ایران دنیا میں ڈیزل درآمد کرنے بجائے برآمد کرنے والے ملکوں کی صف میں شامل ہوگیا ہے۔

یہ بات ایران کے وزیر پیٹرولیم بیژن نامدار زنگنے نے تہران میں آئیل اور پیٹروکیمیکل سے متعلق عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اب ڈیزل درآمد کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہم ڈیزل برآمد کرنے کے قابل ہوگئے ہیں۔
پیژن نامدار زنگنے نے کہا کہ چھٹے ترقیاتی پروگرام کے تحت پیٹروکیمیکل کی صنعت میں چالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ دو برس کے دوران اسی ارب ڈالر مالیت کے نئے پیٹرولیم معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم کے نئے معاہدوں میں ایرانی کمپنیوں کو فوقیت دی جائے گی۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ پچھلے ساڑھے تین سال کے دوران پارس جنوبی گیس فیلڈ سے ایران کے حصے کی پیداور میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت مذکورہ گیس فیلڈ سے پانچ سو پچھتر ملین کیوبک میٹر گیس نکال رہا ہے۔
تیل، گیس، اور پیٹرو کیمیکل کے بارے میں بائیسویں بین الاقوامی کانفرنس ہفتے سے تہران میں شروع ہوگئی ہے جس میں ایران سمیت دنیا کے سینتس ملکوں کی ڈیڑہ ہزار سے زائد کمپنیاں شریک ہیں۔

May ۰۶, ۲۰۱۷ ۱۴:۰۵ UTC
کمنٹس