعودی عرب کی حمایت کرکے، یمن کے نہتے اور مظلوم عوام کے خلاف پانچ برسوس سے وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور وہ اسرائیل کی غاصب اور جارح حکومت کے خلاف مذمتی قراردادوں کو ویٹو کرکے، جنگیں ، بدامنی، تباہی و ویرانی اور ہزاروں بے گناہوں کے قتل عام کا باعث بنا ہے- ان حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ امن و سلامتی ہی ہر ملک کی اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں مکمل آمادگی اور ہوشیاری کی ضرورت ہے-

اسلامی جمہوریہ ایران ، امن و ثبات کے تحفظ کے لئے اسٹریٹیجک سطح پر دفاعی طاقت و توانائی سے بہرہ مند ہے اور ایک لمحے کے لئے اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ مداخلت پسند طاقتیں، بحران کھڑا کرنے یا پراکسی وار اور دہشت گردی کے ذریعے، سلامتی کو خطرے سے دوچار کریں- ایران کی مسلح افواج، ملکی و مقامی صلاحیتوں اور توانائیوں  پر بھروسہ کرکے اور دشمنوں سے خوف نہ کھاکر، اپنی حقیقی قوت و طاقت کا مظاہر کر رہی ہیں- 

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سامراجی طاقتوں کے فوجیوں اور ایران کی مسلح افواج کے درمیان پائے جانے والے فطری فرق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ سامراجی طاقتوں کی افواج کا کام دیگر ملکوں پرجارحیت، قبضہ جمانا اور نقصان پہنچانا ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کا بنیادی فلسفہ پوری قوت کے ساتھ ملک کا دفاع کرنا ہے اور اس میں کسی ملک کے خلاف جارحیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ استکباری طاقتیں کبھی بھی امن و سلامتی کے درپے نہیں رہی ہیں اور انہوں نے جہاں بھی قدم رکھا ہے اس کا نتیجہ بدامنی ، جنگ اور دہشت گردی کی صورت میں سامنے آیا ہے-

امریکہ کے مشہور نظریہ پرداز نوام چامسکی کہتے ہیں کہ امریکہ داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتا ہے کہ جو امریکی اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور ایران پر علاقے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتا ہے-

امریکہ علاقے کے ذخائر کو تحفظ فراہم کرنے کے بہانے سے، علاقے کے بعض ملکوں کو ہتھیار فروخت کرکے خوب پیسے اینٹھ رہا ہے جبکہ وہ خود سب سے زیادہ مغربی ایشیا کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والا ملک ہے- اس وقت ہم دشمنوں کی ایک اور فتنہ انگیزی کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ جس کا مقصد علاقے کے ملکوں سے امن وسکون چھین لینا ہے-

آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے اس سلسلے میں فرماتے ہیں: دشمنوں نے ایران کے خلاف بھی ایسے منصوبے تیار کیے تھے لیکن خوش قسمتی سے عوام بروقت میدان عمل میں اتر آئے ہماری مسلح افواج بھی پوری طرح آمادہ تھیں اور انہوں نے دشمن کی سازشوں پر پانی پھیر دیا۔ 

رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ جب کسی ملک کا قانونی ڈھانچہ درھم برہم اور سیاسی خلا پیدا ہوجائے تو پھر کوئی مثبت کام انجام نہیں دیاجاسکتا۔ اس سلسلے میں رہبر انقلاب اسلامی کا بیان ، علاقے کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے دشمنوں کے مقاصد کی ماہیت کوآشکارہ کر رہا ہے اور ساتھ ہی علاقے کے ملکوں کے لئے ایک نصیحت اور انتباہ بھی ہے کہ وہ معاشرے کی سلامتی کو درھم برھم کرنے والے عناصر کی سازشوں کے مقابلے میں ہوشیاری اور استقامت کا مظاہرہ کریں- 

 

 

 

 

 

ٹیگس

کمنٹس