Apr ۱۱, ۲۰۱۷ ۱۱:۲۶ Asia/Tehran
  • کشمیر میں ہڑتال، تجارتی سرگرمیاں متاثر

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے کمانڈربرھان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے ہونے والی عام ہڑتال سے وادی میں تجارتی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں۔

دو روز قبل ضمنی انتخاب کے دوران سیکورٹی فورسزاور مظاہرین کے مابین ہونے والی جھڑپوں اور فائرنگ میں آٹھ نوجوانوں کے مارے جانے کے خلاف حریت کانفرنس کی اپیل پرآج کشمیر میں عام ہڑتال کی جارہی ہے اس موقع پر تمام کاروباری مراکز،دکانیں اور تعلیمی ادارے بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بھی بہت کم ہے جبکہ کل بھی وادی میں عام ہڑتال کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں 9 اپریل کو ووٹنگ کے دوران کئی علاقوں منجملہ بڈگام ، گاندربل اور سرینگرمیں کچھ جگہوں پر سیکورٹی فورسز اور لوگوں کے مابین پتھراو ہوا آنسو گیس کے شیل داغے گئےاور فائرنگ کی گئی جس میں 8 افراد ہلاک اورمتعدد زخمی ہوئے اور کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔

کشمیر کی ابتر صورتحال اور ہلاکتوں پر ہندوستان کے سابق مرکزی وزیر اور کشمیر پیپلزامپاورمنٹ مشن کے صدر پروفیسر سیف الدین سوز نے سری نگر کے پارلیمانی حلقے میں سیکورٹی فورسز کی فائرنگ میں 8 نوجوانوں کی ہلاکت اور درجنوں نوجوانوں کے زخمی ہونے کی سخت مذمت کرتے ہوئے واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

در ایں اثناء حریت کانفرنس کے رہنما میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ کشمیر میں صورت حال دردناک اور تکلیف دہ ہے۔ کشمیر کے عوام کو اس لئے محصور اور مجبور کردیا گیا ہے کہ وہ حق خودارادیت چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ حریت کانفرنس کے رہنماوں سید علیشاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے گزشتہ روز کے واقعہ کے خلاف بطور احتجاج  پیر اور آج منگل کو وادی میں عام ہڑتال کی کال دی تھی ۔

 

ٹیگس