حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق کو نظربند کر دیا گیا۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی حریت کانفرنس کے رہنماوں سید علی گیلانی اور میرواعظ عمرفاروق کو پولیس تھانہ ہمہامہ سے رہا کرکے اپنے اپنے گھروں میں نظربند کیا گیا ۔ تاہم جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین محمد یاسین ملک پر رہائی کے بعد کوئی تازہ پابندیاں عائد نہیں کی گئی ہیں۔

حریت کانفرنس کے رہنما جمعرات کو حیدرپورہ میں سید علی شاہ گیلانی کی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس منعقد کرنا چاہتے تھے لیکن پولیس نے مداخلت کرکے اس کو ممکن ہونے نہیں دیا تھا اور تینوں قائدین گیلانی، میرواعظ عمر اور یاسین ملک کو گرفتار کرکے ہمہامہ پولیس تھانہ منتقل کردیا تھا۔

واضح رہے کہ کشمیری قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے جمعرات کو ہمہامہ کپواڑہ میں سات سالہ کمسن بچی کی ہلاکت اور اس کے بھائی کو زخمی کرنے کے خلاف جمعہ 17مارچ کو نمازجمعہ کے بعد پُرامن مظاہرے کرنے کی کال  دی تھی ۔

سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جلوس نکال کر حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

 

Mar ۱۸, ۲۰۱۷ ۰۵:۴۵ UTC
کمنٹس