• ہندوستان: بابری مسجد شہادت کی برسی کے موقع پر سخت سکیورٹی

ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام کی 25ویں برسی کے مدنظر ریاست میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

آج  بابری مسجد کی شہادت کی 25ویں برسی ہے ۔ اس موقع پر احتیاط کے طور ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ریلوے اسٹیشن، بس اسٹیشن ، ہوٹل، دھرم شالہ جیسے عوامی مقامات پر سخت نگرانی رکھنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ جبکہ ایودھیا میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

6 دسمبر1992کو کارسیوکوں نے ایودھیا میں بابری مسجد کو منہدم کردیا تھا۔ اس کے بعد ہرسال چھ دسمبرکو وشو ہندوپریشد اور کچھ دیگر ہندو تنظیمیں شوریہ یا وجے دیوس مناتی ہیں، جبکہ مسلم تنظیمیں یوم غم مناتی ہیں۔ اس کے مدنظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے جاتے ہیں ۔

دوسری جانب سپریم کورٹ نے بابری مسجد-رام جنم بھومی مقدمے کی اپیلوں پر سماعت 8 فروری 2018 تک کے لئے ملتوی کردی۔

چیف جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے متعلقہ فریقوں کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کو حکم دیا کہ وہ تمام دستاویزات کے ترجمہ اور انہیں منسلک کئے جانے اور تمام فریقوں کو دستیاب کرائے جانے کے بارے میں جوائنٹ میمورنڈم رپورٹ پیش کریں۔ بنچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس سید عبدالنظیر اور جسٹس اشوک بھوشن شامل ہیں۔

واضح رہے کہ پچیس سال قبل چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ہندوستان کے شہر ایودھیا میں بابری مسجد کو شہید کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ہندوستان کی ریاست گجرات میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے، جن میں ہزاروں مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کردیا گیا تھا۔ بابری مسجد کی شہادت کے خلاف اس وقت کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ، شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے اور ایل کے ایڈوانی سمیت سینکڑوں ملزموں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جن کا آج تک فیصلہ نہیں ہو سکا۔ آج پچیس سال گزرنے کے باوجود مسلمان انصاف کے لئے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔

 

Dec ۰۶, ۲۰۱۷ ۰۵:۴۶ UTC
کمنٹس