Nov ۱۱, ۲۰۱۹ ۰۹:۳۲ Asia/Tehran
  • ایودھیا میں سکیورٹی سخت، وقف بورڈ 17 نومبر کو کرے گا فیصلہ

انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق، مسلم پرسنل لا بورڈ سپریم کورٹ کے فیصلے سے خوش نہیں ہے۔

ہندوستانی میڈیا کے مطابق، مسلم پرسنل لا بورڈ، سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا مطالعہ کر رہا ہے۔  رپورٹ کے مطابق، بورڈ کے کئی ارکان سپریم کورٹ کے فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔ بورڈ 17 نومبر کو ریویو پٹیشن( نظر ثانی کی عرضی) ڈالنے کو لے کر فیصلہ کرے گا۔ بورڈ کے وکیل ظفریاب جیلانی نے ہفتہ کے روز اشارہ دیا تھا کہ وہ نظر ثانی عرضی کے ساتھ ایک بار پھر سپریم کورٹ جا سکتے ہیں۔

مسلم پرسنل لا بورڈ کے ارکان کا سوال ہے کہ سپریم کورٹ نے آخر کیسے ان کے حق میں فیصلہ نہیں سنایا۔ ان کی دلیل ہے کہ سپریم کورٹ نے مانا کہ قانون کو توڑتے ہوئے 6 دسمبر 1992 کو مسجد کو منہدم کر دیا گیا۔ بورڈ کا یہ بھی ماننا ہے کہ انہوں نے ہندوؤں کو سیتا رسوئی اور چبوترے پر پوجا کرنے سے کبھی منع نہیں کیا۔ سنی وقف بورڈ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس زمین کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اسے بس انصاف چاہئے۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد دوسرے دن بھی ایودھیا میں سخت سیکورٹی رہی اور کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ ایودھیا کی سرحد سیل ہے اور بیرئر لگے ہوئے ہیں۔ ایودھیا میں داخلے کے لئے کافی سخت چیکنگ کے بعد شناختی کارڈ دیکھ کر ہی انہیں شہر میں داخلہ دیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے سنیچر کے روز اپنے فیصلے میں پوری متنازعہ زمین پر رام للا کا حق مانا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ متنازعہ زمین پر رام للا کا دعویٰ درست ہے۔ اس زمین پر مندر کی تعمیر کا خاکہ تیار کرنے کے لئے مرکزی حکومت کو تین مہینے میں ٹرسٹ بنانے کا حکم دیا ہے۔ مرکزی حکومت ہی ٹرسٹ کے ارکان کے نام طے کرے گی۔

 

ٹیگس

کمنٹس