• دفعہ 370 کے خلاف درخواست پر وادی کشمیر میں عام ہڑتال

وادی کشمیر کو حاصل خصوصی اختیارات کے حامل قانون دفعہ تین سو ستر کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر اور عدالت کی جانب سے اسے قبول کرلئے جانے کے خلاف ہفتے کو پوری وادی میں ہمہ گیر ہڑتال رہی

ہندوستان کی ایک این جی او نے کشمیر کو حاصل خصوصی اختیارات والے قانون دفعہ تین سو ستر کی شق پینتیس اے کو ختم کرنے کی درخواست سپریم کورٹ میں داخل کی ہے جسے سماعت کے لئے عدالت نے منظور کرلیا ہے - تین سو ستر کی شق نمبر پینتیس اے کے مطابق کسی بھی غیر کشمیری کو وادی میں زمین خریدنے کا حق نہیں ہے اور اسی چیز کے خلاف ایک این جی او نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں اس شق کو تفریق آمیز بتایا گیا ہے - ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی علیحدگی پسند جماعتوں نے اس درخواست کے خلاف وادی میں عام ہڑتال کی کال دی تھی جس کی بی جے پی کو چھوڑ کر کشمیر کی سبھی سیاسی جماعتوں نے حمایت کی ہے - جموں و کشمیر میں ہڑتال کی وجہ سے پوری وادی میں معمولات زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے جبکہ جموں کے مسلم اکثریتی علاقے میں بھی ہڑتال کا خاصا اثر دیکھنے کو ملا - اس درمیان ہند نواز سیاسی جماعتوں نے بھی مرکزی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اس قانون کو چھیڑنے کے بعد جو بھی نتائج سامنے آئیں گے ان کی براہ راست ذمہ داری نئی دہلی کی حکومت پر ہوگی - علیحدگی پسند جماعتوں نے دفعہ تین سو ستر کی شق پیتنیس اے کے خلاف دائر درخواست کو ایک منظم سازش قراردیا ہے - ریاستی وزیراعلی محبوبہ مفتی نے بھی پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ اگر اس قانون کے ساتھ چھیڑخانی کی گئی تو وہ اپنے عہدے سے استعفا دے دیں گی -

Aug ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۱:۱۹ UTC
کمنٹس