ہندوستانی پارلیمنٹ میں تیل و گیس سے متعلق کمیٹی نے ایران، پاکستان اور ہندوستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ہندوستان کی پارلیمنٹ میں تیل و گیس کے معاملات سے متعلق کمیٹی نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے بعد وہ ایران، پاکستان اور ہندوستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ میں دوبارہ شامل ہو- 

دو ہزار، سات سو، کلومیر طویل گیس پائپ لائن کو، جو امن  پائپ لائن سے موسوم ہے ابتدائی منصوبہ بندی کے تحت ایران کی گیس کو پاکستان اور پھر وہاں سے ہندوستان منتقل کیا جانا ہے- اس منصوبے کے  تحت گیارہ سو کلومیٹر ایران کے اندر اور گیارہ سو کلومیٹر ہی پاکستان کے اندر اور ہندوستان کے ساتھ سمجھوتے کی صورت میں چھے سو کلومیٹر ہندوستان کے اندر گیس پائپ لائن بچھائے جانے کی بات کی گئی ہے-

اس منصوبے یا پروجیکٹ کی تکمیل کی صورت میں روزانہ ایک سو پچاس ملین میٹرمکعب گیس، ایران سے ہندوستان اور پاکستان برآمد ہو گی جن میں سے نوے ملین میٹر مکعب گیس ہندوستان اور ساٹھ ملین میٹر مکعب پاکستان برآمد ہو گی-

پاکستانی حکام نے بارہا کہا ہے کہ یہ گیس پائپ  لائن پروجیکٹ برصغیر کو سب سے سستی انرجی فراہم کرنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے لیکن اسلام آباد اور نئی دہلی نے امریکا کے دباؤ میں آکر ابھی تک اس منصوبے پر کام کرنے کے لئے قدم آگے نہیں بڑھایا ہے- 

 

Mar ۲۰, ۲۰۱۷ ۱۰:۰۳ UTC
کمنٹس