پہلی کارگو ٹرانزٹ ٹرین منگل کے روز پاکستان سے جنوب مشرقی ایران کے شہر زاہدان پہنچ گئی ہے۔

اس موقع پر زاہدان کے ریلوے اسٹیشن پر ایک تقریب بھی منقعد کی گئی جس میں ایران کے صوبہ سیتسان و بلوچستان کے ڈپٹی گورنر علی اصغر میر شکار اور پاکستانی قونصل جنرل محمد رفیع بھی شریک تھے۔ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے ڈپٹی گورنر علی اصغر میرشکار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی تاریخ بہت پرانی ہے۔انہوں نے کہاکہ پچھلے دو سال کے دوران ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی گزرگاہوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور اب تین راستوں سے رفت آمد کا سلسلہ جاری ہے۔علی اصغر میر شکار نے بتایا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت دونوں ممالک باہمی تجارت کو پانچ سو ملین ڈالر سالانہ سے بڑھا کر پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ روس کی منڈیاں پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں اور ایران اس حوالے سے سب سے مناسب ٹرانزٹ روٹ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اپنی مصنوعات ایران کے راستے محض بیس روز میں ماسکو تک پہنچاسکتا ہے۔پاکستان کے قونصل جنرل محمد رفیع نے اس موقع پر کہا کہ پہلی پاکستان قزاقستان کارگو ٹرین کی آمد سے دونوں ملکوں یعنی ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، عنقریب ایران کے سمندری راستوں کو اپنی منصوعات کی برآمدات کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ پروگرام کے مطابق، مذکورہ ٹرانزٹ ٹرین کے ذریعے سالانہ ایک ملین ٹن پاکستانی مصنوعات ، ایران کے راستے قزاقستان کو برآمد کی جائیں گی۔

Apr ۰۴, ۲۰۱۷ ۱۳:۳۷ UTC
کمنٹس