• سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم تاہم بی جے پی میں ہلچل

ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کو شہید کئے جانے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کا بڑے پیمانے پر خیرمقدم ہوا ہے تاہم حکمراں جماعت بی جے پی میں ہلچل مچ گئی ہے۔

ایودھیا میں چھ دسمبر 1992 کو تاریخی بابری مسجد کو شہید کئے جانے پر سپریم کورٹ کی طرف سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈروں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی کے خلاف مقدمہ چلانے کے احکامات کے بعد اس ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے پارٹی کے اعلی لیڈروں کے ساتھ طویل تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی رہائش گاہ پر کل شام کو ہوئی میٹنگ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ، مرکزی وزیر راجناتھ سنگھ، ارون جیٹلی، نتن گڈکری، سشما سوراج اور ایم وینکیا نائیڈو شریک تھے۔

عدالت عظمیٰ کے اس فیصلہ کو تاریخ ساز بتاتے ہوئے معروف عالم دین وملی رہنما مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد جیسے اہم اور انتہائی سنجیدہ معاملے میں مجرموں کو سزا دینے میں تاخیر پرعالمی اور ملکی سطح پر مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں۔

بابری مسجد کیس کے اہم مدعی مرحوم ہاشم انصاری کے بیٹے محمد اقبال انصاری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل تعریف ہے، ہمیں ملک کی ہر عدالت پر پورا یقین ہے، کیس چلانے کے لئے ثبوت بھی ہم سب کے سامنے ہی ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ملک کی جمہوریت، قانون کی بالا دستی اور عوام کے آئین و قانون پراعتماد کے تحفظ کی سمت ایک انتہائی مثبت بلکہ تاریخی قدم قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ کل سپریم کورٹ نے 25 برس قبل تاریخی بابری مسجد کی شہادت معاملے میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں لال کرشن اڈوانی، مرکزی وزیر اوما بھارتی، مرلی منوہر جوشی سمیت 12 کے خلاف مقدمہ چلانے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ بابری مسجد سے متعلق لکھنؤ اور رائے بریلی دونوں جگہ جاری مقدمے کوایک جگہ کر کے اب لکھنؤ کی خصوصی عدالت میں چلایا جائے گا ، سماعت روزانہ کی بنیاد پرہوگی، کسی بھی دن سماعت ملتوی نہیں ہوگی ، سماعت کے دوران مجسٹریٹ کا تبادلہ نہیں کیاجائے گا ۔ عدالت میں سماعت کے دوران سی بی آئی کی جانب سے روزانہ کم سے کم ایک گواہ ضرور موجود رہے گا اور عدالت کو دوسال کے اندر فیصلہ سنانا ہوگا ۔

 

Apr ۲۰, ۲۰۱۷ ۰۵:۰۸ UTC
کمنٹس