Apr ۲۰, ۲۰۱۸ ۱۸:۲۹ Asia/Tehran
  • ہندوستانی چیف جسٹس کے خلاف تحریک مواحذہ

ہندوستان میں چیف جسٹس کے خلاف تحریک مواخذہ کامعاملہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان ایک سیاسی مسئلہ بنتا جارہا ہے

حزب اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف تحریک مواخذہ کے مطالبے کو کانگریس ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہے -  ہندوستان کے مرکزی وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے کانگریس پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کے عدالتی نظام کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہی ہے - دوسری جانب حزب اختلاف  کی جماعت کانگریس نے کہا ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا کے خلاف تحریک مواخذہ کے مطالبے کا جسٹس لویا اورایودھیا معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے- راجیہ سبھا کے چیئرمین کے سامنے چیف جسٹس دیپک مشرا کے خلاف   تحریک مواحذہ پیش کئے جانے کے بعد کانگریس نے کہا ہے کہ اس قدم کے پیچھے کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے اور نہ ہی جمعرات کو جسٹس لویا معاملے میں آنے والے عدالتی فیصلے یا ایودھیا معاملے سے اس کا کوئی تعلق ہے - واضح رہے کہ ان دنوں سپریم کورٹ بابری مسجد اور رام مندر تنازعے کی بھی سماعت کررہی ہے - کانگریس کے رہنما سپریم کورٹ کے وکیل کپل سبّل  نے کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا کا اپنا ایک خاص مقام اور وقار ہوتا ہے اور ہم بھی اس منصب کا احترام کرتے ہیں لیکن خود چیف جسٹس کو بھی اپنے منصب کے وقار کا تحفظ کرنا چاہئے - ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے چار ججوں نے جو سوالات اٹھائے ہیں ان کا حل تلاش کرنا ضروری ہے