• بابری مسجد کی تعمیرنو کے لئے جنتر منتر پر دھرنا

ہندوستان میں تاریخی بابری مسجد کی شہادت یعنی 6 دسمبر کی تاریخ کے پیش نظر احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

ہندوستان میں تاریخی بابری مسجد کو اس کی جگہ پر تعمیر نو کرنے پرمرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئےکل 5 دسمبر کو جنتر منتر پر دھرنا دیا جائے گاجس میں آل انڈیاتنظیم علمائے حق کے قومی صدر مولانا اعجاز عرفی قاسمی بابری مسجد کے بارے میں اہم خطاب کریں گے۔

آل انڈیا بابری مسجد تعمیر نو کمیٹی کے صدر یونس صدیقی نے کہا کہ بابری مسجد سے تمام مسلمانوں کی وابستگی ہے اور مسلمان کسی قیمت پراس سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ انہوں نے بابری مسجد کی شہادت کو سیاہ باب قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس کی وجہ سے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب داؤ پر لگ گئی ہے اور پوری دنیا میں ملک کی بدنامی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مولانا اعجاز عرفی قاسمی کے علاوہ دیگر سرکردہ شخصیات اور سماجی کارکن بھی اس دھرنا میں حصہ لیں گے۔

دوسری جانب اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ ہندوؤں کے اس ملک میں رام مندر بنانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

واضح رہے کہ6 دسمبر کو انتہا پسند ہندووں نے دن دہاڑے بابری مسجد کو شہید کردیا تھا اور حکومت نے اس کے خلاف اور بابری مسجد کے حق میں قرار داد بھی پیش کی تھی جس میں تعمیر نو کا عہد کیا گیا تھا لیکن اب تک حکومت نے اس سمت میں کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے اور اس کے برعکس اس وقت شدت پسند بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر پر آمادہ نظر آرہے ہیں جو کہ نہ صرف سپریم کورٹ کی توہین ہے بلکہ آئین کے بھی خلاف ہے۔

 

ٹیگس

Dec ۰۴, ۲۰۱۸ ۰۸:۵۳ Asia/Tehran
کمنٹس