• آیت کا پیغام (25) : پودھا

ماہ رمضان میں روزانہ ’’مثال کے پیرائے میں‘‘ ایک آیت کی توضیح ملاحظہ فرمائیں!

آپ جب ایک پودھے کو پانی دیتے ہیں تووہ پانی اسکی جڑوں کے ذریعہ اسکے تنے اور اسکے پھول پتوں تک پہونچ کر ان میں تر و تازگی اور شادابی پیدا کرتا ہے۔ لیکن اگر ایک سوکھا ہوا پودھا ہو تو اسے آپ جتنا پانی دے دیں اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

اسکے علاوہ یہ کہ اگر ایک سرسبز و شاداب پودھے کو آپ پانی نہ دیں تو وہ کچھ عرصے بعد مرجھا جائے گا۔لیکن اگر ایک سوکھا ہوا پودھا ہو تو اسے آپ چاہے پانی دیں یا نہ دیں اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

انسان کی مثال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ایک مومن انسان کو جب آیات الٰہی سنائی جاتی ہیں تو اسکے ایمان،اسکے افکار و نظریات اور اسکے اعمال و کردار میں تر و تازگی اور شادابی پیدا ہوتی ہے۔

لیکن اگر انسان میں ایمان کی شادابی نہ ہو اور وہ کفر نے اسکے دل و ماغ کو خشک کر دیا ہو آیات الٰہی سن کر اسکے افکار و نظریات اور اسکے اعمال و کردار میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آتی۔اسے آیات الٰہی سنانا یا نہ سنانا برابر ہوتا ہے۔

ارشاد ہوتا ہے:

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ (سورہ بقرہ ۔ آیت 7)

)اے رسول) جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے لیے برابر ہے آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں۔ بہرحال وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

یہ آیت ہمیں ایک فارمولا دے رہی ہے وہ یہ کہ ہم دیکھیں کہ آیات الٰہی سن کر ہمارے دل و دماغ میں کوئی انقلاب رونما ہوتا ہے یا نہیں! اگر ہوتا ہے تو خدا کا شکر اور اگر نہیں تو پھر!

 

تحریر:استاد محمد رضا رنجبر

ترجمہ و ترتیب:سید باقر کاظمی

 

 

Jun ۲۰, ۲۰۱۷ ۰۹:۴۴ UTC
کمنٹس