Nov ۰۴, ۲۰۱۹ ۱۷:۰۲ Asia/Tehran
  • واشنگٹن کے حکمرانوں کے مقابلے میں ایرانی قوم کی استقامت پر رہبر انقلاب اسلامی کی تاکید

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سے، عالمی سامراج سے مقابلے کے قومی دن کے موقع پر اتوار کے روز ہزاروں طلبہ و طالبات نے ملاقات کی۔

رہبرانقلاب اسلامی نے اگست انیس سو ترپن کی فوجی بغاوت کو عظیم ایرانی قوم کے خلاف امریکہ کی کھلی دشمنی کا نقطہ آغاز قرار دیا اور فرمایا کہ امریکیوں نے اپنے اوپر اعتماد کرنے والی مصدق حکومت پر بھی رحم نہیں کیا اور قومی حکومت کو سرنگوں کرنے کے بعد اپنی پٹھو، بدعنوان اور ڈکٹیٹر حکومت کو اقتدار میں لے آئے اور ایرانی عوام کے خلاف آخری حد تک دشمنی کا ارتکاب کیا۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ امریکیوں سمیت بعض لوگ تاریخ میں تحریف کرنے اور امریکی جاسوسی اڈے پر قبضے کو ایران کے خلاف امریکہ کی دشمنی کا نقطہ آغاز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ امریکی شروع ہی سے دوستانہ منصوبوں کی آڑ میں ایرانی قوم سے دشمنی کر رہے تھے اور اگست انیس سو ترپن کی بغاوت کے ذریعے ان کی دشمنی سامنے آگئی اور یہ ایران کے خلاف امریکہ کی دشمنی کا نقطہ آغاز ہے۔

ایران اور امریکہ کی پرتلاطم تاریخ امریکہ کے سیاہ کارناموں ، سازشوں، مداخلتوں اور کینہ و دشمنی سے بھری پڑی ہے- اگست 1953 کا واقعہ بھی ایک ایسا واقعہ ہےکہ جس میں ایران کی قانونی حکومت کو گرانے کے لئے امریکہ اور برطانیہ نے براہ راست کردار ادا کیا- امریکی حکام نے بارہا  ایران کو نقصان پہنچانے کے لئے جو کام بھی کرسکتے تھے وہ انجام دیا ہے- البتہ ایرانی قوم کے خلاف وائٹ ہاؤس کی دشمنی کے بہانوں کی روش، ہر دور میں مختلف رہی ہے- 

رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے کل کے خطاب میں، پچھلے اکتالیس برس کے دوران امریکہ کی جانب سے انجام پانے والے بعض اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس عرصے کے دوران انقلاب اسلامی کے خلاف جو کچھ ان کے بس میں تھا اور جانتے تھے وہ انہوں نے انجام دیا البتہ ہم نے اس کے مقابلے میں جو کچھ کرسکتے تھے کیا اور بہت سے معاملات میں اسے شکست سے بھی دوچار کیا ہے۔

 

ایران کے خلاف امریکہ کی دشمنیوں اور سازشوں کا سلسلہ جاری رہنا اس امر کا غماز ہے کہ ایران کے ساتھ امریکہ کی دشمنی کی جڑیں بہت گہری ہیں اور اس کا اسلامی انقلاب کی کامیابی کے آغاز میں، جاسوسی کے اڈے پر قبضے کے سبب امریکی رسوائی کے نتیجے میں ایران سے پیدا ہونے والے بغض و کینے کا کوئی تعلق نہیں ہے-

رہبر انقلاب اسلامی نے اس حقیقت کو بیان کرتے ہوئے کہ امریکی رویے میں ماضی سے اب تک ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں آئی ہے فرمایا کہ آج بھیڑیا صفت امریکہ اگر چہ کمزور ہے لیکن زیادہ وحشی اور ڈھیٹ ہوگیا ہے اور اس کے مقابلے میں اسلامی جہموریہ ایران نے اپنی دفاعی طاقت اور مدلل طریقے سے مذاکرات کو مسترد کرکے ملک میں امریکہ کے دوبارہ اثرو رسوخ کا راستہ بند کردیا ہے۔ 

آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے ایران پر امریکیوں کے دوبارہ تسلط اور سیاسی اثرو رسوخ کا راستہ مسدود کرنے کو واشنگٹن کے حکمرانوں کی سازشوں کےمقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا ٹھوس جواب  اور ایران کی جانب سے امریکہ کی مخالفت کو مستحکم منطق کا حامل قرار دیا اور فرمایا کہ یہ عاقلانہ رویہ امریکہ کے دوبارہ نفوذ کا راستہ بند، ایران کے حقیقی اقتدار کو دنیا کے سامنے ثابت، اور فریق مقابل کے جھوٹے رعب و دبدبے کو خاک میں ملادے گا۔ 

آپ نے یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہ ایران سے امریکی توقعات اور مطالبات کے تھمنے کی حد کہاں تک ہے؟ فرمایا کہ وہ ابھی تو  ایران سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ علاقے میں سرگرم نہ رہو، مزاحمتی محاذ کی مدد و حمایت نہ کرو، بعض ملکوں میں سرگرمی انجام نہ دو اور اپنی دفاعی اور میزائل پیداوار کو بند کر دو اور اس کے بعد وہ کہیں گے کہ اپنے دینی حدود اور قوانین سے دستبردار ہوجاؤ اور اسلامی پردے کے مسئلے پر بھی تاکید نہ کرو، بنابر ایں امریکہ کے مطالبات کبھی بھی تھمنے والے نہیں ہیں-

اس میں شک نہیں ہے کہ امریکہ ہمیشہ سے ملت ایران پر اپنے مطالبات اور خواہشات مسلط کرنے کے درپے رہا ہے- عالمی استکبار اور اس میں سرفہرست امریکہ اپنی شکست و ناکامی کے سبب، ہر ممکنہ طریقے سے  کینہ و عداوت کا اظہار کر رہا ہے اور اپنے زعم ناقص میں ایران کو انقلاب سے پہلے والی حالت پر پلٹا رہا ہے، لیکن وہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گا-

واشنگٹن پوسٹ نے ایک تجزیے میں  اگست 1953 کی فوجی بغاوت سے لے کر اب تک کی امریکہ کی غلط پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی حکام اپنی تاریخی بھول کا مظاہرہ کرتے ہوئے آج بھی ایک خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں کہ جو خود ان کی شکست پر منتج ہوسکتا ہے

جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا ہے کہ  اسلامی انقلاب ان باتوں سے کہیں زیادہ مستحکم ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام  کا ٹھوس عزم وارادہ، کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ امریکہ اپنی سازشوں اور ہتھکنڈوں کے ذریعے ایک بارپھر ایران میں قدم رکھ سکے- آپ نے ایران میں امریکہ کے سیاسی اثر و رسوخ اور تسلط کا راستہ بند کردیے جانے کو امریکی حکمرانوں کی سازشوں کا بہترین جواب قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار، ایران میں ان کے دوبارہ اثرو رسوخ کا راستہ بند کرنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔

 

ٹیگس

کمنٹس