Apr ۲۰, ۲۰۱۸ ۱۳:۵۷ Asia/Tehran
  • امام حسین (ع) خانہء نبوت کا دمکتا ماہتاب - متن

علامہ اقبال حضرت امام حسین کو حقیقی معلم قرآن کے طور پر تسلیم کر تے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن میں موجود اسرار و رموز کی تعلیم ہمیں حسین نے دی اور حسین ہی وہ حقیقی مفسر قرآن ہیں، جنھوں نے قرآن کی عملی تفسیر مسلمانوں کے سامنے رکھ دی۔  امام حسین نے اپنے مالک حقیقی کے ساتھ عشق و محبت کی شمع جلائی، جس سے ہم نے بھی روشنی حاصل کی اور اسی روشنی کی وجہ سے آج ہمارا ایمان تازہ ہے اور ہمارے اندر ایمان کی روح پیدا ہوگئی۔ 

یہ کائنات کس قدر بڑی ہے، اس کا اندازہ شائد کسی کو بھی نہیں، اس کی وسعتوں کا اندازہ ابھی تک کوئی نہیں لگا سکا، حقیقت یہ ہے کہ انسانوں کیلئے اس کے راز دریافت کرنا اور لوگوں کو اس کے حقائق بتانا ممکن ہی دکھائی نہیں دیتا، ابھی تک کتنے سیارے ہیں جو دریافت ہونے کے باوجود دسترس سے باہر ہیں اور جو دریافت نہیں ہوئے وہ الگ ہیں، ہاں اس پوری کائنات میں اللہ نے ایک اور صرف ایک ایسا گھرانہ ہی بھیجا ہے، جس کی پاکیزگی و طہارت کی گواہی اللہ کا کلام ان الفاظ میں دیتا ہے:"انما یُرید اللہ لیذھب عنکم الرّجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا"۔"بے شک اللہ کا ارادہ ہے کہ اہل بیت کو رجس و ناپاکی سے اس طرح دور رکھے، جس طرح دور رکھنے کا حق ہے۔"یہ گھرانہ جنھیں اہلبیت نبوت ہونے کا شرف حاصل ہے، دور جاہلیت میں بھی ہر قسم کے رجس اور ناپاکی سے دور رہا، اسی لئے قرآن میں ان کی طہارت و پاکیزگی کی گواہی آئی، دختر نبی آخر ۖ سیدہ فاطمۃ الزھرا سلام اللہ علیہا کی یہ شان ہے کہ سردار انبیاء ان کیلئے کھڑے ہو جاتے تھے اور ان کے فرزندان حسنین کریمین کا یہ مقام کہ انہیں زبان وحی سے جنت کے سردار ہونے کی بشارت دی گئی۔

ایسے گھرانے میں ہجرت کے چوتھے سال، ماہ مبارک و معظم شعبان المعظم کی تیسری تاریخ تھی، جب آغوش سیدہ فاطمہ بنت محمد ۖ میں ایک ایسا پھول کھل کر ماحول کو معطر کرنے لگا، جسے دنیا امام حسین علیہ السلام کے نام سے جانتی و پہچانتی ہے۔ معدن نبوت و رسالت کی اس دنیا میں تشریف آوری پر خود رسول خدا نے بے حد خوشی کا اظہار فرمایا اور ایک مینڈھا بطور عقیقہ قربان کیا۔امام حسین علیہ السلام نے یزید کے والی مدینہ کے سامنے انکار بیعت کیا کہ وہ اہل بیت نبوت و معدن رسالت سے ہیں اور یزید فاسق و فاجر ہے، اس لئے میں اس کی بیعت نہیں کرسکتا۔ قرآن اس گھرانے کی طہارت و پاکیزگی کا گواہ ہے۔ وہ گھر جو پروردہ نبوت و رسالت تھا، اس میں امام حسین علیہ السلام کی ولادت مبارک ہوئی۔ یہ عمومی دستور اور روایت دیکھی گئی ہے کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے، ننھیال و ددیال میں سے ہر کوئی بچے کا نام رکھنے میں سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقام پر ہم دیکھتے ہیں کہ بچہ چونکہ معمولی نہ تھا،  یہ تاریخ کا رخ موڑنے والا بچہ تھا، اس لئے خانہ نبوت میں اس روایت سے ہٹ کر کسی نے رسول اللہۖ سے سبقت نہیں لی، بلکہ آپ ۖ کا انتظار کیا کہ زبان وحی سے کیا نام سامنے آتا ہے، حالانکہ آپ کی والدہ ماجدہ سیدة نساء العالمین، دختر رسول ۖ حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ ہیں اور آپ کے والد گرامی شیر خدا، برادر و داماد پیغمبر خاتم، امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب  ہیں۔

کتب تاریخ میں رقم ہے کہ جب آپ کی ولادت باسعادت کی خبر ختمی مرتبت سید الانبیاء، محبوب الٰہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچائی گئی تو آپ ۖ نے انتہائی خوشی اور مسرت و شادمانی کا اظہار فرمایا اور پیارے نواسے امام حسین علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں پر اٹھا کر اپنا لعاب دہن بطور اولین خوراک نومولود کے منہ میں ڈالا اور نومولود کا نام حسین تجویز کیا اور فرمایا کہ حضرت موسٰی کے بھائی ہارون کے دو بیٹے تھے، ان کے نام شبر اور شبیر تھے، میں ان کے ناموں پر اپنے نواسوں کے نام رکھتا ہوں۔ یاد رہے کہ شبر کا عربی میں ترجمہ حسن ہے، جو بڑے فرزند امام حسن کا نام رکھا گیا اور شبیر کا ترجمہ حسین ہے، اسی لئے آپ کا نام حسین رکھا گیا اور علماء دین نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ یہ نام عرب میں اس سے پہلے نہ تھے، سب سے پہلے یہ نام امام حسن اور امام حسین کے لئے رکھے گئے۔ولادت باسعادت کے ساتویں روز آپ ۖنے امام حسین کے بال منڈوائے اور بالوں کے برابر چاندی راہ خدا میں صدقہ کر دی۔

یہ لازوال شرف و مقام فقط امام حسین کو حاصل ہے کہ وہ سید عالم پیغمبر آخر و اعظم ۖ کے نواسے ہیں۔ حسین  کا نانا ۖ کوئی عام نانا نہیں، یہ وہی ہیں جن کے نام سے نبضِ ہستی تپش آمادہ اور خیمہ افلاک ایستادہ ہے، جس کی نسبت معراج انسانیت ہے، جس کی ذات سے اعتبار کائنات ہے، جس کا وجود برہان الٰہی ہے، جس کی ہستی آیہء ربانی ہے، جس کا قول حدیث اور جس کا عمل سنت ہے۔ جو سردار انبیاء ہے، جسے وحی کے بغیر بولنے کی اجازت نہیں، جو محبوب الہ ہے، جس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں۔ حسین کا بابا کون۔؟ علی، جس کی پیشانی سجدہ غیر اللہ سے کبھی آلودہ نہیں ہوئی، جس کی ایک ایک سانس میں خوشبوئے نبی ۖ  بسی رہی، جس کو "باب العلم" کا لافانی خطاب حاصل ہے، جو ہر میدان جنگ میں حیدر کرار کہلایا، جس کی سیاست پر عبادت کا رنگ غالب، جو ایک ایک رات میں ہزار ہزار رکعت نماز ادا کرتے تھے اور جس کو کعبے میں ولادت اور مسجد میں شہادت نصیب ہوئی، جنھیں نبوت کا مددگار کہا گیا، جو وارث بھی تھے اور بھائی بھی، جو خلیفہ بلا فصل بھی تھے اور امام بھی۔ امام حسین علیہ السلام نے کس کی آغوش میں جنم لیا؟ خاتون جنت کی آغوش میں! جس کی آغوش کا تقدس عرش کے تقدس سے کسی صورت کم نہیں، جس کی چادر کا گوشہ سایہ جنت ہے، جس کے گھر کی چاردیواری کا جبرائیل نے کئی بار طواف کیا، جس کے وجود کو زبانِ نبوت نے "گوشہء دل" اور "لخت جگر" کہا، جس کی عفتِ دلیل عصمت ہے، جس کو قرآن نے چادرِ تطہیر اوڑھائی، جس کا نام لینے کیلئے زبان کو کئی بار مُشک و گلاب سے وضو کرنا پڑتا ہے، جس کی ناخوشی کا کبھی رسول ۖ بھی متحمل نہیں ہوا، حسین بھائی کس کے ہیں؟ اُس کے بھائی جس نے صلح کا پرچم بلند کیا، تاکہ دین باقی رہے، اصول باقی رہیں۔

حضرت علامہ محمد اقبال (رہ) مفکر و و عظیم فلسفی نے امام حسین علیہ السلام کی ذات گرامی و واقعہ کربلا سے متعلق بہت ہی خوبصورت اشعار کے ذریعے اس کی اہمیت کو آشکار کیا ہے، جو ہم سب کیلئے دعوت فکر و عمل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلاشبہ واقعہ کربلا امام حسین علیہ السلام کا رہتی دنیا تک حق کے علمبرداروں اور حریت و آزادی کے متوالوں کیلئے رہنمائی کا ایسا ذریعہ ہے کہ جسے بھلایا نہیں جا سکتا۔ آج بھی ہر سال اس واقعہ کی یاد کسی بھی تازہ واقعہ سے کہیں زیادہ منائی جاتی ہے اور نواسہ رسول اعظم کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ اس واقعہ اور آپ کی ذات کے بارے میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں کتابیں لکھی جا چکی ہیں، لیکن جس قدر مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال نے امام حسین علیہ السلام کی سیرت اور آپ کے اہداف کو اپنے کلام میں اجاگر کیا ہے، وہ کسی دوسرے نے نہیں کیا۔ اقبال (رہ) کو امام حسین علیہ السلام کے کردار و عمل اور اسوہ میں ہی امت مسلمہ کے مسائل کا حل نظر آتا ہے۔

علامہ اقبال دنیا کو امام حسین علیہ السلام کے مقام و مرتبے سے آگاہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام آغوش نبوت کی تربیت یافتہ ہستی ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود دوش نبوت پر چڑھا کر امام حسین علیہ السلام کی پرورش کی جیسا کہ فرمایا؛ 

بہر آں شہزادہ خیر المللدوش ختم المرسلین نعم الجمل  

حضرت علامہ اقبال امام حسین علیہ السلام کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آپ کو سورہ قل ھو اللہ سے تشبیہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قرآن کریم میں قل ھو اللہ کو جو فضیلت حاصل ہے، وہی فضیلت امت محمدی میں حضرت امام حسین کو حاصل ہے۔

درمیان امت کیوان جناب ھمچو حرف قل ھو اللہ در کتاب

حضرت علامہ اقبال (رہ) ایک جگہ پر اس حقیقت کو واضح کر رہے ہیں کہ امام حسین نے ہمیشہ کے لئے استبدادیت کا خاتمہ کر ڈالا اور دنیا کو استبدادیت کے سامنے ڈٹ جانے کا سبق سکھا یا وہ لوگ جو دنیا پرستی کے نشے میں مست ہو کر انسانیت کو اپنا غلام بنانا چاہتے تھے، حسینیت کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوئے اور حسین نے حقیقت سے پردہ ہٹا کر انہیں بے نقاب کرکے دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ حسین اور آپ کے عزیزوں کے خون نے ظلم و بربریت سے  انسانی زندگی کے ہر میدان کو سرسبز و شاداب سبزہ زار میں تبدیل کر دیا، جہاں انسان نے سکون کی زندگی گزارنی شروع کر دی۔

تاقیامت قطع استبداد کردموج خون او چمن ایجاد کرد  

علامہ اقبال حضرت امام حسین کو حقیقی معلم قرآن کے طور پر تسلیم کر تے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن میں موجود اسرار و رموز کی تعلیم ہمیں حسین نے دی اور حسین ہی وہ حقیقی مفسر قرآن ہیں، جنھوں نے قرآن کی عملی تفسیر مسلمانوں کے سامنے رکھ دی۔  امام حسین نے اپنے مالک حقیقی کے ساتھ عشق و محبت کی شمع جلائی، جس سے ہم نے بھی روشنی حاصل کی اور اسی روشنی کی وجہ سے آج ہمارا ایمان تازہ ہے اور ہمارے اندر ایمان کی روح پیدا ہوگئی۔ 

رمز قرآن از حسین آموختیم ز آتش او شعلہ ہا اندوختیم 

خون او تفسیر ایں اسرار کردملت خوابیدہ را بیدار کرد

علامہ اقبال اس حقیقت کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ امام حسین معلم حریت ہیں اور آزادی کی تعلیم ہم نے حسین سے سیکھی۔

درنوای زندگی سوز از حسین اہل حق حریت آموز از حسین

علامہ اقبال (رہ) نے اپنے کلام میں مقصد قیام امام حسین کو بھی بیان کیا اور اس حقیقت سے آگاہ کر دیا کہ امام حسین کا قیام ذاتی حکمرانی کے لئے نہیں تھا بلکہ انکا قیام باطل کو نیست و نابود کرنے اور حق کی بقاء کے لئے تھا، کیونکہ جن محدود وسائل اور اصحاب کی قلیل تعداد کے ساتھ امام حسین نے قیام کیا، وہ اس چیز کا گواہ ہے کہ امام حسین کا قیام کسی دنیوی مقصد کے لئے نہیں تھا۔مدعایش سلطنت بودے اگرخود نہ کردی باچنین سامان سفر حضرت علامہ اقبال (رہ) نے حضرت حسین ابن علی کی داستان حریت کو ان کے جد پاک یعنی آل ابراہیم سے متصل کرکے ہی سمجھانے کی کوشش کی ہے، فرماتے ہیں:  

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرمنہایت اس کی حسین ابتدا ہے اسماعیل 

اقبال (رہ) مسلمانوں کو رد میدان بننے کیلئے دعوت جہاد دیتے ہوئے اسوہ شبیری اپنانے کی تلقین کرتے دکھائی دیتے ہیں، گویا ان کے نزدیک امت کے مسائل کا ہر دور میں یہی حل ہے کہ خانقاہوں سے نکلیں اور مرد میدان بنیں، جیسے امام حسین نے میدان مبارزہ و جہاد سجایا ایسے ہی باہر نکلیں:  

نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ و دلگیری 

امام حسین کی چند اور خاص باتیں جن کا جائزہ لینا بےحد ضروری ہے، یہاں ذکر کرتے ہیں۔ آپ کی شخصیت صرف ایک مبارز، ایک مجاہد، ایک حریت پسند کے طور پر نہیں دیکھنی چاہیئے۔ آپ ہر حوالے سے ایک رہبر و رہنماء کے طور پر سامنے آتے ہیں اور ایک خالص بندہ خدا بننے کیلئے جن اوصاف کی ضرورت ہوتی ہے، وہ آپ کی ذات میں بدرجہ اتم پائے جاتے تھے، انسانوں کی رہنمائی اور انہیں صراط مستقیم پہ چلانے کیلئے آپ نے جو اسوہ  ٔاور راستہ چھوڑا ہے، وہ ہمیشہ روشن رہیگا اور بھٹکے ہوئوں کو درست سمت میں نشاندہی کرتا رہیگا۔ ذیل میں چند عنوانات کے تحت آپ کے کردار و عمل کی روشنی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

امر بہ معروف اور نہی از منکر:امر بہ معروف اور نہی از منکر اقدار کی حاکمیت اور پلیدی کے محو کرنے کا محور ہے۔ اسلامی معاشرے کی عظیم عمارت اسی امر بہ معروف اور نہی از منکر کے ستون پر قائم ہے اور امت اسلامی بہترین امت ہے، کیونکہ یہ امر بہ معروف و نہی عن المنکر کیلئے مبعوث ہوئی ہے۔ امام حسین علیہ السلام اس آیہ کریمہ کے مصداق تھے "ولتکن امنکم اُمة یدعون الی الخیر و یامرون بالمعروف و ینھون عن المنکر و اولیک ھم المفلحون"کہ تمہارے درمیان میں سے ایک ایسا گروہ ہونا چاہیئے کہ جو نیکی کے کاموں کی طرف دعوت دے اور امر بہ معروف کرے اور برے کاموں سے روکے اور وہی لو گ فلاح پانے والے ہیں۔"امام عالی مقام نے یزید کے مقابل اپنے قیام کا ہدف اصلاح طلبی اور امر بہ معروف اور نہی از منکر قرار دیا۔ آنحضرت نے امر بہ معروف کے ابتدائی ترین مرحلے جو کہ نصیحت کرنا ہے، سے آغاز فرمایا اور کئی مرتبہ یزیدیوں کو نصیحت فرمائی اور امر بہ معروف کا آخری مرحلہ جو اپنی جان سے گزر جاتا ہے، جو احیائے دین کیلئے اہم عنصر ہے، تک امر بہ معروف فرمایا۔ اس سلسلے میں آنحضرت فرماتے ہیں:"انما خرجت لطلب الاصلاح فی اُمة جدی، محمدۖ اُرید ان امر بالمعروف و انھیٰ عن المنکر۔"میں نے اپنے جد محمد ۖ کی امت کی اصلاح کیلئے قیام کیا ہے اور میں امر بہ معروف اور نہی از منکر کرنا چاہتا ہوں، یہی وہ فریضہ تھا جس کی بجا آوری کیلئے امام نے اپنے اہل عیال، اقرباء اور انصار و اعوان کی عظیم قربانی دی اور ایک ایسا کردار رقم کیا کہ رہتی دنیا تک انسانیت کیلئے مشعل راہ رہے گا۔

مقام ذکر:امام حسین علیہ السلام کے دیگر اوصاف حمیدہ میں سے یہ ہے کہ ہمیشہ یاد خدا آپ کے دل میں ہوتی تھی اور یادِ خدا ہمیشہ اطمینان قلب کا باعث ہوتی ہے۔ "الا بذکر اللہ تطمئِن القلوب"اور حقیقی مومنین وہ ہوتے ہیں کہ خرید و فروخت اور دنیاوی مصروفیات انہیں یاد خدا سے غافل نہیں کرتیں،"رجال لا تلھیھم تجارة ولا بیع عن ذکر اللہ۔"سرور و سالارِ شہیدان امام حسین بھی ہر وقت یاد خدا میں مشغول رہتے تھے، جب دشمنوں پر حملہ فرماتے تو ذکر "لاحول ولا قوة الاّ باللّٰہ العلی العظیم"میں مشغول ہوتے تھے۔ موت کے احساس سے "انا لِلّٰہ و انا الیہ راجعون" کی تلاوت فرماتے تھے، جب کربلا میں وارد ہوئے تو کربلا کی بلائوں اور مصیبتوں سے خدا کی پناہ طلب کی"اللھم اعوذبک من الکرب و البلآئ"اور آخر میں اپنے دشمنوں کی سرزنش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "شیطان تم لوگوں پر مسلط ہوگیا ہے اور اس نے خدائے بزرگ و برتر کی یاد تم لوگوں کو بھلا دی ہے۔ خدا کی وائے ہو تم لوگوں پر اور جو کچھ تم چاہتے ہو، اس پر ہم خدا کی طرف سے آئے ہیں اور خدا کی طرف ہی پلٹ کر ہم نے جانا ہے۔"

صبر و تسلیم:مصیبتوں پر صبر اور ارادہ الٰہی کے مقابل میں تسلیم ہونا، یہ مزید ایسی نیک خصلتیں ہیں کہ عارفین میں پائی جاتی ہیں۔ عارف کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ اس عالم وجود میں جو کچھ بھی واقع ہوتا ہے، وہ قضائے الٰہی سے ہے (اور وہ ارادہ الٰہی سے)۔ جب کوئی چیز خداوند عالم کی طرف سے مقدر نہیں ہو جاتی، اس وقت تک واقع نہیں ہوتی۔ قرآن کریم میں کلمہ "صبر" کا ستر مرتبہ ذکر ہوا ہے کہ جس میں سے دس دفعہ کا ذکر پیغمبر اکرم ۖ سے مربوط ہے۔ خداوند عالم نے مومنین کو حکم دیا ہے کہ صبر و نماز کے ساتھ اپنی مشکلات کے حل میں مدد حاصل کرو "یاایھا الذین اٰمنوا استعینو بالصبر و الصلاة"اور ایک اور آیت میں صبر و تقویٰ کو محکم ترین امور میں سے شمار کیا گیا ہے۔ "و ان تصبروا وتتقوا فانّ ذالک من عزم الاُمور"تسلیم بھی اگرچہ صبر کی قسم اور جنس سے ہی ہے، لیکن اس کا مقام اس سے بالا تر ہے۔ مقام تسلیم میں خودی باقی نہیں رہ جاتی کہ انسان کہے کہ مجھے وہ چیز پسند ہے کہ محبوب کو پسند ہے، بلکہ خود اور جو کچھ اس کے پاس ہے، وہ مولا کو تسلیم کر دیتا ہے۔ حضرت اسماعیل کا قول کہ "یا بنیّ انی اریٰ فی المنام انیّ اذبحُک"(کہ اے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں)۔ اس کے جواب میں حضرت اسماعیل نے فرمایا "یا ابت افضل ماتومر ستجدنی ان شآء اللہ من الصابرین"(کہ اے بابا جان جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، اس کو انجام دیں، مجھے آپ اگر اللہ نے چاہا تو صابرین میں سے پائیں گے۔) تو یہ چیز اس بات کی علامت ہے کہ حضرت اسماعیل  مقامِ تسلیم و تفویض پر فائز تھے۔ امام حسین علیہ السلام میزبان صبر و تسلیم ہیں اور آنحضرت کی گفتار و کردار اس بات کے گواہ ہیں۔

عفو و درگذر:عفو و درگذر بلند ترین انسانی کرامت ہے، خاص طور پر جب انسان انتقام کی قدرت بھی رکھتا ہو، قرآنی تعلیمات نہ صرف یہ کہ بدی کے مقابلے میں عفو و درگذر سے کام لینے کا حکم دیتی ہیں بلکہ اس سے بھی بالاتر، اس چیز کی نصیحت کرتی ہیں کہ برائی کا جواب نیکی سے دو۔ "وان تعفو اقرب للتقویٰ"اگر تم عفو و درگذر کرو تو یہ چیز تقویٰ سے قریب تر ہے۔ "ولا تستوی الحسنة ولا السیئة ادفع بالتی ھی احسن"نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں اور (بدی کو)اس چیز کے ساتھ دفع کرو جو بہتر ہے۔ عصام ابن المصطلق کہتا ہے کہ میں شہر مدینہ میں وارد ہوا تو میں نے حسین ابن علی علیہ السلام کو دیکھا۔ آپ کی نیک نامی اور مقام اور قدر و منزلت پر مجھے تعجب ہوا اور آپ کے والد ماجد سے میں جو حسد رکھتا تھا، وہ شدید ہوگیا تو میں نے آپ کو کہا کہ کیا آپ ابوتراب کے بیٹے ہیں۔؟ آپ نے فرمایا، ہاں۔ تو میں نے آپ  (امام حسین) اور آپ کے والد کو سب و شتم کرنا شروع کیا۔ حسین نے مجھ پر ایک روئوفانہ نگاہ ڈالی او ر فرمایا"اعوذ باللہ من الشیطن الرجیمoبسم اللہ الرحمٰن الرحیمoخُذ العفو و امُر بالمعروف و اعرض عن الجاھلین۔"اس کے بعد مجھے فرمایا کہ آرام سے بات کرو اور میرے لئے اور اپنے لئے خدا سے مغفرت طلب کرو۔ اگر مجھ سے مدد چاہتے ہو تو مدد کروں؟ اگر حمایت کی ضرورت ہے تو میں تمہاری حمایت کروں، اگر تمہیں ارشاد و ہدایت کی ضرورت ہو تو میں تمہیں ارشاد و ہدایت کرتا۔ عصام کہتا ہے کہ ندامت و پشیمانی کے آثار میرے چہرے پر ظاہر ہونے لگے تو امام نے فرمایا کہ تمہارے لئے کوئی سرزنش نہیں ہے۔ خدا تمہیں معاف کرے، جو تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان اور رحیم ہے۔ کیا تو اہل شام سے ہو۔؟ میں نے کہا، ہاں۔ فرمایا خداوند تعالٰی ہمیں اور تمہیں زندہ رکھے۔ تمہیں جس چیز کی بھی ضرورت ہو، ہمیں بتائو اور مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ تمہیں جس چیز کی ضرورت ہوگی، اس کو بہترین صورت میں حاصل کرسکے گا۔ عصام کہتا ہے کہ زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود مجھ پر تنگ ہوگئی اور میرا جی چاہ رہا تھا کہ زمین مجھے اپنے اندر نگل لے۔ اسی وقت میں نے جب غوروفکر کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ اس تمام زمین پر امام حسین علیہ السلام اور ان کی اولاد سے زیادہ کوئی بھی شخص میرے لئے محبوب تر نہیں ہے.

تحریر: ارشاد حسین ناصر

بشکریہ: اسلام ٹائمز

ٹیگس