• قومی کرنسی میں تجارت، ایران روس ترکی اور ہندوستان کا اجلاس

قومی کرنسی میں تجارت اور مواقع کے زیرعنواں ایک اجلاس ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہوا جس میں ایران، ترکی، روس اور ہندوستان کے حکام اور اقتصادی ماہرین نے شرکت کی۔

ایران کے مرکزی بینک کے کرنسی اور بینکنگ کے ریسرچ شعبے کے ماہر رسول خوانساری نے بین الاقوامی تجارت میں قومی کرنسی کے استعمال کے موضوع کو ایک نیا اور قابل نفاذ نظریہ قرار دیا اور کہا کہ ایران، روس اور ترکی کے خلاف پابندیاں عائد کرنے اور چین و ہندوستان نیز یورپی یونین کے خلاف بعض بندشوں پر مبنی امریکی اقدامات نے بین الاقوامی تجارت میں قومی کرنسی کے استعمال کی ضرورت کو پہلے سے بھی زیادہ نمایاں کر دیا ہے-

اقتصادی امور میں ترکی کے صدر کی مشیر خدیجہ کاراہان نے بھی اس اجلاس میں کہا کہ تجارتی معاملات میں قومی کرنسی کے استعمال کا نظریہ ترقی پذیر ملکوں کے تعلقات کو مستحکم بنائے گا اور تجارت کے میدان میں ایک کھلا اور آزاد ماحول پیدا کرے گا-

اجلاس میں ہندوستان کی ماہر اقتصادیات اور این آئی پی ایف پی کی پروفیسر ایلا پٹنائیک نے بھی کہا کہ ہندوستان بھی اپنی اقتصادیات میں تنوع پیدا کرنے کے لئے غیر ملکی تجارت میں قومی کرنسی کے استعمال کے معاہدوں کے لئے تیار ہے اور اس وقت وہ تجارتی معاملات میں اپنی قومی کرنسی کو استعمال کرتے ہوئے چھے ملکوں سے تجارت کر رہا ہے-

روس کے انرجی اور اقتصادی ادارے کے سربراہ مرکل سالیخوف نے بھی اس اجلاس میں کہا  کہ قومی کرنسی میں دیگر ملکوں سے تجارت کرنے سے اقتصادی استحکام پیدا ہو گا اور فارن کرنسی میں روز بروز آنے والے اتار چڑھاؤ میں بھی کمی واقع ہو گی-

ٹیگس

Oct ۲۰, ۲۰۱۸ ۱۴:۲۹ Asia/Tehran
کمنٹس