ماہ رمضان میں روزانہ ’’مثال کے پیرائے میں‘‘ ایک آیت کی توضیح ملاحظہ فرمائیں!

آپ نے سیب کو دیکھا ہوگا کہ جب تک اس کا چھلکا اس کے اوپر رہتا ہے اس میں تر تازگی اور حسن باقی رہتا ہے مگر جب اسے چھیل دیا جاتا ہے تو فورا اسکی سفیدی ماحول سے متأثر ہو کر میلی ہونا شروع ہو جاتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ سیب ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے کہ اسے کھانے کے بجائے دور پھینکنے میں ہی عافیت ہوتی ہے۔

انسان کی مثال بھی یہی ہے۔اس کی تر و تازگی، اسکا حسن تبھی باقی رہتا ہے جب وہ نماز کے حصار میں ہوتا ہے۔ اگر انسان نمازی نہ ہو تو خواہشات کی ہوا اسکی روح کو میلا کر دیتی ہے اور پھر آہستہ آہستہ یہ خواہشات اس پر اس قدر غالب آجاتی ہیں کہ پھر اس میں کوئی حسن باقی نہیں رہ جاتا اور قرآن کریم کے بقول اسے جنت سے دور جہنم کی طرف پھینک دیا جاتا ہے۔پھر جب اس سے جہنم میں سوال ہوتا ہے کہ تم کیوں جہنم میں ڈال دئے گئے تو وہ کہے گا کہ ہم نمازی نہیں تھے۔(سورہ مدثر ۔آیت 42-43)

نماز کا خوبصورت حصار انسان کو برائیوں اور بدکاریوں سے محفوظ رکھتا ہے اور نتیجہ میں انسان پھر جہنم کی طرف نہیں بلکہ جنت کی سمت حرکت کرتا ہے۔بالکل ویسے ہی جیسے ایک چھلا ہوا سیب کچھ دیر کے بعد انسانی غذا بننے کے بجائے کوڑے دان کے لائق ہو جاتا ہے۔

قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:

وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ  (سورہ عنکبوت ۔ آیت 45)

اور نماز قائم کیجئے، بیشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے.

 

تحریر:استاد محمد رضا رنجبر

ترجمہ ترتیب: سید باقر کاظمی

 

 

Jun ۱۹, ۲۰۱۷ ۰۹:۲۹ UTC
کمنٹس