• کشمیرکی صورتحال ابتر، مذاکرات کا پہلا مرحلہ اختتام پذیر

ہندوستان کی مرکزی حکومت کی جانب سے اس ملک کے زیر انتظام کشمیر کے لئے تعینات کردہ مذاکرات کار دنیشور شرما نے کل جمعہ کے روز بحیثیت مذاکرات کاراپنا پہلا دورہ کشمیر کو سمیٹے ہوئے سرمائی دارالحکومت جموں میں سیاسی، سماجی اور سول سوسائٹی کے قریب 30 وفود سے ملاقاتیں کیں۔

ریاستی گیسٹ ہاوس میں ہونے والی ان ملاقاتوں کے دوران بیشتر وفود نے جموں میں مقیم روہنگیا مسلمانوں کے انخلاء، درآمدی اشیاء پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی کا سلسلہ ختم کرنے، جموں وکشمیر کے آخری مہاراجہ ’مہاراجہ ہری سنگھ‘ کے جنم دن پرتعطیل کا اعلان کئے جانے اور کشمیرکے ساتھ ہورہی مبینہ ناانصافی کے سلسلے کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

دنیشور شرما نے جمعرات کو ریاستی گورنر این این ووہرا ، وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی، نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدرعمر عبداللہ، عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی تھی۔

مسٹر شرما اپنے اگلے دورہ جموں وکشمیر کے دوران خطہ لداخ کا بھی دورہ کریں گے۔

دوسری جانب حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے کشمیر کی سیاسی صورتحال کو حد درجہ مخدوش اور اذیت ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر طرف ظلم ، جبر، مار دھاڑاورپکڑدھکڑ کا سلسلہ جاری ہے ۔

جنوبی کشمیر ہو یا وسطی کشمیرہر جگہ نوجوانوں کو جس طرح سرکاری سطح پر شدید ظلم و زیادتی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ عالمی برادری خصوصاً انسانی حقوق اور انسانی اور جمہوری قدروں پر یقین رکھنے والے اقوام کے لئے چشم گشا ہے ۔

میرواعظ نے سری نگر کی تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل نمازیوں کے ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جموں وکشمیر اور ہندوستان کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں مقید کشمیری سیاسی نظر بندوں کی حالت زار اور جیل حکام کی جانب سے ان کے ساتھ روا رکھے جارہے مبینہ غیر انسانی سلوک کو حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں ، ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ایشیا واچ، اور آئی سی آر سی سے اپیل کی کہ وہ بذات خود ان جیلوں کا دورہ کرکے وہاں مقید قیدیوں کی ناگفتہ بہہ حالت کا جائزہ لیں۔

 

Nov ۱۱, ۲۰۱۷ ۰۶:۱۲ UTC
کمنٹس