Nov ۱۱, ۲۰۱۹ ۱۵:۱۳ Asia/Tehran
  • ننگرہار میں داعش کی شکست پر افغانستان کی تاکید

افغانستان کی وزارت داخلہ کے سرپرست نے، اس ملک کے مشرقی صوبے ننگرہار میں داعش دہشت گرد گروہ کی شکست کی خبر دی ہے-

مسعود اندرابی نے صوبۂ ننگرہار کے اپنے دورے پر، اس صوبے میں نئے پولیس کمانڈر کی تقرری کی تقریب میں کہا کہ شکست خوردہ داعش دہشت گرد گروہ نے گذشتہ چند برسوں میں صوبۂ ننگرہار میں خونریز حملے انجام دیئے ہیں- اور اس کے لئے اس نے جارحانہ منصوبے بنا رکھے تھے- افغانستان کی وزارت داخلہ کے سرپرست نے کہا کہ افغان فوجی ملک میں داعش دہشت گرد گروہ کی نابودی تک اپنی کاروائیاں جاری رکھیں گے- مسعود اندرابی نے مزید کہا کہ طالبان کو گذشتہ آٹھ مہینوں کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں بھاری نقصانات اٹھانے پڑے ہیں-

صوبہ ننگرہار کے بعض علاقوں میں ، کہ جو داعش دہشت گرد گروہ کا اہم ترین گڑھ شمار ہوتا ہے ، اس گروہ کو شکست دینے کے بارے میں افغانستان کی وزارت داخلہ کا بیان اگرچہ ممکن ہے کہ داعش سے مقابلے میں افغانستان کی مسلح افواج کی مثبت کارکردگی کو ثابت کرے، تاہم یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ داعش دہشت گرد گروہ کے مقابلے میں افغان فوج کی کامیابی سے متعلق ان کا بیان ممکن ہے سیاسی اہداف و محرکات کے مقصد سے ہو-

داعش دہشت گرد گروہ نے گذشتہ چند برسوں کے دوران افغانستان میں اپنی سرگرمیوں کو بڑھایا ہے اس طرح سے کہ افغانستان کا مشرقی علاقہ کہ جس کا مرکز صوبہ ننگرہار ہے، اس گروہ کے اصلی اڈے کی حیثیت سے جانا جاتا ہے-  البتہ داعش کی سرگرمیاں صرف مشرقی افغانستان تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ یہ گروہ اس ملک کے دیگر علاقوں میں بھی تباہ کن دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دے رہا ہے- اس امر کے پیش نظر کہ افغان حکومت برسوں سے اس ملک کے شہری اور دیہی علاقوں میں طالبان کے خلاف نبرد آزما ہے اور بدستور اس جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہے، ایسے میں داعش دہشت گرد گروہ کے بھی اس ملک میں داخل ہونے کے سبب، افغان میں بدامنی، دہشت گردی و انتہا پسندی اور جارحانہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اس ملک کی مسلح افواج کی مشکلات ، دوچنداں ہوگئی ہیں-

دہشت گرد گروہوں سے مختلف طریقوں سے مقابلے کے لئے افغان حکومت کو درپیش چیلنجز اور مشکلات اور ان گروہوں پر قابو پانے کے لئے افرادی قوت اور فوجی سازو سامان کی محدودیت کے پیش نظر، دہشت گردانہ خطروں سے مقابلے میں باہمی تعاون کے لئے افرادی قوت کو منظم کرنے سے ممکن ہے افغانستان کی مسلح افواج کی جارحانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو- 

روسی خفیہ ایجنسی کی معلومات کے مطابق داعش کے 10 ہزار دہشت گرد افغانستان کے 9 صوبوں میں سرگرم ہیں۔ جن علاقوں میں افغان حکومت کا کنٹرول نہیں ہے وہاں دہشت گردوں کی مضبوط اور محفوظ پناہ گاہیں ہیں تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے دہشت گردوں کی کل تعداد 2 ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔

افغانستان میں امریکہ کی موجودگی بھی داعش کے وجود کی تقویت میں موثر ہے- درحقیقت افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی نہ صرف اس ملک میں امن کے قیام میں مددگار ثابت نہیں ہوئی ہے بلکہ افغانستان کے سیکورٹی مسائل، ناقابل حل مسائل کے طور پر باقی ہیں- افغانستان پر امریکی قبضے کے اٹھارہ سال پورے ہونے پر ایک سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر افغان شہریوں کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان میں سب سے زیادہ ناکام رہا ہے- بہرصورت افغان عوام بدستوران حالات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں کہ جو ملکی اور غیر ملکی انتہا پسند اور تشدد پسند عناصر کے تعاون سے پیدا کئے گئے ہیں اور اس وقت بھی جاری ہیں۔ جبکہ اگر گروہ طالبان افغان امن کے عمل میں شمولیت کے لئے، مختلف حلقوں کی درخواستوں کو قبول کرلے تو اس سے نہ صرف دہشت گردوں سے مقابلے کے لئے قومی اتحاد کو تقویت حاصل ہوگی بلکہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے باقی رہنے کا بہانہ بھی نہیں رہے گا۔      

ٹیگس

کمنٹس