• کشمیر کے حالات انتہائی مخدوش

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ کشمیر کے حالات انتہائی مخدوش ہیں۔

ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کی نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے منگل کے روز وسطی کشمیر کے چرار شریف میں ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر کے موجودہ حالات کو مخدوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت ایک بحران سے دوچار ہیں۔ لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں، اقتصادی بدحالی ، سیاسی انتشار اور انتظامی خلفشار نے یہاں کے عوام کو گھیر لیا ہے اور ایسے حالات میں اللہ ہی جموں و کشمیر کو موجودہ بحران سے نکال سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ خواتین کی جبری بال تراشی کے واقعات سے اس وقت لوگ خصوصاً صنف نازک اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں، اقتصادی بدحالی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے ۔

اس موقع پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ریاست اس وقت نازک دور سے گزر ہی ہے۔ ہمیں اس وقت مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ انہوں نے عوام سے اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کی اپیل کی۔اُن کا کہنا تھا کہ اتحاد و اتفاق سے ہی عوام سازشوں کا توڑ کرسکتے ہیں۔

دوسری جانب جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے خواتین کی جبری بال تراشی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری خواتین پر ہونے والے حملوں کا واحد مقصد ہمیں خوف زدہ کرنا ہے۔

یاسین ملک نے کہا کہ دو ماہ سے ہماری ماؤں بہنوں بچیوں اور بیٹیوں پر حملے ہورہے ہیں لیکن نا معلوم دشمن کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔ ہمارا سماج لگاتار خوف و دہشت کے عالم میں ہے لیکن حکمران ان کی پولیس اور انتظامیہ بے حس اور بے بس نظرآرہے ہیں۔

در ایں اثنا وادی کشمیر میں خواتین کی جبری بال تراشی اوران واقعات کے خلاف اہلیان وادی کا صدائے احتجاج منگل کو مسلسل 42 ویں روز بھی جاری رہا۔

وادی میں منگل کو نامعلوم افراد کے ہاتھوں خواتین کے بال کاٹنے کے کم از کم چار نئے واقعات سامنے آئے۔ ان واقعات کے خلاف جہاں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا وہیں سیکورٹی فورسز نے چند ایک مقامات پر احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

 

Oct ۱۸, ۲۰۱۷ ۰۷:۰۲ UTC
کمنٹس