Feb ۱۷, ۲۰۲۰ ۱۶:۰۸ Asia/Tehran
  • صحافیوں کے ساتھ صدر حسن روحانی کی گفتگو، امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے تہران میں پریس کانفرنس میں صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ سال کی نسبت مشکلات میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ ایرانی عوام نے دشمن کی گھناؤنی سازشوں کے مقابلے میں بے مثال استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ملکی اور غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ چودھویں پریس کانفرنس میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات، شہید قاسم سلیمانی کو قتل کرنے میں امریکہ کی دہشت گردانہ کاروائی کا دنداں شکن جواب دینے اور انتخابات سمیت دیگر مسائل کے بارے میں صحافیوں کے پوچھے گئے سوالوں کے جواب دیئے- اس پریس کانفرنس کا تین محور کے دائرے میں تجزیہ کیا جا سکتا ہے- پہلا محور امریکہ کی استکباری ماہیت اور اس کے اہداف ہیں کہ جو ایٹمی معاہدے کی آڑ میں دباؤ ڈالنے کے لئے ہیں-

ایٹمی معاہدے کو ناکارہ بنانے کی کوشش سے امریکیوں کا مقصد ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا ہے ۔ اور یہ کام غلط اندازوں کی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ ایران کو جھکنے پر مجبور کرنے کے لئے ہے۔ امریکہ اپنے اس اقدام کے ذریعے تہران کومذاکرات کی میز پر لانا چاہتا ہے تاکہ ایران امریکہ کی منھ زوریوں کےسامنے جھک جائے اور اس کے مطالبات تسلیم کرے جبکہ ایسا ہونا ہرگز ممکن نہیں ہے اور اس سلسلے میں صدر مملکت کا کل کا بیان بھی بہت ٹھوس اور جامع ہے-صدر روحانی نے دشمن کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم کبھی مذاکرات کی میز پر کمزور حالت میں نہ بیٹھے ہیں اور نہ ہی بیٹھیں گے ۔

صدر حسن روحانی نے دشمن کی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے عوام کو درپیش مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کی اقتصادی پابندیاں ناکام ہوجائیں گی اور دشمن کو ان پابندیوں سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ دشمن کی پابندیوں سے ایرانی عوام کے استقلال میں مزید استحکام پیدا ہوگا۔ حسن روحانی نے امریکی صدر ٹرمپ کی ایران مخالف اقتصادی پابندیوں کو شکست اور ناکامی سے دوچار قراردیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام نے استقامت اور پائیداری کے ساتھ امریکی پابندیوں کو شکست سے دوچار کردیا ہے اور دشمن ایرانی قوم کو اقتصادی دباؤ ڈال کر سر تسلیم خم کرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔

صدر مملکت حسن روحانی کی پریس کانفرنس کا دوسرا محور، علاقے میں امریکہ کی یکطرفہ پسندی کا موضوع تھا  کہ جس نے علاقے کی سلامتی کو چیلنج سے دوچار کردیا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اس سلسلے میں بھی چند اہم نکات منجملہ علاقے میں سلامتی کے قیام کے لئے ہرمز پیس پلان کے عنوان سے، ایران کے اسٹریٹیجک منصوبے کی جانب اشارہ کیا - صدر روحانی نے خطے میں امن و صلح کے قیام کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں ایران کے بغیر امن و صلح کا قیام  ممکن نہیں - صدر روحانی نے کہا کہ ہم نے ہرمز پیس پلان ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کیا اور علاقائی ممالک کے سربراہان کو بھی باقاعدہ طور پر ارسال کیا۔ صدر حسن روحانی نے کہا کہ علاقہ میں امن و ثبات کا راستہ ، علاقائی ممالک کے ہاتھ میں ہے جبکہ غیر علاقائی طاقتیں خطے میں بد امنی اور دہشت گردی کے فروغ کا اصلی سبب ہیں۔

علاقے میں گذشتہ چند برسوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات پر نظر ڈالنے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ علاقے میں بدامنی اور کشیدگی کو وجود میں لانے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے علاوہ سعودی عرب جیسے ملکوں کا بھی اہم کردار رہا ہے- سعودی عرب تقریبا پانچ برسوں سے یمن کے نہتے اور مظلوم عوام کے خلاف جارحانہ حملے کر رہا ہے اور ان کا محاصرہ کر رکھا ہے- ان برسوں میں سعودی عرب کی پالیسی ان جرائم کے جاری رہنے پر رہی ہے لیکن یہ پالیسی ، ایک غلط انتخاب اور سنگین اخراجات کی حامل ہے- اس جنگ میں سعودی عرب کو کوئی کامیابی حاصل ہونے والی نہیں ہے اور ریاض اس وقت شکست و ناکامی سے دوچار ہے-

ایرانی صدر نے کہا کہ ہم بدستور خطے میں امن  قرار کرنے کے خواہاں ہیں اور ایران کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی نے بھی آخری دم تک اس راستے کیلئے کوشش کی اور ان کی آخری کوشش بھی عراقی وزیر اعظم سے گفتگو تھی جو ان کی شہادت کی وجہ سے مسیر نہیں ہوئی - انہوں نے کہا کہ ہم نے خطے کے تمام ممالک کو اقوام متحدہ میں پیش کردہ ہزمر امن منصوبے میں حصہ لینے کی دعوت دی ہے۔ بلاشبہ ماضی کی غلطیوں اور رویوں میں تبدیلی ، سعودی عرب اور علاقے کے تمام ملکوں کے فائدے میں ہے-

 صدر روحانی کی پریس کانفرنس میں تیسرا محور انتخابات کا مسئلہ تھا کہ جو آئندہ جمعے کو ہونا طے پائے ہیں- صدر روحانی نے ایران میں پارلیمنٹ کے انتخابات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام پارلیمانی انتخابات میں بھر پور شرکت کریں گے اور اپنے شائستہ نمائندوں کو انتخاب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجیں گے- صدر مملکت حسن روحانی نے اس سلسلے میں برایان ہوک کے حالیہ اس دعوے کے جواب میں کہ جس میں اس نے کہا تھا کہ ایران میں انتخابات نمائشی اور پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں ، اسلامی جمہوریہ ایران میں جمہوریت کو، دنیا کے دیگر ملکوں حتی امریکہ اور مغربی ملکوں سے بھی زیادہ حقیقت سے قریب تر بتایا-

شورائے نگہبان یا گارڈین کونسل کے ترجمان عباس علی کدخدائی نے بھی اپنے ٹوئیٹر پیج پر، امریکی وزارت خارجہ میں، ایران کے امور میں امریکی حکومت کے خصوصی نمائندے برایان ہوک کے بیان کے ردعمل میں لکھا تھا کہ ٹرمپ کو ابھی انتخابات میں اپنے حریفوں پر کامیابی کے لئے بیرونی ملکوں سے مدد طلب کرنے کے اسکینڈل سے نجات نہیں ملی ہے اور برایان ہوک ایران کے انتخابات کے بارے میں زہر افشانی کر رہا ہے انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام امریکی ڈموکریسی کی کوئی ضرورت نہیں ہے-

گذشتہ اکتالیس برسوں کے تجربے سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران میں پورے جوش و جذبے کے ساتھ ہونے والے انتخابات ، ایران کے فائدے میں اور دشمنوں کے نقصان میں رہے ہیں- اسی سبب سے امریکہ ہمیشہ انتخابات میں عوام کی کم سے کم شرکت چاہتا ہے- ان ہی حقائق کے پیش نظر صحافیوں کے ساتھ پریس کانفرنس میں صدر مملکت نے ان دنوں کے اہم ترین مس‏‏ئلے یعنی انتخابات، اور ملت ایران کے اتحاد و اقتدار پر اس کے اثرات کے تعلق سے واضح بیان دیا ہے-    

 

 


 

 

ٹیگس

کمنٹس