ایران کے وزیر پٹرولیئم نے تعاون کی توسیع کے لئے ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات میں معقول شرائط کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے کہ زور و زبردستی سے کوئی سمجھوتہ طے نہیں کیا جاسکتا۔

ایران کے وزیر پٹرولیم بیژن نامدار زنگنہ نے بدھ کے روز ایران سے تیل کی درآمدات میں کمی کرنے کے بارے میں ہندوستان کی دھمکی آمیز خبروں پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کے لئے ایران کے تیل کی برآمدات میں کمی سے ہمارے ملک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اس لئے کہ ایران کے تیل کی برآمدات کی گنجائش سے بھی زیادہ، تیل کے خریدار موجود ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہندوستان، ایران کے تیل کا ایک اچھا خریدار ملک ہے اور تہران، نئی دہلی کے ساتھ تعاون کی توسیع کا خواہاں ہے۔

ایران کے وزیر پٹرولیم نے کہا کہ ایران اور ہندوستان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں تاہم سمجھوتے کے لئے منطقی شرطوں کی ضرورت ہوتی ہے اور زور و زبردستی سے کسی سمجھوتے پر دستخط نہیں کئے جا سکتے۔

انھوں نے کہا کہ ایران اور ہندوستان کے درمیان سمجھوتے کے مطابق طے پایا تھا کہ ہندوستان، فرزاد بی گیس فیلڈ کی توسیع کے بارے میں دو ہزار سولہ تک اپنی تجاویز پیش کردے گا مگر اس ملک کی جانب سے تجاویز پیش نہیں کی گئیں اور مقررہ مدّت میں توسیع کئے جانے کے بعد ہندوستان نے جو شرطیں لگائی ہیں وہ ایران کی نظر میں ناقابل قبول ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہندوستان کی تجاویز کے پیش نظر ایران کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا اور صرف کارروائی پر آنے والی لاگت ہی، اسے مل سکے گی اور یہ امر منطقی نہیں ہے۔

Apr ۰۵, ۲۰۱۷ ۱۴:۱۱ UTC
کمنٹس