• ایران اور چین کے سیاسی اور اقتصادی تعلقات

اسلامی جمہوریہ ایران اور چین کے سیاسی اور اقتصادی تعلقات فروغ پا رہے ہیں۔

چین میں تعینات ایران کے سفیرعلی اصغر نے اسلامی انقلاب کی 39ویں سالگرہ کی مناسبت سے بیجنگ میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب میں چین کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والا سب سے بڑا معاہدہ چینی بینکوں کی جانب سے ایران میں ترقیاتی منصوبوں کے لئے 35 ارب ڈالر بجٹ کی فراہمی تھا.

ایرانی سفیر نے کہا کہ ثقافتی شعبے میں بھی دوطرفہ تعلقات آگے کی سمت بڑھ رہے ہیں. بیجنگ میں رواں سال منعقدہ عالمی کتاب میلے میں ایران نے خصوصی طور پرشرکت کی اور اگلے سال تہران میں ہونے والی عالمی کتاب نمائش میں چین مہمان خصوصی ہوگا.

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی صدر کو شنگھائی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے دعوت دی گئی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ چینی حکام کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا اگلا سربراہی اجلاس رواں سال جون کے مہینے میں چین میں منعقد ہوگا جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کی شرکت بھی متوقع ہے.

اسلامی جمہوریہ ایران 2005 سے شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے فعال ادا کر رہا ہے. اس تنظیم کے رکن ممالک نے متفقہ طور پر کہا تھا کہ گروپ 5+1 اور ایران کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کے نفاذ کے بعد تہران کو شنگھائی تعاون تنظیم میں دائمی رکنیت دی جائے.

شنگھائی تنظیم کی داغ بیل 2001 میں ڈالی گئی. چینی صوبے شنگھائی میں جنم لینے والی اس تنظیم میں چین، قازقستان، کرغیزستان، روس، تاجکستان، ازبکستان، پاکستان اور ہندوستان بطور مستقل رکن ممالک شامل ہیں.

اسلامی جمہوریہ ایران  کو2005 میں شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصرملک کی رکنیت دی گئی۔

Feb ۱۲, ۲۰۱۸ ۱۲:۱۶ Asia/Tehran
کمنٹس